Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / آندھراپردیش اور اوڈیشہ کو طوفان ھُد ھُد کا خطرہ

آندھراپردیش اور اوڈیشہ کو طوفان ھُد ھُد کا خطرہ

نئی دہلی ؍ بھوبنشیور ۔ 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آندھراپردیش اور اوڈیشہ کے ساحل سے 12 اکٹوبر کو انتہائی خطرناک طوفان کے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ زبردست بارش اور 155 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ محکمہ موسمیات کے بموجب طوفان ’’ھُدھُد‘‘ آج انڈومان و نکوبار کے جزائر اور پورٹ بلیر کو عبور کرچکا ہے۔ یہاں 67 ک

نئی دہلی ؍ بھوبنشیور ۔ 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آندھراپردیش اور اوڈیشہ کے ساحل سے 12 اکٹوبر کو انتہائی خطرناک طوفان کے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ زبردست بارش اور 155 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ محکمہ موسمیات کے بموجب طوفان ’’ھُدھُد‘‘ آج انڈومان و نکوبار کے جزائر اور پورٹ بلیر کو عبور کرچکا ہے۔ یہاں 67 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی گرفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔ یہ وشاکھاپٹنم (آندھراپردیش) اور گوپال پور (اوڈیشہ) کے مابین مشرقی ساحل کو 12 اکٹوبر کی دوپہر تک عبور کرلے گا۔ امکان ہیکہ 130 سے لیکر 140 کیلو میٹر فی گھنٹہ یہاں تک کے 150 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں گی۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر جنرل لکشمن سنگھ راتھوڑ نے دہلی میں یہ بات بتائی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک طوفان کے زمین پر مرکزی مقام کا تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ہنوز سمندری علاقہ میں ہے۔ ھُد ھُد کو فائلن کے بعد دوسرا سب سے بڑا طوفان سمجھا جارہا ہے۔ فائلن نے گذشتہ سال اکٹوبر میں مشرقی ساحل میں تباہی مچائی تھی اور یہ اس قدر خطرناک تھا جس میں 210 سے 220 کیلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھی۔

طوفان ھُد ھُد اگرچہ فائلن کی طرح سنگین نہیں ہے لیکن یہ اسی زمرہ میں شامل ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کابینی سکریٹری اجیت سیٹھ کی زیرقیادت کل اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں طوفان سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ نیشنل کرائسیس مینجمنٹ کمیٹی کے اس اجلاس میں وزارت داخلہ، محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، مسلح افواج اور دیگر محکمہ جات کے نمائندے شریک ہوں گے۔ آندھراپردیش اور اوڈیشہ میں نیشنل ڈیزاسٹرس رسپانس فورس کی ایک بٹالین تعینات کی گئی ہے جو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے ۔ طوفان ھُد ھُد نے عوام کو بحران میں مبتلاء کردیا ہے۔ احتیاطی طور پر لوگ ضروری اشیاء کا ذخیرہ کررہے ہیں۔ مارکٹ سے آلو غائب ہیں۔ پیاز کی قیمتیں ترکاریاں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT