Thursday , November 23 2017
Home / جرائم و حادثات / آغا پورہ میں کال روٹنگ ریاکٹ بے نقاب ‘ میڈیا نے دہشت گردی سے جوڑ دیا

آغا پورہ میں کال روٹنگ ریاکٹ بے نقاب ‘ میڈیا نے دہشت گردی سے جوڑ دیا

پولیس کے حقیقت بتانے سے قبل ہی آئی ایس کے ٹھکانہ کو بے نقاب کرنے کا جھوٹا ادعا ۔ خود پولیس عہدیدار ششدر
حیدرآباد /24 مارچ ( سیاست نیوز ) مسلمانوں کے متعلق غلط فہمیوں کی تشہیر اور انہیں بدنام کرنے میڈیا کی کوششیں آج ایک بار پھر آشکار ہوگئیں ۔ یہ بھی واضح ہوگیا کہ مسلمانو ں کو رسوا کرنے بلا تحقیق خبریں نشر کردی جاتی ہیںاور مسلمانوں کو دہشت گردی سے کسی ثبوت و جانچ کے بغیر جوڑ دیا جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ آج آغا پورہ میں پیش آیا جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انٹرنیشنل کال روٹنگ کا ایک ریاکٹ بے نقاب کیا تاہم ابھی جبکہ پولیس عملہ یہ دھاوا کر ہی رہا تھا کہ کچھ چینلس پر سنسنی پھیلاتے ہوئے یہاں دہشت گردوں کی گرفتاری اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکو مادوں کی ضبطی کی خبریں پیش کردی گئیں جس پر خود پولیس عملہ بھی حیران رہ گیا اور بعد میں اس کی تردید بھی کردی ۔ تفصیلات کے بموجب سی سی ایس سائبر کرائم پولیس نے آج شام آغاپورہ علاقہ کے ایک مکان پر دھاوا کرتے ہوئے انٹرنیشنل کال روٹنگ کے ایک ریاکٹ کو بے نقاب کردیا ۔ پولیس کی جانب سے دھاوے کی تفصیلات بتانے سے قبل ہی تلگو میڈیا نے تشہیر شروع کردی کہ آغاپورہ میں آئی ایس دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانے کو بے نقاب کیا گیا ۔ دہشت گرد گرفتار کرلئے گئے اور بھاری مقدار میں ہتھیار ضبط کئے گئے اور بڑی مقدار میں دھماکو و الیکٹرانک آلات کو ضبط کرکے پولیس نے بڑی سازش کو ناکام بنادیا ۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ چونکہ جو عہدیدار دھاوا کر رہے تھے انہیں خْود تعجب ہوا کہ اتنا سب کچھ کس نے ضبط کیا ۔ پولیس عہدیدار جو مقام واردات پر تھے اپنے اعلی افسروں کو فون پر بتایا کہ یہ بے بنیاد اور غلط اطلاع ہے ۔ جو ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے وہ ایرگن ہیں اور کوئی دھماکو الیکٹرانک اشیاء نہیں ہیں بلکہ فون کی ریپیرنگ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر پولیس سی سی ایس سائبر کرائم مسٹر کے سی ایس راگھویر نے بتایا کہ فہد نامی نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ جو انٹرنیشنل کال کو چرا رہا تھا ۔ نوجوان کے مکان پر دھاوا کرکے پولیس نے الیکٹرانک اشیاء مشینوں کو ضبط کرلیا جو کال روٹنگ میں استعمال کی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ تقریباً 150 سم کارڈز اور 15 ائرگن ضبط کئے گئے ۔ اے سی پی نے بتایا کہ فہد سے پوچھ تاچھ کی جائے گی کہ آیا وہ ان سم کارڈز کا کس طرح اور کس کیلئے استعمال کرتا تھا ۔ اے سی پی نے فہد کے کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلقات اور دہشت گرد نٹ ورک و دیگر سلیپر سیل کی باتوں کو مسترد کردیا اور ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فہد کے اس نٹ ورک کی ہر زاویہ سے تحقیقات کی جائیگی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فہد کے ہمراہ اس کے چھوٹے بھائی اسید کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ فہد نے سیاست نیوز کو بتایا کہ اس نٹ ورک کا اسے کوئی علم نہیں ہے ۔ اس کے ساتھی متین نے یہ تمام آلات اس کے حوالے کئے اور اطمینان دلایا تھا کہ اس سے کوئی خطرہ یا کوئی آفت نہیں ہے بلکہ آمدنی کا اچھا ذریعہ ہے پولیس کے مطابق متین مفرور ہے ۔ اطلاع کے ساتھ ہی حبیب نگر سرکل انسپکٹر مسٹر سنجئے جمعیت کے ساتھ آغاپورہ پہونچ گئے اور عوام میں اطمینان بحال کرکے انہیں منتشر کردیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT