Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش کی یونیورسٹیز میں اساتذہ کے تقررات کی تیاری

آندھراپردیش کی یونیورسٹیز میں اساتذہ کے تقررات کی تیاری

دو مرحلوں میں تقررات کا فیصلہ ، وزیر فروغ انسانی وسائل جی سرینواس راؤ
حیدرآباد /15 جنوری ( سیاست نیوز ) آندھراپردیش کی 14 یونیورسٹیوں میں ایک طویل عرصہ سے مخلوعہ پائی جانے والی 1345 لکچررس اسسٹنٹ پروفیسرس وغیرہ کی جائیدادوں پر دو مرحلوں میں تقررات عمل میں لانے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر فروغ انسانی وسائل مسٹر جی سرینواس راؤ نے یہ بات کہی اور بتایا کہ وہ آئی آئی آئی ٹی طلباء کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی کیلئے اونگول کے قریب ایڈوکنڈلہ پاڈو میں نمرا کالج کی عمارتوں کا معائنہ کیا اور بعد ازاں کہا کہ آئندہ سال سے کم از کم تین ہزار طلباء کو ضلع میں ہی رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کلاسیس بھی چلائی جائیں گی ۔ قانون تقسیم ریاست میں آندھراپردیش کیلئے مختص کردہ سات یونیورسٹیوں کے منجملہ اب تک پانچ یونیورسٹیاں عارضی رہائشی عمارتوں میں قائم ہیں اور ماباقی دو یونیورسٹیوں کا آئندہ تعلیمی سال سے عارضی رہائشی عمارتوں میں قیام عمل میں آئے گا ۔ انہوں نے اس موقع پر صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کے پانچ کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والے چندرا بابو نائیڈو جگن موہن ریڈی پر تنقید کر رہے ہیں ۔ مسٹر جی سرینواس راؤ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ مسٹر وائی ایس جگن کی زیر قیادت وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ’’ایک ڈوبنے والی کشتی ‘‘ قرار دیا ۔ اور کہا کہ صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی جگن موہن ریڈی کی پرجا سنکلپ یاترا کے اختتام تک وائی ایس آر کانگریس پارٹی مکمل طور پر خالی ہوجائے گی ۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ محض جگن کے طرز عمل اور پارٹی قائدین و ارکان اسمبلی کے ساتھ اختیار کردہ رویہ سے عاجز آکر ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی اور قائدین تلگودیشم پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ مسٹر جی سرینواس راؤ نے جگن موہن ریڈی کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوں تو پد یاترائیں کئی قائدین نے کیں اور ان تمام قائدین نے سلسلہ وار اپنی پد یاترائیں کیں ۔ لیکن ہفتہ میں ایک دن بروز جمعہ پد یاترا کو روک کر دوبارہ دوسرے دن ہفتہ سے پد یاترا شروع کرنے والے واحد قائد مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے سواء کوئی اور نہیں ہیں ۔ وزیر موصوف نے جگن موہن ریڈی کی جاری پد یاترا کا مضحکہ اڑایا اور کہا کہ اس پد یاترا سے مسٹر جگن موہن کو کوئی فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہی ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT