Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / آلیر انکاونٹر فرضی ، سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

آلیر انکاونٹر فرضی ، سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

انکاونٹر سے قبل مقام واردات پر آمد و رفت مسدود کردیا گیا تھا ، پولیس کی منصوبہ بند سازش نیشنل کانفیڈریشن آف ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نئی دہلی کے قائدین کی پریس کانفرنس

انکاونٹر سے قبل مقام واردات پر آمد و رفت مسدود کردیا گیا تھا ، پولیس کی منصوبہ بند سازش
نیشنل کانفیڈریشن آف ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نئی دہلی کے قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔30اپریل(سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ہدایت کے مطابق آلیر فرضی انکاونٹر میں شامل سترہ پولیس عہدیداروں پر قتل کا مقدمہ دائرکرنے کے علاوہ مہلوکین کے ورثہ کو تیس لاکھ روپئے معاوضہ اور فرضی انکاونٹر کی سپریم کورٹ کی نگرانی میںسی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کنفیڈریشن آف ہومین رائٹس آرگنائزیشن‘ نئی دہلی کے ذمہ داران نے آلیر فرضی انکاونٹرکو پانچ زیر دریافت ملزمین کابہیمانہ قتل قراردیا۔این ایچ آر سی کی نگرانی میں تشکیل کردہ فیاکٹ فائرنگ کمیٹی کی رپورٹ میڈیا کو پیش کرتے ہوئے پروفیسر اے مارکس چیرپرسن این سی اچ آر او چینائی‘ رینی الائنی نیشنل سکریٹری نیو دہلی نے کہاکہ تلنگانہ پولیس کے اعلی حکام کی ہدایت پر ورنگل پولیس نے پانچ زیر دریافت ملزمین کا بہیمانہ قتل کرتے ہوئے مذکورہ واقعہ کو انکاونٹر کا نام دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کے بموجب ورنگل پولیس اسکوارڈکے سترہ پولیس جوان جن کی قیادت آر ایس آئی اودئے بھاسکر کررہے تھے نے پانچ زیردریافت ملزمین وقار احمدزیردریافت قیدی نمبر1064‘محمد حنیف1077‘سید امجد1065‘ محمد ذاکر1002جن کا تعلق شہر حیدرآباد سے تھا اور ایک اتر پردیش کے ساکن اظہار خان1066کو صبح آٹھ بجے کے قریب ورنگل جیل سے نامپلی ٹرائیل کورٹ کے لئے پانچوں ملزمین کو لے کر روانہ ہوئے تھے اور درمیان میں پانچوں زیردریافت ملزمین نے پولیس کا ہتھیار چھین کر ان کو مارنے کی کوشش کی جس کے جواب میں پولیس نے پانچوںزیر دریافت ملزمین پر فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کردیا۔پروفیسر اے مارکس نے کہاکہ کمیٹی کی تحقیقات کے دوران ہمیںمعلوم ہوا کے عموماً پولیس اسکواڈ زیردریافت قیدیوںکو جیل سے گیارہ بجے لیکر روانہ ہوتا ہے مگر اس واقعہ میں پولیس نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچوں زیر دریافت ملزمین کو صبح آٹھ بجے کے قریب جیل سے لیکر روانہ ہوئے۔ انہو ںنے کہاکہ آلیر پولیس اسٹیشن سے چار کیلومیٹر کے فاصلہ پر پیش آئے انکاونٹر سے قبل پولیس نے صبح نو بجے سے ہی انکاونٹر کے مقام سے گذرنے والی سڑک کو دونوں جانب سے بند کردیا گیاتھا تاکہ انکاونٹر کے اسکرپٹ کو آسانی کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آلیر پولیس اسٹیشن‘ نلگنڈہ ڈسٹرکٹ میں انکاونٹر میںہلاک زیردریافت ملزمین کے خلاف35/2005 u/s 120 b,143, 147, 397, 307, 224, 332, r/w 149 IPC & 25(1),27 Arms Actکے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے کہ فرضی انکاونٹر کے حقائق کو آسانی کے ساتھ چھپا یا جاسکے۔انہوں نے پولیس کی جانب سے تیار کی گئی انکاونٹر کے کہانی کی خامیوں کو بھی میڈیاسے سامنے پیش کرتے ہوئے کہاکہ انکاونٹر واقعہ کے فوٹوز سے صاف ظاہر ہے کہ تمام پانچوںزیر دریافت ملزمین کے ہاتھ او رپیر باندھے ہوئے ہیںلہذا پولیس پر حملہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیںہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ ورنگل سے حیدرآباد147کیلو میٹرکا فاصلہ تین گھنٹے میںطئے ہوتا ہے مگر پولیس نے صبح اٹھ بجے کے قریب پانچوں کو ورنگل جیل سے حیدرآباد لیکر روانہ ہوئی اور پانچوں زیردریافت ملزمین پر لگائے گئے الزامات کو پولیس ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی تھی اور اگلے ماہ کی سنوائی میں پانچوں ملزمین کا بے قصور قراردیا جانا یقینی تھا۔پروفیسر اے مارکس نے فرضی انکاونٹرمہلوکین سے ملاقات کے دوران سامنے آئے حقائق بیان کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ پانچوں زیردریافت ملزمین نے پولیس سے اپنی جان کو خطرے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عدالت سے انہیں حیدرآباد چیرلہ پلی جیل منتقل کرنے کی اپیل کی تھاجس کو نظر انداز کیاگیا جبکہ پانچ کے بشمول چار کا تعلق حیدرآباد سے تھا باوجود اسکے انہیں ورنگل کی جیل میںمحروس رکھنے کاکام کیاگیا۔انہوںنے مزیدکہاکہ کمیٹی کی جانب سے نمائندگی پر ڈی جی پی تلنگانہ پولیس کے بیان کو افسوس ناک قراردیتے ہوئے کہاکہ پولیس نے فرضی انکاونٹر میں پانچ بے قصو ر نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد مہلوکین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ہدایت کے باوجود اودئے بھاسکر آر ایس آئی او ر سترہ پولیس جوانوں پر قتل کا مقدمہ دائر کرنے سے پولیس پس وپیش کا مظاہرہ کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈی جی پی تلنگانہ پولیس نے ملاقات کے دوران پولیس ملازمین پر قتل کا مقدمہ دائرکرنے سے واضح طور پر انکار کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے واقعات میں پولیس پر قتل کا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔انہوں نے نلگنڈہ کے رکن پارلیمنٹ کے رویہ پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ متعلقہ رکن پارلیمنٹ سے ا س ضمن میںنمائندگی کے لئے فون کرنے پر رکن پارلیمنٹ بھورا نرسیا گوڑ نے واقعہ سے عدم واقفیت کی بات کہی اور کہاکہ حکومت نے اس ضمن میں جو ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے حکومت کا وہ حق بجانب فیصلہ ہے۔پروفیسراے مارکس نے فرضی انکاونٹر کی تحقیقات کے نام پر تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ ایس آئی ٹی میںشامل پولیس عہدیداروں کاشمار مخالف مسلم ہے جس کے پیش نظر انکاونٹرمہلوکین کے ساتھ انصاف کی تمام امیدیں ایس آئی ٹی کی تشکیل پر ختم ہوگئی ہیں۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ سے آلیر فرضی انکاونٹر کے متاثرین سے انصا ف کا مطالبہ کرتے ہوئے انکاونٹر کے ذمہ دارپولیس عہدیدار وں پر قتل کا مقدمہ دائر کرنے اور متاثرین کوتیس لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کرنے ڈیمانڈ کیا۔انہوں نے کہاکہ شیشہ چلم فرضی انکاونٹر کی تحقیقات کے آغا ز سے قبل ہی ٹاملناڈو حکومت نے تمام بیس مہلوکین کے ورثہ کو تین لاکھ روپئے حکومت ٹاملناڈو کی جانب سے ادا کرنے کا اعلان کیا ہے ۔تاکہ مہلوکین کی بے گناہی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسٹر کے او سگومارن سابق کو ممبر این سی ایچ آر او پانڈیچری‘ ایڈوکیٹ اے محمد یوسف نیشنل سکریٹری این سی ایچ آر او‘ ٹی وی ایچ پرتھا میش پی ڈی ایف بنگلور‘ جناب طلحہ حسین اسٹوڈنٹ جہدکار بنگلور‘ بی سرینواس رائو نیشنل کو ممبر این سی ایچ آر او بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT