Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا و تلنگانہ اسمبلی نشستوں میں اضافہ کا امکان موہوم

آندھرا و تلنگانہ اسمبلی نشستوں میں اضافہ کا امکان موہوم

وزیر اعظم کے دفتر سے ہنوز جواب موصول نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ میں بل کی پیشکشی کا بھی امکان نہیں
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) حکومت ہند ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کے اضافہ کے متعلق فیصلہ نہیں کرے گی! ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے امکانات موہوم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق محکمہ کی جانب سے وزیر اعظم کے دفتر کو روانہ کردہ کابینی نوٹ ابھی تک محکمہ کو موصول نہیں ہواہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سرمائی سیشن بھی گجرات انتخابات کے سبب مختصر ہوگا اسی لئے اس سرمائی سیشن کے دوران تلنگانہ و آندھرا پردیش میں اسمبلی حلقہ جات کی ازسر نو حدبندی کے سلسلہ میں بل پیش کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔ دونوں ریاستوں میں سیاسی استحکام کو ممکن بنانے کے لئے دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر س نے مرکز بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی سے نمائندگی کرتے ہوئے ریاست کے حلقہ جات اسمبلی میں اضافہ کے عمل کو عاجلانہ خطوط پر مکمل کرنے کی خواہش کی تھی لیکن اس کے باوجود اب تک بھی وزیر اعظم کے دفتر سے کابینی نوٹ کا جواب نہ دیئے جانے سے یہ باور کیا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں فوری کوئی اضافہ کے حق میں نہیں ہے۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت ہند نے تقسیم ریاست کے بل میں شق26کا اضافہ کیا تھا اور اس میں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے بعد حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کیلئے 6ماہ درکار ہو ںگے۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست تلنگانہ کی موجودہ 119 اسمبلی نشستوں میں ازسر نو حد بندی کے ذریعہ انہیں 153 کرنے کی سفارش کی تھی جبکہ حکومت آندھرا پردیش نے موجودہ 175 نشستوں کو از سرنو منقسم کرتے ہوئے 225 نشستیں کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ چیف منسٹرآندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اور چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اب بھی مرکزی حکومت سے خواہش کی جا رہی ہے کہ وہ اس عمل کی تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے لیکن باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی جانب سے کی جانے والی کوشش کے کامیاب ہونے کے امکانات موہوم ہوتے جا رہے ہیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے اس مسئلہ پر کوئی پیشرفت اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک وزیر اعظم کے دفتر سے کابینی نوٹ پر ریمارکس موصول نہیں ہوتے اور حکومت کی جانب سے اسے کابینہ میں پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل نہیں کی جاتی اسی لئے یہ کہنا دشوار ہے کہ مجوزہ سرمائی اجلاس کے دوران اس بل کو پیش کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT