Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / آل انڈیا سرویس عہدیداروں کی کیڈر کیلئے درخواستیں

آل انڈیا سرویس عہدیداروں کی کیڈر کیلئے درخواستیں

آبائی ریاستوں میں برقراری کی خواہش ، آئندہ ماہ درخواستوں پر غور و خوض ممکن

آبائی ریاستوں میں برقراری کی خواہش ، آئندہ ماہ درخواستوں پر غور و خوض ممکن
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آل انڈیا سرویسیس عہدیداروں ( آئی اے ایس ، آئی پی ایس و آئی ایف ایس ) کی تقسیم کے مسئلہ پر عہدیداروں کو اعتراضات پیش کرنے کی دی گئی مہلت ختم ہوگئی اور اس مہلت کے اختتام تک اپنا کیڈر تبدیل کرنے کی خواہش کرتے ہوئے جملہ 50 آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں نے اپنی درخواستیں پیش کئے ۔ ان میں 30 آئی اے ایس ، 10 آئی پی ایس اور 10 آئی ایف ایس عہدیدار شامل ہیں ۔ باوثوق سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ بعض عہدیداروں کو اپنی اپنی ریاستوں میں ہی برقرار رکھنے کی خواہش کرتے ہوئے دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا پردیش کے چیف منسٹروں نے بھی مرکزی حکومت کو اپنے مکتوبات تحریر کر کے روانہ کئے لیکن اس سلسلہ میں مرکزی حکومت سے ابھی تک ریاستی حکومتوں کو کسی بھی نوعیت کا ردعمل حاصل نہیں ہوا ہے تاہم توقع کی جاتی ہے کہ جن آئی اے ایس ، آئی پی ایس و آئی ایف ایس عہدیداروں نے اپنے کیڈر سے متعلق درخواستیں پیش کیں ۔ ان درخواستوں پر آئندہ ایک ماہ کے دوران مرکزی محکمہ ڈی او پی ٹی ( ڈپارٹمنٹ آف پرسونل ٹریننگ ) کی جانب سے کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ اسی دوران ایک اور ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ڈی او پی ٹی محکمہ کی جانب سے ایک مرتبہ کیڈر الاٹمنٹ کر کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں تو ان پر نظر ثانی کرنے کے لیے پیش کی جانے والی درخواستوں پر نظر ثانی کرنے کی بہت ہی کم امید پائی جاتی ہے ۔ تاہم نظر ثانی کے معاملہ میں عہدیداروں کے مرکزی سطح پر روابط و تعلقات کے ساتھ ساتھ اثر و رسوخ پر انحصار پایا جاتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT