Tuesday , June 19 2018
Home / تجارت / آندھرا بنک کو نصف مالی سال کے دوران 144 کروڑ کا منافع

آندھرا بنک کو نصف مالی سال کے دوران 144 کروڑ کا منافع

جن دھن اسکیم کے تحت دس لاکھ 77 ہزار کھاتوں کی کشادگی ، راجندر ریڈی چیرمین و ایم ڈی کی پریس کانفرنس

جن دھن اسکیم کے تحت دس لاکھ 77 ہزار کھاتوں کی کشادگی ، راجندر ریڈی چیرمین و ایم ڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔30اکٹوبر ( سیاست نیوز) آندھرا بینک نے نصف مالی سال کے اختتام پر 144کروڑ کے منافع کا اعلان کیا ہے ۔ آندھرا بینک کے چیرمین و منیجنگ ڈائرکٹر مسٹر راجندر ریڈی نے آج مالی سال کے دوسرے حصہ کے اختتام کے موقع پر بتایا کہ بینک کو دوسرے سہ ماہی میں 35فیصد کا منافع ہوا ہے ۔ بینک کی جملہ آمدنی میں سالانہ تقریباً 16فیصد کا اضافہ ہورہاہے ۔ بینک کی کارکردگی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ بینک میں ڈپازٹ کی شرح میں 12.2فیصد کا اضافہ جب کہ مختلف شعبوں کا جائزہ لینے پر بینک مجموعی اعتبار سے منافع میں ہے ۔مسٹر راجندر ریڈی نے بتایا کہ اقلیتوں کو 15فیصد قرضہ جات کی اجرائی کے نشانے کو مکمل کرنے کی کوشش کی ہے اور 30ستمبر 2014ء تک ترجیحی شعبہ کے اعتبار سے اقلیتی طبقات کو 5,592کروڑ کے قرضہ جات جاری کئے گئے ہیں جو کہ 13.54فیصد ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم ’جن دھن یوجنا ‘ میں آندھرا بینک نے 10لاکھ 77ہزار کھاتوں کی کشادگی یقینی بنائی ہے جب کہ 30ستمبر تک بینک نے جو نشانہ مقرر کیا تھا وہ 2لاکھ 75ہزار کھاتوں کی کشادگی کا نشانہ تھا ۔ اس اسکیم کے مطابق مستحق صارفین کو روپئے کارڈس بھی جاری کردیئے گئے ہیں ۔ آندھرابینک ملک کی 26ریاستوں اور 3مرکزی زیر انتظام علاقوں میں خدمات انجام دے رہا ہے اور 4,249ڈیلیوری چیانلس موجود ہیں ۔ 2185شاخوں پر مشتمل بینک 2020 اے ٹی ایم کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ جاریہ مالی سال کے دوران ملک بھر میں 400نئی شاخوں کے آغاز کا منصوبہ ہے ۔ مسٹر راجندر ریڈی نے کہا کہ بینک تجارتی اُمور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ پسماندہ طبقات کی ترقی کے علاوہ تعلیمی بیداری جیسی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے ۔ ریاست میں کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے متعلق انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے 25فیصد قرضہ جات ادا کردی گئی ہے جب کہ آئندہ دو تین سال کے دوران مابقی قرضہ جات کی ادائیگی کی توقع کی جارہی ہے ۔ اسی طرح حکومت آندھراپردیش کی جانب سے 20فیصد قرضہ جات کی ادائیگی کا تیقن دیا گیا ہے ۔ دونوں ریاستوں میں فی الحال انفراسٹرکچر ‘ برقی اور اسٹیل جیسے شعبے متاثر ہیں اور آئندہ چند ماہ کے دوران ان شعبہ جات کی حالت بہتر ہونے کی توقع ہے ۔ مسٹر راجندر ریڈی نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کوئلہ کے متعلق پالیسی کا اعلان کیا جاچکا ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد کچ دھات کی پالیسی بھی وضع کی جائے گا جس کے بعد حالات بتدریج معمول پر آنے کا امکان ہے ۔ آندھرا بینک کی جانب سے برقی شعبے کو فراہم کردہ قرضہ جات 14ہزار کروڑ روپئے تک پہنچ چکے ہیں جب کہ تعلیم کے شعبہ میں 470کروڑ اور مواصلات کے شعبہ میں 1141 کروڑ روپئے کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں بینک کی سرمایہ کاری جاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT