Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں پہلی مرتبہ شعبہ خواتین کا قیام

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں پہلی مرتبہ شعبہ خواتین کا قیام

KOLKATA, NOV 20 (UNI):- All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) President Maulana Rabey Hasani Nadvi and General Secretary Maulana Mohammad Wali Rahmani during 25th General meeting of All India Muslim Personal Law Board in Kolkata on Sunday. UNI PHOTO-98U

تین طلاق کی حمایت ، خواتین کی رہنمائی کیلئے ٹال فری کال سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ ، تین روزہ کنونشن کا اختتام

کولکتہ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خصوصی شعبہ خواتین تشکیل دینے کا اعلان کیاہے جو طلاق جیسے حساس مسائل سے نمٹے گا۔ علاوہ ازیں بورڈ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے تین طلاق کی بھرپور تائید کی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آج یہاں ختم شدہ اپنے تین روزہ اجلاس میں منظورہ قرارداد نے کہا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کو حکومت غصب کررہی ہے۔ بورڈ کے سیکریٹری ظفریاب جیلانی نے کنونشن کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ خواتین، مسئلہ طلاق کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیم اور خاندانی تنازعات سے نمٹے گا۔ بورڈ نے آل انڈیا مسلم ویمنس ہیلپ لائن کے قیام کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ایک ٹول فری کال سنٹر بھی قائم کیا جائے گا جہاں اُردو، انگریزی اور دیگر آٹھ علاقائی زبانوں میں کونسلنگ کی جائے گی نیز خاندانی تنازعات کی یکسوئی کیلئے خواتین کو دارالقضاۃ سے رجوع ہونے کیلئے رہنمائی کی جائے گی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک رکن کمال فاروقی نے کہا کہ مسلم خواتین کے مسائل کا جائزہ لینے اور یکسوئی کیلئے بورڈ میں پہلی مرتبہ ایک شعبہ خواتین قائم کیا گیا ہے۔

کمال فاروقی نے کہا کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹوں کی شیرازہ بندی کے ذریعہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے مقصد سے حکومت، تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ جیسے مسائل کو موضوع بنارہی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ان مسائل پر حکومت کے ساتھ بات چیت کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن حکومت کو اس سے دلچسپی نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا نظریہ ہے کہ شرعی قوانین دراصل قرآنی احکام اور سنت پر مبنی ہیں چنانچہ شرعی قوانین کو احکام خدا کی حیثیت حاصل ہے۔ جس میں کسی ارباب مقتدر کی طرف سے کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جاسکتی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش کردہ اپنے حلف نامہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے نقطہ نظر بیان کرچکا ہے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے حکومت کے اِرادوں کا جیسے ہی علم ہوا، مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ دار نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی اور پانچ مرکزی وزراء کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنے نظریات بیان کیا تھا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن حکومت چونکہ پہلے ہی اپنا ذہن بنا چکی تھی، بورڈ کے نظریات سے واقفیت حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھی‘‘۔ فاروقی نے الزام عائد کیا کہ لا کمیشن کی طرف سے تیار کردہ سوالنامہ میں نہ صرف پیشہ واریت کا فقدان ہے بلکہ اس حساس مسئلہ پر موجودہ حکومت کے اِرادوں کی جھلک ملتی ہے جو پچھلے دروازے سے یکساں سیول کوڈ نافد کرنا چاہتی ہے اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ سے حکومت دستبردار ہوجائے گی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی تین طلاق پر اپنا سوالنامہ تیار کیا ہے اور اس پر مسلمانوں میں دستخطی مہم شروع کی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن عاملہ اسماء زہرہ نے کہا کہ ’’لاکھوں مسلم خواتین نے تین طلاق کے مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی حمایت کی ہے اور اس مسئلہ کو دراصل مسلم پرسنل لا میں مداخلت کیلئے حکومت ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ حکومت، مسلم خواتین کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ایسا محسوس کرنا چاہتی ہے کہ وہ انہیں بچانے کی کوشش کررہی ہے جو غلط ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT