Wednesday , November 22 2017
Home / جرائم و حادثات / آلیرانکاؤنٹر کے ایک سال بعد بھی تحقیقات نامکمل

آلیرانکاؤنٹر کے ایک سال بعد بھی تحقیقات نامکمل

حکومت کی عدم دلچسپی ‘قیادت کی مصلحت پسندی‘ ورثاء لیت و لعل کا شکار

حیدرآباد /4 اپریل (سیاست نیوز) انصاف رسانی کے عمل میں کی جانے والی تاخیر درحقیقت انصاف سے محروم کرنے کے مترادف ہوتی ہے ۔ آلیر انکاونٹر کا ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن 5 زیر دریافت مسلم قیدیوں کی موت کی تحقیقات میں کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس سلسلے میں نہ حکومت کو دلچسپی ہے اور نہ ہی مصلحت پسند قیادت کوئی دلچسپی لے رہی ہے ۔ مرحوم نوجوانوں کے ورثاء تاحال انصاف کیلئے دربدر کے ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہے ۔ واضح رہے کہ 7 اپریل سال 2015 میں 5 زیر دریافت مسلم نوجوان وقار احمد اور اس کے چار ساتھی سید امجد علی ، محمد ذاکر ، محمد حنیف اور اظہار خان کو ورنگل سنٹرل جیل سے حیدرآباد کریمینل کورٹ کو منتقلی کے دوران ضلع نلگنڈہ کے آلیر ولیج میں انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ انکاونٹر کے وقت نوجوان بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور آرمڈ ریزروڈ کی پولیس پارٹی نے نوجوانوں پر پولیس تحویل سے فرار ہونے اور ہتھیار چھینے کا بہانہ بناکر انہیں ہلاک کردیا تھا ۔ انکاونٹر میں پولیس کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان اٹھائے گئے تھے اور مہلوک نوجوانوں کے والدین نے اس انکاونٹر کو سفاکانہ قتل قرار دیا تھا ۔ حکومت تلنگانہ نے 13 اپریل 2015 انکاونٹر کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے سینئیر آئی پی ایس عہدیدار انسپکٹر جنرل آف پولیس (پرسونل ) کے زیر قیادت اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی ) تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔ حکومت نے ایس آئی ٹی میں ضلع کھمم کے موجودہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شاہنواز قاسم ، ڈپوٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انٹلیجنس مسٹر ایم دیانند ریڈی ، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس مادھاپور ایم رمنا کمار ، ٹاسک فورس انسپکٹر ایل راجا وینکٹ ریڈی اور انسپکٹر ہمایوں نگر ایس رویندر کو بھی اس ٹیم میں شامل کیا تھا ۔ مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق تنظیموں نے ایس آئی ٹی کے قائم کئے جانے کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملہ کی سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن ( سی بی آئی ) کے ذریعہ یا ہائی کورٹ کے  برسر خدمت جج کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا چونکہ مذکورہ ایس آئی ٹی میں ایسے عہدیدار بھی شامل ہیں جنہوں نے مہدی پٹنم آرمی گیریسن 11 سالہ مدرسہ طالب علم شیخ مصطفی الدین قتل کیس کی تحقیقات میں ناکامی حاصل کی ۔ لیکن مصلحت پسند قیادت نے اس معاملے کو برفدان کے حوالے کردیا ۔ ایس آئی ٹی کے قائم کے بعد مسٹر سندیپ شنڈالیہ نے وقار اور اس کے ساتھیوں کے انکاونٹر میں ملوث 13 پولیس پارٹی کے ارکان سے بیک وقت پوچھ گچھ کی تھی ۔ ایس آئی ٹی نے مقامی واردات پر پہونچکر وہاں کا معائنہ کیا اور انکاونٹر میں استعمال کی گئی منی بس اور انساس رائلفس کو بھی ضبط کرتے ہوئے فارنسک لیباریٹری منتقل کیا تھا ۔ پولیس نے وقار احمد کو تحریک غلبہ اسلام تنظیم کا بانی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کئی مقدمات درج کئے تھے ۔ پولیس نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ وقار احمد نے مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد ہوئی پولیس فائرنگ بے قصور مصلیوں کو ہلاک کئے جانے کا انتقامی کارروائی کے طور پر پولیس ملازمین کو بم دھماکہ کی برسی کے موقع پر نشانہ بنارہا تھا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ٹی نے اس کیس میں کچھ خاص پیشرفت نہیں کی ہے کیونکہ اس ٹیم کے ارکان مختلف وجوہات کے سبب تحقیقات میں مبینہ طور پر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT