Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے مطابق حقوق تلنگانہ حاصل کرنے کی مساعی

آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے مطابق حقوق تلنگانہ حاصل کرنے کی مساعی

پارلیمنٹ میں جدوجہد کا عزم ، ٹی آر ایس ایم پی ونود کمار کا بیان
حیدرآباد ۔18۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کو فراہم کردہ حقوق حاصل کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں جدوجہد کی جائے گی۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت تنظیم جدید قانون میں شامل امور کو نظر انداز کر رہی ہے۔ تلنگانہ کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس ارکان آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول 13 میں شامل امور کو مرکزی حکومت نظر انداز کر رہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کو 3 سال مکمل ہونے کے باوجود کئی معاملات میں تلنگانہ سے انصاف نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر گزشتہ پارلیمنٹ سیشن میں ٹی آر ایس نے کئی بار احتجاج کیا ۔ مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کی تقسیم کا تیقن دیا لیکن بعد میں اسے بھلا دیا گیا۔ دونوں ریاستوں کے لئے گریجن یونیورسٹیز کے قیام کا 13 ویں شیڈول میں وعدہ کیا گیا لیکن یونیورسٹی صرف آندھراپردیش کے لئے منظور کی گئی۔ مرکز نے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے قیام کا تیقن دیا تھا لیکن اس پر عمل آوری نہیں کی گئی ۔ ونود کمار نے کہا کہ تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کے حقوق کے بارے میں جاریہ پارلیمنٹ سیشن میں جدوجہد کی جائے گی ۔ حکومت نے اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک عمل نہیں کیا گیا۔ ونود کمار نے کہا کہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں تلنگانہ میں منظور کی گئی ریلوے لائینس کافی کم ہے ۔ ریلوے بجٹ میں تلنگانہ کیلئے جو اعلانات کئے گئے وہ محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں۔ قومی شاہراہوں کیلئے ٹی آر ایس کی جدوجہد کے بعد نئی شاہراہیں منظور کی گئیں۔ ونود کمار نے کہا کہ جاریہ پارلیمنٹ سیشن میں تلنگانہ کے تمام مسائل پر جدوجہد کی جائے گی۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ اس بات کی کوشش کریں گے کہ تیقنات اور اعلانات پر عمل آوری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے واضح اقدامات نہ ہونے کے باوجود تلنگانہ حکومت نے ریاست کو ترقی کے معاملہ میں ملک میں سرفہرست بنادیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT