Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش اسمبلی میں تلگو دیشم ۔ وائی ایس آر کانگریس ارکان میں لفظی جھڑپ

آندھرا پردیش اسمبلی میں تلگو دیشم ۔ وائی ایس آر کانگریس ارکان میں لفظی جھڑپ

حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر : ( سیاس نیوز ) : نوٹ برائے ووٹ اسکام کے مسئلہ پر آندھرا پردیش اسمبلی میں حکمران تلگو دیشم اور اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں ٹھن گئی جگن موہن ریڈی نے ٹیلی فون پر چندرا بابو نائیڈو سے بات کرنے اور چارج شیٹ میں 22 مرتبہ نام ہونے کا دعویٰ کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ سے ان کی ( جگن ) کی ٹیلی فون پر بات چیت کا ثبوت پیش کرنے پر استعفیٰ دینے کا پیشکش بصورت دیگر چیف منسٹر آندھرا پردیش کو استعفیٰ دینے کا چیلنج کیا ۔ آندھرا پردیش اسمبلی اجلاس کے آخری دن حکمران تلگو دیشم اور اصل اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے درمیان گرما گرم مباحث ہوئی ہے ۔ اور ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کی بارش کردی ۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اسمبلی میں موجود تھے لیکن ایوان میں نہیں آئے قائد اپوزیشن مسٹر جگن موہن ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے سرکاری خزانے کو سیاسی و ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور نائیڈو سے استفسار کیا ہے کہ کیا انہوں نے ٹی آر ایس کے نامزد رکن قانون ساز کونسل مسٹر اسٹیفن کو خریدنے کے لیے تلگو دیشم کے رکن اسمبلی مسٹر ریونت ریڈی کو ان کے مکان روانہ نہیں کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے والے چور ہے ۔ چارج شیٹ میں 22 جگہ ان کا نام ہے ۔ فارنسک لیاب نے ٹیلی فون کی آواز چندرا بابو نائیڈو کے ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش پکڑے جانے والے چور ہے ۔ جب اس پر مباحث کرنا چاہتے ہیں چندرا بابو نائیڈو اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو دونوں ریاستوں کے معاملت کے طرز پر جوڑتے ہوئے اصل موضوع سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں جو تعجب کی بات ہے ۔ اسپیکر اسمبلی مسئلہ عدالت میں زیر دوران ہونے کا ریمارک کرتے ہوئے مباحث کی اجازت دینے سے انکار کررہے ہیں ۔ جب کہ ان کا مسئلہ بھی عدالت میں ہے ۔ مگر حکمران ارکان کو اس پر اسمبلی میں روز بات کرنے کی اجازت دے رہے ہیں ۔ تلگو دیشم کے وزراء اچم نائیڈو اور ڈی نریندرا نے مداخلت کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی کو قائد اپوزیشن آندھرا پردیش کا رول نبھانے کے بجائے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے نمائندے کی طرح بات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ برائے ووٹ کا مسئلہ منظر عام پر آنے سے ایک دن قبل چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قائد اپوزیشن مسٹر جگن موہن ریڈی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ۔ نوٹ برائے ووٹ کا معاملہ دونوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔ جس پر جگن موہن ریڈی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تلگو دیشم حکومت ان کی کے سی آر سے ٹیلی فون پر بات چیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں تو وہ مستعفی ہوجائیں گے ورنہ کیا چیف منسٹر آندھرا پردیش مستعفی ہونے کے لیے تیار رہیں گے ۔ ایک اور وزیر مسٹر بی رگھوناتھ ریڈی نے کہا کہ بدعنوانیوں پر بات کرنے کا جگن موہن ریڈی کو اخلاقی حق نہیں ہے کیوں کہ وہ خود بدعنوانیوں کا مرکز ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT