Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش تنظیم جدید بل کی تبدیلی باعث تشویش

آندھرا پردیش تنظیم جدید بل کی تبدیلی باعث تشویش

صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام کا شدید ردعمل

صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔15۔ڈسمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام نے مرکز کی جانب سے آندھراپردیش تنظیم جدید بل میں ترمیم سے متعلق اطلاعات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈا رام نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں آندھراپردیش کی تقسیم کے سلسلہ میں جو قانون تیار کیا گیا ، اس میں تبدیلی باعث تشویش ہے۔ جس وقت پارلیمنٹ میں یہ بل پیش کیا گیا تھا، تمام جماعتوں نے اس کی تائید کی اور دونوں ریاستوں کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے بل تیار کیا گیا۔ اب 7 ماہ گزرنے کے بعد مرکز کی یو پی اے حکومت قانون میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت قانون میں ترمیم کے ذریعہ تلنگانہ کے ساتھ مزید ناانصافیوں کی کوشش کرے گی۔ کودنڈا رام نے قانون میں تبدیلی کو خارج از بحث قرار دیا اور کہا کہ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا اس سلسلہ میں بیان افسوسناک ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ جس وقت تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا وینکیا نائیڈو نے درپردہ قیام تلنگانہ کی مخالفت کی تھی۔ کودنڈا رام نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مرکز کی جانب سے کئی شعبوں میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کیلئے مرکز کو مکمل تعاون کرنا چاہئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگو دیشم کے اشارہ پر مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ پوفیسر کودنڈا رام نے ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں۔

TOPPOPULARRECENT