Sunday , July 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش اسمبلی میں متعدی امراض سے کئی افراد کی اموات پر بحث و تکرار

آندھرا پردیش اسمبلی میں متعدی امراض سے کئی افراد کی اموات پر بحث و تکرار

محکمہ صحت کی کارکردگی پر تنقید ، تلگو دیشم قائد مدو کرشنما نائیڈو کے استفسار پر وزیر صحت کی برہمی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش قانون ساز کونسل میں تلگو دیشم کے ارکان میں بحث و تکرار ہوگئی ۔ وقفہ سوالات کے دوران تلگو دیشم کے رکن قانون ساز کونسل جی مدو کرشنما نائیڈو نے ضلع چتور میں ڈینگو اور متعدی بیماریوں کے اچانک پھٹ پڑنے سے کئی افراد کی موت واقع ہوجانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ضلع چتور کے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ محکمہ ہیلت کی تساہل اور غفلت سے عوام کی قیمتی زندگیاں ضائع ہورہی ہیں ۔ محکمہ صحت سے مناسب طبی سہولتیں نہ ملنے پر ضلع چتور کے عوام علاج کے لیے پڑوسی ریاستیں چینائی اور بنگلور کا رخ کررہے ہیں ۔ 9 سال سے ڈسٹرکٹ ہیلت آفیسر کا تبادلہ نہیں کیا گیا ۔ سرکاری ملازمین اور ٹیچرس کا دو یا تین سال میں تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہیلت آفیسر کا کیوں تبادلہ نہیں کیا گیا ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں خون کے نمونے حاصل کرنے میں بھی بدعنوانیاں ہونے کا الزام عائد کیا کم ٹنڈر بھرنے والے کو نظر انداز کر کے زیادہ ٹنڈر بھرنے والے کو ذمہ داری سونپنے کی بھی وجہ طلب کی ۔ ایوان کے ارکان پر ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ وزیر صحت کے سرینواس نے مدو کرشنمانائیڈو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ارکان کے پوچھے گئے سوالات سے تمہارے سوالات بالکل الگ ہیں عوامی صحت پر مختصر مباحث میں 2 گھنٹوں تک مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔ تب اس پر کیوں بات نہیں کی ۔ جی مدوکرشنما نائیڈو سے سوال کیا اور کہا کہ ماڈل ٹنڈرس کا کام مکمل شفافیت کے ساتھ پورا کرنے کا دعویٰ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT