Thursday , February 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آلودگی میں حیدرآباد بھی دہلی سے زیادہ خطرناک ہوگا

آلودگی میں حیدرآباد بھی دہلی سے زیادہ خطرناک ہوگا

شہر میں گنجان علاقوں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ، کارخانوں کی بہتات سے مسائل
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) حیدرآباد میں ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والا اضافہ شہریوں کے لئے دہلی سے خطرناک صورتحال کا موجب بن سکتا ہے کیونکہ شہر حیدرآباد میں گنجان علاقوں اور بستیوں کے سبب فضائی و ماحولیاتی آلودگی کے خدشات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حیدرآباد کے رہائشی علاقوں میں کارخانوں کے سبب مکینوں کو ہونے والی تکالیف کے باوجود محکمہ جات کی خاموشی اور نظرانداز کرنے کی پالیسی نے عوامی صحت کو خطرہ میں ڈال رکھا ہے۔ شہر حیدرآباد ملک کے ان چنندہ شہروں میں ہے جو تیزی سے وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے اور آبادیاتی علاقو ںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے لیکن ا س کے باوجود شہری منصوبہ بندی کے ذمہ دار ادارہ جات کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی شہریوں کی صحت کیلئے انتہائی خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد کا توسیعی عمل ہر جانب سے جاری ہے لیکن کچھ علاقوں میں جہاں آلودگی پھیلانے والے کارخانے ہیں ان کے سبب علاقہ کے عوام کو فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ پولیوشن کنٹرول کی جانب سے آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں کو شہر کے باہر کرنے کے فیصلہ کے باوجود شہر کے کئی علاقو ںمیں بالخصوص رہائشی علاقو ںمیں چلائے جانے والے کارخانوں تک عہدیداروں کی عدم رسائی صحت عامہ کیلئے خطرناک ہے۔ شاہین نگر‘ کالا پتھر ‘ تاڑبن‘ کشن باغ ‘ کنچن باغ‘ تالاب کٹہ‘ عطاپور کے علاوہ شہر کے بعض دیگر علاقوں میں ایسی صنعتیں کام کر رہی ہیں جو فضائی اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کا سبب بنتی ہیں لیکن ان صنعتوں کو گھریلو صنعت کا نام دیتے ہوئے چلایا جا رہا ہے اور بعض مقامات پر باضابطہ یہ صنعتیں چلائی جا رہی ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہری حدود میں آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے خلاف شکایات مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو موصول ہوتی ہیں اور ان کی جانب سے عدم کاروائی کے کافی عرصہ بعد پولیوشن کنٹرول بورڈ کو شکایات موصول ہوتی ہے اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کو بھی جی ایچ ایم سی کی ہی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے جس کے سبب کاروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ شہر کے نواحی علاقو ں میں چلائی جانے والی اس طرح کی صنعتوں کے سبب شہر کے نواحی علاقہ جو کبھی پرفضاء مقامات تصور کئے جاتے تھے اب وہ آلودگی سے متاثر ہوتے جا رہے ہیں۔ رہائشی علاقوں اور بستیوں میں چلائے جانے والے کارخانوں اور صنعتی اداروں کے متعلق کہا جاتاہے کہ سلم بستیوں کے قریب ایسے کارخانے قائم ہی اسی لئے کئے جاتے ہیں کیونکہ سلم علاقوں کے عوام نہ تو ان کارخانوں کے خلاف کوئی آواز اٹھاتے ہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی اعتراض کیا جاتاہے جبکہ اس طرح کے کارخانے اور صنعتیں ان کی صحت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ صنعتی اداروں کے ایسے علاقوں میں قیام کی ایک اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شہری حدود کے باہر ایسی صنعتوں کے قیام میں سب سے بڑی دشواری لیبر کا میسر آنا ہوتی ہے اور اگر سلم علاقوں کے قریب ایسی صنعتیں اور کارخانے ہوتے ہیں تو بہ آسانی لیبر بھی دستیاب ہو جاتا ہے لیکن اس طرح کے کارخانے اور صنعتی ادارے نہ صرف شہریوں کے لئے نقصاندہ ہیں بلکہ ان سے ماحولیات کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔

TOPPOPULARRECENT