Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / آلیر انکاونٹر نہیں ، سفاکانہ قتل ، تحویل میں موت

آلیر انکاونٹر نہیں ، سفاکانہ قتل ، تحویل میں موت

مسلم نوجوانوں کو عدم حصول انصاف ، سینئیر قانون داں پرشانت بھوشن کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 28 ستمبر (سیاست نیوز) آلیر انکاونٹر درحقیقت کوئی انکاونٹر نہیں بلکہ سفاکانہ قتل اور تحویل میں موت کے مترادف ہے۔ سینئر قانون داں پرشانت بھوشن نے حیدرآباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے اور مسلم نوجوانوں کو انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔ عدلیہ کی اس عدم سنجیدگی سے مسلمانوں کو غلط پیغام پہنچے گا۔ پرشانت بھوشن نے سیول لبرٹیز مانٹیرنگ کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 5 نوجوانوں کی موت کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف 302 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے مرحومین کے ورثا کو پوسٹ مارٹم رپورٹ حوالہ نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ سنگین مسئلہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے حیدرآباد ہائیکورٹ کی جانب سے آزادانہ پوسٹ مارٹم کیلئے داخل کردہ درخواست کو منظور نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وقار نے موت سے ایک دن قبل جج کے روبرو تحریری شکایت پیش کی تھی اس کے باوجود ایسا نہ کیا جانا افسوسناک ہے۔ پرشانت بھوشن نے بتایا کہ مسلم نوجوانوں کو ہراسانی کے معاملات روزافزوں منظرعام پر آرہے ہیں اور کئی ایسے مقدمات سامنے ہیں جن میں 10 تا 15 سال مقدمات جاری رہنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں ماخوذ کردہ نوجوانوں کو باعزت بری کیا گیا۔ اسی طرح وقار کے معاملہ میں بھی 5 سال سے مقدمہ چلایا جارہا تھا لیکن وقار کو فیصلہ سے قبل قتل کردیا گیا۔ انہوں نے آلیر انکاونٹر معاملہ میں پولیس اور حکومت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے سفاکانہ کارروائی کی جبکہ اس کارروائی کے خلاف عدالتی تحقیقات کے مطالبہ پر حکومت نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 ماہ گذرنے کے باوجود اس مسئلہ پر تاحال کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کئے جانے سے پورے مسلم سماج میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ زیرحراست 5 مسلم نوجوانوں کے قتل کو انہوں نے انتہائی سفاکانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں ملوث عہدیداروں و ملازمین کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر تھی لیکن حکومت اور عدلیہ نے اس مسئلہ پر سنجیدہ نوٹ نہیں لیا جبکہ دستور کی دفعہ 176(1) (A) سی آر پی سی کیلئے یہ پوری طرح سے مضبوط کیس ہے۔ اس موقع پر وقار کے والد جناب محمد احمد کے علاوہ عشرت بانو اہلیہ ڈاکٹر حنیف مرحوم اور دیگر موجود تھے۔ جناب لطیف محمد خاں جنرل سکریٹری سی ایل ایم سی نے حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عدلیہ اور پولیس پر اثرانداز ہونے کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے عدالت کی جانب سے انصاف نہ کئے جانے پر عدلیہ کا وقار مجروح ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔

TOPPOPULARRECENT