Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے موقف کیلئے چندرابابو کی بھوک ہڑتال

آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے موقف کیلئے چندرابابو کی بھوک ہڑتال

انصاف رسانی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم، چیف منسٹر کا سخت موقف

حیدرآباد ۔ 14 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے ریاست کو درپیش مختلف مسائل اور مرکزی حکومت کے آندھراپردیش کے ساتھ اختیار کردہ طرزعمل کے خلاف ’’ایک روزہ بھوک ہڑتال‘‘ کرنے کا اعلان کیا اور واضح طور پر کہا کہ ریاست کے حقوق کو حاصل کرنے میں کسی طرح کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جائے گا بلکہ حصول انصاف تک ان کی جدوجہد بہرصورت جاری رہے گی۔ لہٰذا مسٹر چندرا بابو نائیڈو اپنی اس جدوجہد کے ایک حصہ کے طور پر تقسیم ریاست کے موقع پر دیئے گئے تیقنات پر عمل آوری کے مطالبہ پر جاریہ ماہ 20 اپریل کو ’’ایک روزہ بھوک ہڑتال‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ بھروسہ دلاکر دھوکہ دینے اور مبینہ بی جے پی کی سازشوں سے ریاست آندھراپردیش کو بچانے کے نعرہ پر جاریہ ماہ 30 اپریل کو تروپتی میں بڑا جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے آج ضلع گنٹور کے تولورو منڈل کے شاکھامور کے مقام پر امبیڈکر جینتی تقاریب کے موقع پر کہا کہ یہاں پر 20 ایکڑ اراضی پر 100 کروڑ روپیوں کے مصارف سے ’’امبیڈکر اسمروتی ونم‘‘ کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی اور ریاست آندھراپردیش کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ناانصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے تقسیم سے ریاست آندھراپردیش کو ہوئے نقصانات سے متعلق مرکزی حکومت کے طرزعمل اور اپوزیشن کے انجام دیئے جانے والے رول پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ریاستی عوام سے مرکزی حکومت اور اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے آئندہ سال 2019ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کے ارکان پارلیمان کو شاندار اکثریت سے کامیاب بنانے کی پرزور اپیل کی۔ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے پرزور الفاظ میں کہا کہ آئندہ دہلی میں تلگودیشم پارٹی اپنی بات کو منوانے اور اپنی بات چلانے کے موقف میں رہے گی اس طرح اب جاری لڑائی اور جدوجہد بھی صرف اور صرف مرکزی حکومت و وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑائی و جدوجہد میں ان کا کوئی مفاد نہیں ہے بلکہ ریاست آندھراپردیش کے مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے ہی کی جارہی ہے۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہاکہ سابق میں بھی مرکز میں حکومت کی تشکیل کیلئے تلگودیشم پارٹی نے ہی اپنا اہم رول ادا کیا تھا اورآئندہ بھی تلگودیشم پارٹی ہی مرکز میں حکومت بنانے کیلئے اپنا اہم رول ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پیدائش ماہ اپریل میں ہی ہوئی تھی۔ لہٰذا اسی ماہ یعنی 20 اپریل کو ہی ریاست کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک روزہ بھوک ہڑتال کرنے کا میں نے فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھی لوک سبھا کی کارروائی نہ چلنے کے مسئلہ پر گذشتہ دن بھوک ہڑتال کی تھی لیکن انہوں نے استفسار کیا کہ آیا لوک سبھا کی کارروائی کے نہ چلنے کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دار نہیں ہے؟ جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی 20 اپریل کو ایک روزہ بھوک ہڑتال کے ذریعہ مرکزی حکومت سے اپنا احتجاج درج کروائیں گے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تمام سے بھرور تعاون کرنے کی پرزور خواہش کی۔ چیف منسٹر نے گذشتہ انتخابات کے موقع پر نریندر مودی نے تروپتی جیسے اہم مقام پر ریاست آندھراپردیش کو خصوصی موقف فراہم کرنے واضح طور پر دیئے گئے تیقن کو یاد دلایا اور کہا کہ آج وہی نریندر مودی اپنے دیئے گئے تیقن اور کئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے سے انحراف کررہے ہیں جوکہ وزیراعظم کیلئے انتہائی بدبختانہ بات ہے۔ لہٰذا وزیراعظم نریندر مودی نے جس مقام پر آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے کا تیقن دیا تھا اسی مقام پر 30 اپریل کو بڑے پیمانے پر جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے ریاستی مفادات کے مسئلہ پر اپوزیشن کی لاچلی سیاست کرنے پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT