Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / آلیر فرضی انکاؤنٹر ‘ ایس آئی ٹی تحقیقات کروانے چیف منسٹر کا فیصلہ

آلیر فرضی انکاؤنٹر ‘ ایس آئی ٹی تحقیقات کروانے چیف منسٹر کا فیصلہ

حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) آلیر میں وقار احمد اور ان کے ساتھیوں کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کروانے کے مطالبہ کو عملا مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راو نے اس واقعہ کی صرف ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے چیف سکریٹر

حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) آلیر میں وقار احمد اور ان کے ساتھیوں کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کروانے کے مطالبہ کو عملا مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راو نے اس واقعہ کی صرف ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری مسٹر راجیو شرما کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کے احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد مسلم تنظیموں نے چیف منسٹر کی اس پیشکش کو مسترد کردیا اور سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انکاونٹر کے پس منظر میں کئی شک و شبہات کے سبب چیف منسٹر نے ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور کل اس سلسلہ میں جی او کی اجرائی متوقع ہے۔اگرچہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ذریعہ اس معاملہ کی تحقیقات کروائی جائے تو حقائق سامنے آنے کی امید ہے اور اگر ریاستی پولیس عہدیداروں پر مشتمل ایس آئی ٹی کے ذریعہ اگر تحقیقات کروائی جاتی ہے تو اس تحقیقات میں شفافیت نہ ہونے کا شبہ ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس ٹیم کے عہدیداروں کو آسانی سے اثر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری طرف اگر اس انکاونٹر کی عدالتی تحقیقات ایک برسرخدمت جج کے ذریعہ کروائی جائے تو واقعہ کی ہر زوایہ سے تحقیقات ممکن ہے ۔ قانون ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ حکومت محض ضابطے کی کارروائی کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے انکاونٹر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ اور قومی انسانی حقوق کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق کسی بھی انکاونٹر واقعہ پر ایف آئی آر لازم ہے اور انکاونٹر میں ہلاک مہلوکین کا پوسٹ مارٹم فارنسک ماہرین کے ذریعہ نگرانی انجام دیا جانا چاہئے اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی کی ویڈیو گرافی بھی لازم ہے ۔ رہنمایانہ خطوط کے مطابق انکاونٹر کی تحقیقات ایک آزادانہ تحقیقاتی ایجنسی سے کروائی جائے اور خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔ حکومت نے سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات سے گریز کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جو رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ 7 اپریل کو وقار احمد اور اس کے چار ساتھیوں سید امجد علی‘ ڈاکٹر حنیف ‘محمد ذاکر اور اظہار خان کو ورنگل سنٹرل جیل سے حیدرآباد کی عدالت کو منتقلی کے دوران انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا لیکن مہلوک نوجوان بیڑیوں میں جکڑے ہونے کے سبب کئی تنظیموں نے اس انکاونٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے اس معاملہ کی اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ دیا تھا۔ آلیر پولیس نے مہلوکین کے خلاف اقدام قتل ‘رہزنی ‘مجرمانہ سازش اور انڈین آرمس ایکٹ کے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ جس کا کرائم نمبر 35/2015 ہے آلیر پولیس اسٹیشن میںدرج کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT