Monday , June 25 2018
Home / کھیل کی خبریں / آف سیزن کے باوجود مقابلوں میں حصہ لینے کو ترجیح ۔پیراک سندیپ سیجوال کا انٹرویو

آف سیزن کے باوجود مقابلوں میں حصہ لینے کو ترجیح ۔پیراک سندیپ سیجوال کا انٹرویو

نیشنل گیمس کی انعامی رقم کو نظر انداز کرنا بہت مشکل

نیشنل گیمس کی انعامی رقم کو نظر انداز کرنا بہت مشکل
تھرواننتاپورم ۔ یکم فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ایشین گیمس کے برانز میڈلسٹ سندیپ سیجوال نے نے کہا کہ وہ نیشنل گیمس میں گولڈ میڈل جیتنے پر ملنے والی بھاری انعامی رقم کی وجہ سے شریک ہوئے ہیں۔ نیشنل گیمس حالانکہ آف سیزن میں ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی انٹرنیشنل میڈلسٹس ان میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس بار بھی بہت کم انٹرنیشنل میڈلسٹس نیشنل گیمس میں حصہ لینے پہونچ رہے ہیں۔ سندیپ سیجوال گذشتہ 28 برسوں میں ایشین گیمس میں میڈل حاصل کرنے والے تیسرے ہندوستانی ہیں۔ وہ نیشنل گیمس میں حصہ لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان گیمس میں حصہ لینے کیلئے وہ یہاں ملنے والی انعامی رقم کی وجہ سے آئے ہیں۔ سیجوال نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سال کا یہ وقت در اصل ان کا آف سیزن ہے ۔ لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ نیشنل گیمس اس وقت میں منعقد ہو رہے ہیں تو انہوں نے ان میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں جو انعامی رقم پیش کی جا رہی ہے وہ بہت اچھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے بڑے اسٹارس جو ان گیمس میں حصہ نہیںلے رہے ہیں وہ ان کی اپنی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن یہاں جو انعامی رقم فراہم کی جا رہی ہے اسے نظر انداز کرنا بہت مشکل ہے ۔ کئی بڑے قومی اتھیلیٹس جیسے سائنا نیہوال ( بیڈمینٹن ) ریسلرس یوگیشور دت

اور سشیل کمار کے علاوہ اولمپک میڈلسٹ باکسر میری کوم نے نیشنل گیمس میں مختلف وجوہات کی بنا پر حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان اتھیلیٹس کے حصہ نہ لینے سے نیشنل گیمس کی افادیت پر اثر ہوا ہے ۔ سیجوال نے کہا کہ پیراکی میں کئی گولڈ میڈلس رکھے گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ ساتھ انعامی رقم بھی ہے ۔ اگر وہ اپنے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ 20 تا 30 لاکھ روپئے لیجا سکتے ہیں۔ یہ ایسی رقم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ انعامی رقم اپنی جگہ لیکن آف سیزن میں بھی سوئمنگ پول سے قریب رہنا اچھی بات ہے ۔ بنگلور اور دہلی میں وہ تربیت حاصل کرتے ہیں اور وہاں موسم سرد ہے ۔ ایسے میں کیرالا میں ان کیلئے بہترین جگہ ہے اس لئے وہ یہاں ہونے والے تجربہ سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سردی کی وجہ سے بنگلور اور دہلی کا موسم ان کی تربیت کیلئے سازگار نہیں ہے اور ملک میں گرم پولس کا فقدان بھی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT