Friday , June 22 2018
Home / مضامین / آندھرائی قائدین کی حرکتوں سے پارلیمنٹ داغدار

آندھرائی قائدین کی حرکتوں سے پارلیمنٹ داغدار

سید جلیل ازہر

سید جلیل ازہر
سیما آندھرا قیادت کی بدنیتی کی بدترین مثال اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ ساری دنیا میں پارلیمنٹ کے واقعہ کے بعد اس ملک کے رہنماؤں کی اصلیت بے نقاب ہوگئی ۔ گھر کے مالک پر کرایہ دار حاوی ہونے لگے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیما آندھرا کی فضاؤں میں اب سانس نہیں لے سکتے ۔ تلنگانہ کی فضاؤں اور معصوم لوگوں کی زمینات کو ہڑپ کرتے ہوئے دولت جما کرلینے کے عادی آج اس انداز سے جمہوریت کی دھجیاں اڑائیں کہ ٹی وی پر ان مناظر کو دیکھ کر لوگ حیران تھے کہ سیاستداں اس حد تک گر جائیں گے ۔ آج سارے ملک میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اپنے ہی ساتھیوں پر حکمران جماعت کو بھروسہ نہیں تھا تو کیوں تلنگانہ کی تمنا کی سولی پر چڑھایا گیا ۔ آج ملک ہی نہیں ساری دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ تلنگانہ کے عوام کیوں علحدہ ریاست کی خواہش کررہے ہیں ؟ سیما آندھرا قیادت برسوں سے تلنگانہ عوام اور یہاں کی وقف اراضیات پر قابض ہوتے ہوئے اس علاقہ کو کنگال کرتی آرہی تھی اور وہ مطمئن تھی کہ دولت کے بھرم پر ریاست کی تقسیم کو روک لیا جائے گا تاہم قدموں کے نیچے سے ریاست کا حصہ کھسکتا نظر آیا تو انہوں نے غنڈہ گردی کی انتہا کردی ۔ آخر ہمارے ملک کے رہبروں کو کیا ہوگیا ۔ ایک رکن پارلیمنٹ لوک سبھا میں چاقو لارہا ہے کوئی ایم پی مضرت رساں اسپرے استعمال کررہا ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ سیما آندھرا قیادت دوسروں کی کمائی پر عیش و عشرت کی زندگی گذارنے کی عادی ہوچکی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے واقعہ نے ملک کو ساری دنیا میں شرمسار کردیا ۔ چاقو کے ساتھ داخل ہونے والے رکن پارلیمنٹ کے لئے ہی کسی شاعر نے یہ شعر لکھ دیا ہوگا ۔
جو دیکھنے میں صاحب کردار ملیں گے
دعوی ہے میرا وہ بھی گناہ گار ملیں گے
جو پاٹھ پڑھاتے ہیں ہمیں امن و امان کا
ان کے ہی گھروں میں ہمیں ہتھیار ملیں گے
اب مرکزی حکومت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علحدہ تلنگانہ کے بل کی منظوری کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کو دنگل بنادینے والے قائدین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے تاکہ دوبارہ کسی کی ہمت نہ ہو ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ ہمارے ملک میں معمولی مرغی بھی ذبح کی جاتی ہے تو ذبح کرتے وقت بڑے بزرگ معصوم بچوں کو سامنے نہیں رکھتے کیونکہ بچہ جو دیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔ اس کے کچے ذہن کا بڑوں کو احساس ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے پارلیمنٹ میں قدآور قائد کی حرکتوں کا نسل نو پر کیا اثر پڑے گا ۔ ایک طالب علم نقل نویسی میں دوران امتحان پکڑا جائے تو اس کو کم از کم چار برس دوبارہ امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ اسی طرح سیما آندھرا ارکان کے خلاف لوک سبھا میں قرارداد منظور کرکے تاحیات پابندی عائد کی جائے اور ان کو یہ بتادیا جائے کہ کرایہ دار مالکانہ حقوق کا دعوی نہیں کرسکتے ۔ علاقہ تلنگانہ کی معصومیت اور یہاں کے عوام کا صبر اب قریب الختم ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ سیما آندھرا کی غنڈہ گردی ریاست کی تقسیم میں رکاوٹ بن نہیں سکتی اس لئے کہ
داغ جگر کو اب تو مہکنے کی دیر ہے
پلکوں پہ آنسوؤں کو چمکنے کی دیر ہے
ہم سے ہمارے صبر کا تم امتحاں نہ لو
پیمانہ بھر چکا ہے چھلکنے کی دیر ہے
یہ حقیقت ہے کہ بچھو کی دم میں زہر ہوتا ہے ، سانپ کے منہ میں اور مچھر کے سر میں زہر ہوتا ہے ۔ لیکن برے آدمی کے پورے وجود میں زہر ہوتا ہے ۔ کسی ایم پی کو خودکشی کی کوشش سے پہلے یہ غور کرلینا ہوگا کہ جائز جمہوری حق کے لئے علاقہ تلنگانہ میں سینکڑؤں ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں ۔ جانے کتنے باپ ایسے ہیں جن کے کاندھے جوان بیٹوں کے جنازے کے بوجھ سے ٹوٹ گئے ۔ برسوں سے مختلف تنظیموں کی جانب سے علحدہ ریاست کی مانگ کو لیکر کئی مقامات پر راستہ روکو دھرنا پروگرام میں مریض وقت پر دواخانہ نہیں پہنچ پارہے ہیں اور راستہ میں دم توڑدینے کے واقعات سے گذر کر یہ تحریک منزل مقصود پر پہنچ رہی ہے تو سرمایہ داروں کو مستقبل کی فکر میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ وہ آخر چاہتے ہیں کیا ؟
سیاسی حالات کا ہر پہلو عوام کی نگاہ میں ہے وہ دنیا کے سامنے آئینہ ہے ۔ ذرا سوچئے کہ آنے والی نسلیں آج کے سیاسی حالات کے بارے میں کیا سوچیں گے ۔ سیما آندھرا کی ضد نے علاقہ تلنگانہ کے عوام کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی ہے اس تناظر میں لوگ اب مجبور ہو کر کہہ رہے ہیں کہ سیما آندھرا قیادت علاقہ تلنگانہ کے عوام کی تہذیب کو بزدلی تو نہیں سمجھ رہی ہے ؟
ملک کے نامور شاعر جوہر کانپوری ایک نظم ’اہل سیاست سے خطاب‘ سے لکھی تھی جس کا کچھ حصہ پارلیمنٹ میں ہوئے واقعات پر کھرا اترتا ہے ۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس کے چند اشعار پیش ہیں :۔
صداقت پر جو ہے وہ رہبری تسلیم کرتا ہوں
جو سچا رہنما ہے اس کی میں تعظیم کرتا ہوں
تعصب کو بڑھاوا دینے والے رہبرو بولو
ضمیر و ظرف کے سوداگرو اپنی زباں کھولو
تمہارا فرض کیا ہے اور یہ کیا کررہے ہو تم
جوانان وطن کے دل میں نفرت بھررہے ہو تم
سیاست کو بھی تم لوگوں نے کاروبار کرڈالا
کہ شاخ گل سی نازک شئے کو بھی تلوار کرڈالا
ضرورت ہے اجالوں کی اندھیرا کردیا تم نے
کہ لفظ رہنمائی کو بھی گندا کردیا تم نے
تجارت کرکے لاشوں کا محل تعمیر کرتے ہو
غریبوں کے لہو سے زندگی میں رنگ بھرتے ہو
مدیر اعلی جناب زاہد علی خاں نے اپنے ایک مضمون میں بہت پہلے لکھا تھا کہ تلنگانہ کی تحریک برسوں سے تلنگانہ کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں اس کا ردعمل ہے ۔ تلنگانہ کے عوام سے تغافل ، تلنگانہ کی ملازمتوں میں انکا معمولی تناسب ، ہر اہم عہدہ پر آندھرائی تسلط ، کسانوں کے لئے عدم سہولیات ، حتی کہ ناگرجنا ساگر ڈیم کی تعمیر کے بعد آندھرا کو پانی لے جانے والی نہر Low Level کی ساگر کی آخری بوند بھی آندھرائی علاقوںکو سیراب کرے اور تلنگانہ کی ہائی لیول کا پانی ختم ہوجائے ۔ پھر غربت و افلاس کے ساتھ ساتھ آندھرا سے اپنی دو ایکڑ اراضی بیچ کر یہاں پچاس ایکڑ زمین خریدنے والوں نے تلنگانہ کے عوام کوبے بس کردیا ۔ حکومت اگر آندھرا اور تلنگانہ کو اپنی دو آنکھوں کی طرح سمجھتی تو شاید یہ تحریک نہ اٹھتی ۔ اب تو سیما آندھرا کے ناپاک عزائم کے سامنے آگئے ہیں ۔ تشکیل تلنگانہ سے ہٹ کر اب کوئی دوسری صورت ہو ہی نہیں سکتی تاہم تلنگانہ کے عوام صبر و تحمل کا دامن تھامے ہوئے تلنگانہ بل کی منظوری کا انتظار کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT