Tuesday , December 11 2018

آندھرا پردیش اسمبلی میں جگن موہن ریڈی اور وزیر تعلیم کے درمیان گرما گرم بحث

قائد اپوزیشن کو مستعفی ہوکر دوبارہ مقابلہ کا چیلنج، طوفان کے نقصانات پر راحت کاری میں ناکامی کا الزام

قائد اپوزیشن کو مستعفی ہوکر دوبارہ مقابلہ کا چیلنج، طوفان کے نقصانات پر راحت کاری میں ناکامی کا الزام
حیدرآباد /19 دسمبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن آندھرا پردیش اسمبلی جگن موہن ریڈی اور وزیر تعلیم جی سرینواس کے درمیان اسمبلی میں ٹھن گئی۔ آندھرا پردیش اسمبلی کے دوسرے دن کے اجلاس میں جگن موہن ریڈی نے ہد ہد طوفان کی تباہی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طوفان کی وجہ سے ساحلی آندھرا میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اور 15 لاکھ ہیکٹر اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان ہوا، لیکن اس مصیبت کی گھڑی میں حکومت عوام کو راحت پہنچانے میں پوری طرح ناکام ہو گئی، یہاں تک کہ ریاستی وزیر تعلیم جی سرینواس راؤ نے اپنے حلقہ اسمبلی کا دورہ کرتے ہوئے مصیبت زدہ عوام سے ملنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ جن امیدوں سے عوام نے وزیر تعلیم کو منتخب کیا تھا، انھیں پورا کرنے میں ناکام ہو گئے، لہذا وزارت پر برقرار رہنے کا انھیں کوئی حق نہیں ہے، وہ فوراً مستعفی ہو جائیں۔ دریں اثناء قائد اپوزیشن کے ریمارک پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی وزیر نے کہا کہ انھیں ذمہ داریاں اچھی طرح نبھانا آتا ہے۔ جب ہد ہد طوفان آیا تو بشمول چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو ساری سرکاری مشنری عوام کو بچانے اور انھیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف تھی، پھر بھی انھیں قائد اپوزیشن کے ریمارکس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کی نشست اور وزارت سے مستعفی ہونے اس شرط پر تیار ہیں کہ ان کے ساتھ جگن موہن ریڈی بھی استعفی دیں اور پھر ہم دونوں ہمارے حلقہ اسمبلی بھیملی سے مقابلہ کریں، اس طرح نتیجہ سے ظاہر ہو جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں اور کون تباہ کن طوفان سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی دوران بی جے کے رکن اسمبلی نے ریاستی وزیر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ طوفان کی تباہی کے موقع پر انھوں نے ریاستی وزیر کے ساتھ بیچ روڈ کا دورہ کیا اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے دیکھا۔

TOPPOPULARRECENT