Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / آلیر انکاونٹر کے شہید ڈاکٹر سید محمد حنیف کی بیوہ اور بچوں کی ملت فنڈ کے ذریعہ مدد

آلیر انکاونٹر کے شہید ڈاکٹر سید محمد حنیف کی بیوہ اور بچوں کی ملت فنڈ کے ذریعہ مدد

تعلیمی اخراجات اور دیگر مصارف فیض عام ٹرسٹ برداشت کرے گا،عشرت بانو کو پیشہ وارانہ کورس کرانے کا بھی اعلان
حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ریاست کے مسلمان اور خاص طور پر انصاف پسند عوام و شہری آزادی کے جہد کار 6 اپریل 2015 کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ اس دن ورنگل اور حیدرآباد کے درمیان علاقہ آلیر میں 5 مسلم قیدیوں کا عدالت لے جاتے ہوئے انکاونٹر کردیا گیا تھا ۔ اس انکاونٹر پر آج بھی شک و شبہ کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ حقوق انسانی کے جہدکاروں اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ انکاونٹر میں جاں بحق ہوئے نوجوانوں وقار الدین ، ڈاکٹر سید محمد حنیف ، محمد امجد علی ، ریاض خاں اور اظہار خاں کے ارکان خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ انکاونٹر نہیں بلکہ قتل کی سنگین واردات ہے اور پولیس نے بڑی درندگی کے ساتھ ان زیر دریافت قیدیوں کا قتل کیا ہے ۔ جن 5 نوجوانوں کو پولیس نے انکاونٹر کے ذریعہ موت کی نیند سلایا وہ کوئی کروڑ پتی نہیں تھے ۔ ان تمام کا غریب گھرانوں سے تعلق تھا ۔ کوئی غریب ماں باپ کا سہارا تھا تو کوئی اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار تھا ۔ اس طرح کوئی نوجوان اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز تھا ۔ جہاں تک ڈاکٹر سید محمد حنیف کے بیوی بچوں کا سوال ہے ۔ سال 2010 میں ان کی گرفتاری کے بعد سے ہی یہ خاندان بڑی کسمپرسی کی زندگی گذار رہا تھا ۔ اپریل 2015 میں ڈاکٹر سید محمد حنیف کے انکاونٹر کے بعد تو اس خاندان کی زندگی ہی تباہ ہوگئی ۔ تین بچوں کی تعلیم و تربیت حنیف مرحوم کی بیوہ کے لیے ایک بڑی مشکل بن گئی تھی ۔ ان حالات میں روزنامہ سیاست میں شائع رپورٹس پر عوام کا حوصلہ افزاء ردعمل حاصل ہوا ۔ انصاف پسند اور رحمدل لوگوں نے ڈاکٹر سید محمد حنیف کی بیوہ اور ان کے بچوں کے لیے 3.80 لاکھ روپئے بطور عطیہ پیش کئے جب کہ سماج وادی پارٹی ممبئی یونٹ کے سربراہ ابوعاصم اعظمی نے حیدرآباد پہنچ کر اس خاندان کو ایک لاکھ روپئے پیش کئے ۔

روزنامہ سیاست کے رپورٹس سے متاثر ہو کر فیض عام ٹرسٹ نے اس غریب خاندان کی مدد کا فیصلہ کیا ہے ۔ فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری و ٹرسٹی اور حیدرآباد میچول بینفٹ سوسائٹی کے سکریٹری جناب افتخار حسین نے بتایا کہ فیض عام ٹرسٹ نے ایڈیٹر سیاست کی ایماء پر ڈاکٹر سید حنیف کے تین بچوں مصباح بانو ( زیر تعلیم پانچویں جماعت ) ، محمد مصعیب ( متعلم چوتھی جماعت ) ، اور عبدالرحمن ( متعلم یو کے جی ) کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ پر عمل آوری بھی شروع کردی گئی جب کہ روزنامہ سیاست کے ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ دونوں کی جانب سے ڈاکٹر سید حنیف کی بیوہ عشرت بانو اور ان کے تین بچوں کے لیے ماہانہ 3500 روپئے گھر کا کرایہ ادا کیا جائے گا جس میں بجلی کا بل بھی شامل ہے ۔ آج دفتر سیاست پہنچ کر عشرت بانو نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر ہیلپنگ ہینڈ بھی موجود تھے ۔ فیض عام ٹرسٹ نے عشرت بانو کو ایس ایس سی یا TOSS امتحان میں شریک کرانے اور لیاب ٹیکنیشن کا کورس کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس خاندان کا گذر بسر ہوسکے ۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 3.80 لاکھ روپئے بچوں کے نام پر فکسڈ ڈپازٹ کروائے جائیں ۔ جناب سید افتخار حسین کے مطابق ان کا ادارہ سیاست کے اشتراک و تعاون سے اس خاندان کی باز آبادکاری چاہتا ہے ۔ اس لیے یہ اقدامات کیے گئے دوسری طرف عشرت بانو نے سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے علاوہ جناب افتخار حسین سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست نے ان کی ایسے وقت مدد کی ہے جب ناموافق حالات میں اپنے بھی بیگانے ہوگئے تھے ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر سید محمد حنیف ایک آیورویدک ڈاکٹر تھے جنہیں 2010 میں گرفتار کر کے جیل میں رکھا گیا تھا ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT