Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا۔ تلنگانہ جھگڑا، حیدرآباد کو بھاری نقصان کااندیشہ

آندھرا۔ تلنگانہ جھگڑا، حیدرآباد کو بھاری نقصان کااندیشہ

حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان دن بہ دن بڑھتے ہوئے تصادم کی صورتحال میں اب ایسا لگتا ہے کہ حیدرآباد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ دونوں جانب کے اعلیٰ عہدیداروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سری سیلم اور ناگرجنا ساگر ذخائر ہائے آب سے پانی کی اجرائی کے مسئلہ پر اپنے موق

حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان دن بہ دن بڑھتے ہوئے تصادم کی صورتحال میں اب ایسا لگتا ہے کہ حیدرآباد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ دونوں جانب کے اعلیٰ عہدیداروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سری سیلم اور ناگرجنا ساگر ذخائر ہائے آب سے پانی کی اجرائی کے مسئلہ پر اپنے موقف پر اٹل رہے تو جنوری 2015سے گریٹر حیدرآباد کو دریائے کرشنا سے پینے کیلئے پانی کی سربراہی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوجائیں گے۔ کرشنا آبی پراجکٹ ( مرحلہ اول و دوم ) کے تحت فی الحال گریٹر حیدرآباد کی 92لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کو 60فیصد پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ناگرجنا ساگر ذخیرہ آب سے پٹن گڑی میں الیمینٹی مادھوا ریڈی پراجکٹ ( اے ایم آر پی ) پر واٹر پمپس کے ذریعہ پانی جمع کیا جاتا ہے اور اکم پلی ذخیرہ آب میں محفوظ کیا جاتا ہے جہاں سے یہ پانی حیدرآباد پہنچتا ہے تاہم ناگرجنا سے صرف اس صورت میں ہی پانی نکالا جاسکتا ہے جب ڈیم کی سطح 510فیٹ پر برقرار رکھی جائے۔ اے ایم آر پی میں پمپوں کی تزائین کچھ اس انداز میں کی گئی ہے کہ ناگرجنا ساگر سے صرف اسی صورت میں پانی نکالا جاسکتا ہے جب وہاں کی سطح آب 510فیٹ رہے۔

اے پی جینکو کے مشیر جی ادی سیشو نے کہا کہ حیدرآباد کو دریائے کرشنا سے پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے ناگرجنا ساگر میں پانی کی اس سطح کو برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔ ناگر جنا ساگر میں بالعموم جنوری کے دوران پانی کی سطح 510فیٹ سے کم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حیدرآباد میں پانی کی سربراہی کو یقینی بنائے رکھنے کیلئے سری سیلم سے ناگرجنا ساگر میں پانی چھوڑنا پڑے گا تاکہ وہاں اقل ترین سطح آب کو بحال رکھا جاسکے۔ جب آندھرا پردیش متحد تھا ریاستی حکومت دارالحکومت میں پینے کے پانی کی ضروریات کی تکمیل کو اولین ترجیح دیا کرتی تھی تاہم آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دو ریاستوں کا وجود عمل میں آچکا ہے اور دونوں ریاستوں کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہیں۔ حکومت آندھرا پردیش چار اضلاع کرشنا، گنٹور، مغربی گوداوری اور پرکاشم پر مشتمل کرشنا طاس میں ربیع کی فصل کیلئے ناگرجنا ساگر سے پانی کی اجرائی پر اصرار کرسکتا ہے جبکہ حکومت تلنگانہ اضلاع نلگنڈہ اور کھمم میں 6.5لاکھ ایکر پر محیط فصلوں کو سیراب کرنے کیلئے پانی کی جلد اجرائی پر اصرار کرے گی۔ ماضی کے برخلاف اس مرتبہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی حکومتیں موسم ربیع کیلئے پانی کی اجرائی پر توجہ مرکوز کریں گے اور اس عمل میں شہر حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی لیت و لعل کا شکار ہوجائے گی۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف کی بلدیات میں پینے کے پانی کی ضروریات کی تکمیل کرنے والے پانچ ذرائع کے منجملہ براہ ناگرجنا ساگر دریائے کرشنا سے حاصل ہونے والا پانی 60فیصد ضروریات کی تکمیل کرتا ہے جس کے منجملہ دریائے کرشنا مرحلہ اول کے تحت 5.5ٹی ایم سی فیٹ اور مرحلہ دوم کے تحت مزید 5.5ٹی ایم سی فیٹ پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں روزانہ 510ملین گیلن پانی کی مانگ ہے

جس کے برخلاف حیدرآباد میٹرو واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دعویٰ کے مطابق روزانہ3.45 ملین گیلن پانی سربراہ کیا جاتا ہے حالانکہ درحقیقت اس سے بھی کم مقدار میں پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق شہر حیدرآباد میں یومیہ 320 ملین گیلن پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح شہر حیدرآباد میں یومیہ 190 ملین گیلن پانی کی قلت درپیش ہے اور یہ مسئلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کرشنا مرحلہ سوم سے شہر کو مزید 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی کی سربراہی کا آغاز نہیں ہوتا۔ حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے والے دیگر ذرائع عثمان ساگر ( 24ملین گیلن یومیہ )، حمایت ساگر ( 16 ملین گیلن یومیہ ) ، سنگور ( 75ملین گیلن یومیہ ) اور مانجرا ( 45ملین گیلن یومیہ ) ہیں لیکن عثمان ساگر، حمایت ساگر، سنگور اور مانجرا ذخائر ہائے آب ایک سال میں صرف 190دن تک پانی کی سربراہی کیلئے محدود ہیں جبکہ دریائے کرشنا کا پانی شہر کو 250دن آبرسانی یقینی بناتا ہے۔ ان حالات میں تلنگانہ و آندھرا دونوں کی حکومتیں موسم ربیع کی فصلوں کو پانی سربراہ کرنے پر تمام تر توجہ مرکوز کررہی ہے چنانچہ حیدرآباد کو نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پینے کے پانی کے بحران کا سامنا لاحق ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT