Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آل انڈیا سروسیس کے عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر

آل انڈیا سروسیس کے عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر

حیدرآباد۔8۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے مخلوعہ جائیدادوں پر عہدیداروں کے تقرر کے خواہاں ہیں تاہم اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے ایک طرف عہدیداروں کی کمی ہے تو دوسری طرف عہدیدار اس محکمہ میں کام کرنے تیار نہیں۔ اس صورت حال نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرد

حیدرآباد۔8۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے مخلوعہ جائیدادوں پر عہدیداروں کے تقرر کے خواہاں ہیں تاہم اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے ایک طرف عہدیداروں کی کمی ہے تو دوسری طرف عہدیدار اس محکمہ میں کام کرنے تیار نہیں۔ اس صورت حال نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب حکومت اقلیتی اداروں کیلئے عہدیداروں کے انتخاب سے قاصر ہے۔ یوں تو گزشتہ ایک سال سے اقلیتی اداروں کے اہم عہدوں پر تقررات نہیں کئے گئے اور موجودہ چند عہدیدار کئی اداروں کی زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا

اور اقلیتی بہبود سے متعلق بجٹ کے مکمل خرچ اور نئی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے وہ مخلوعہ عہدوں پر تقررات کے کوشاں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اور اپنے دفتر میں اقلیتی امور کے نگرانکار سکریٹری سے بات چیت کی۔ گزشتہ دنوں چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور اگزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی جیسے اہم عہدے ایک عہدیدار کے تبادلے کے سبب خالی ہوگئے۔ محکمہ ریونیو سے تعلق رکھنے والے ایم اے حمید ڈپٹی کلکٹر ان دونوں عہدوں پر خدمات انجام دے رہے تھے تاہم ان کا تبادلہ دوبارہ متعلقہ محکمہ کو کردیا گیا ہے جس کے باعث اقلیتی بہبود کے مزید دو عہدے عہدیداروں سے خالی ہیں۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ کے سی آر اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کریں گے اور دیگر محکمہ جات سے عہدیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں اقلیتی بہبود میں فائز کیا جائے گا۔ متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں اقلیتی بہبود کو عہدیداروں کی کمی کا سامنا ہے۔

حکومت آندھراپردیش کم عہدیداروں کے ذریعہ ہی اقلیتی بہبود کو چلانا چاہتی ہے جبکہ تلنگانہ حکومت کو عہدیداروں کی تلاش ہے۔ کئی اقلیتی اداروں کی تقسیم نہ ہونے کے سبب اس قدر بحران نہیں جو کہ اداروں کی تقسیم کے بعد پیدا ہوگا۔ تلنگانہ کی سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود دونوں عہدیدار مزید دو محکمہ جات میں زائد ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جس کے باعث وہ اقلیتی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اقلیتی بہبود سکریٹری کے عہدہ پر نئے عہدیدار کے تقرر پر غور کر رہی ہے، جسے کوئی زائد ذمہ داری نہ ہو۔ اس کے علاوہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جیسے اہم عہدوں کیلئے موزوں عہدیداروں کی تلاش جاری ہے تاکہ زائد ذمہ داری نبھانے والے عہدیداروں کی جگہ مکمل اختیارات کے ساتھ دوسرے عہدیداروں کو فائز کیا جاسکے۔

اقلیتی فینانس کارپوریشن ، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی جیسے اداروں کی ذمہ داری صرف ایک عہدیدار نبھا رہے ہیں۔ وقف بورڈ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا عہدہ خالی ہونے کے بعد بورڈ کے روزمرہ کے کام کاج میں فرق پڑا ہے۔ اہم فائلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی موجودگی ناگزیر ہے۔ حکومت نے عارضی طور پر بورڈ کے ڈپٹی سکریٹری کو اس عہدہ کی ذمہ داری دی ہے لیکن وہ پہلے ہی سے عدالتی کارروائیوں اور دیگر امور میں مصروف ہیں۔ موجودہ اسپیشل آفیسر نے حکومت سے نمائندگی کی ہے کہ اقلیتی اداروں کے اہم عہدوں پر تقررات کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ محکمہ کی کارکردگی بہتر ہو۔

TOPPOPULARRECENT