Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے ہائیکورٹ کے احکامات کا انتظار

آندھراپردیش وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے ہائیکورٹ کے احکامات کا انتظار

حکومت سے دو زمرہ کے ارکان کا انتخاب، عدالت میں آئندہ ہفتہ سماعت مقرر
حیدرآباد۔/30ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے حکومت کو ہائی کورٹ کے احکامات کا انتظار ہے۔ حکومت نے دو زمرہ جات کے تحت ارکان کے انتخاب کو مکمل کرلیا ہے جبکہ دیگر زمرہ جات کا معاملہ عدالت میں زیر التواء ہے۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے وجئے واڑہ کے رکن اسمبلی جلیل خاں کو پہلے ہی وقف بورڈ کا صدرنشین اعلان کردیا۔ ارکان مقننہ اور متولی و منیجنگ کمیٹی کے زمرہ جات میں انتخابات منعقد کئے گئے جس میں وجئے واڑہ کے رکن اسمبلی جلیل خاں پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے واحد امیدوار تھے۔ اس طرح ان کا انتخاب بلا مقابلہ ہوگیا۔ متولی اور منیجنگ کمیٹی کے زمرہ میں 6 نامزدگیاں داخل کی گئیں اور رائے دہی میں شیخ خواجہ ( وجئے واڑہ ) اور کے ایم صفی اللہ ( اننت پور ) منتخب قرار دیئے گئے۔ رکن پارلیمنٹ اور بار کونسل کے زمرہ میں انتخابات کا مسئلہ عدالت میں زیر التواء ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے رکن راجیہ سبھا ایم اے خاں کو آندھرا پردیش الاٹ کیا گیا اور تلگودیشم حکومت انہیں وقف بورڈ میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اسی طرح بار کونسل زمرہ میں زیڈ ایچ جاوید پہلے ہی تلنگانہ وقف بورڈ میں نامزد ہوچکے ہیں۔ بار کونسل کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا لہذا بار کونسل میں فی الوقت کوئی مسلم رکن نہیں ہے اور ایک ریاست کے رکن کو دوسری ریاست میں بیک وقت شامل نہیں کیا جاسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت وقف ایکٹ کی دفعہ 14(3) کا اطلاق کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اور بار کونسل رکن کے انتخاب کی بجائے مذہبی شخصیتوںکی نامزدگی کے خواہاں ہیں۔ اس مسئلہ کو گنٹور کے وائی ایس آر کانگریس ایم ایل اے محمد مصطفی نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو دفعہ 14(3) کے اطلاق کی وجوہات بیان کرنے 3 ہفتے کا وقت دیا تھا اور آئندہ ہفتہ سماعت ہوگی۔ عدالت نے انتخابات کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دی جس کے تحت رکن مقننہ اور متولی زمرہ کے انتخابات مکمل کرلئے گئے۔ رکن اسمبلی محمد مصطفی کا مطالبہ تھا کہ ارکان مقننہ کے زمرہ میں دو ارکان کو بورڈ میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے استدلال پیش کیا کہ تلنگانہ میں 11 مسلم ارکان کی موجودگی کے باوجود ایک رکن اسمبلی کو شامل کیا گیا جبکہ آندھرا پردیش میں مسلم ارکان کی تعداد 6 ہے پھر کس طرح 2 کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ عدالت کی منظوری کے بعد 9 یا 11 ارکان پر مشتمل آندھرا پردیش وقف بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔

 

TOPPOPULARRECENT