Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی بجٹ اجلاس کی جھلکیاں

آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی بجٹ اجلاس کی جھلکیاں

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں ریاستی قانون ساز اسمبلی کا امکانی آخری مختصر مدتی بجٹ سیشن آج شاید پہلی مرتبہ مقررہ وقت سے تقریبا 9 منٹ تاخیر سے شروع ہوا ۔ اس طرح دس بجے کے بجائے دس بج کر 9 منٹ پر ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا ۔ جو کہ ریاستی اسمبلی کی روایت کے مغائر ثابت ہوا ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ریاست

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں ریاستی قانون ساز اسمبلی کا امکانی آخری مختصر مدتی بجٹ سیشن آج شاید پہلی مرتبہ مقررہ وقت سے تقریبا 9 منٹ تاخیر سے شروع ہوا ۔ اس طرح دس بجے کے بجائے دس بج کر 9 منٹ پر ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا ۔ جو کہ ریاستی اسمبلی کی روایت کے مغائر ثابت ہوا ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی اجلاس کے مقررہ وقت کے بجائے تاخیر سے شروع ہونے کی شاید سابق میں ایسی کوئی نظر نہیں ملے گی ۔۔
l ریاستی قانون ساز اسمبلی کے مختصر مدتی بجٹ سیشن کے موقعہ پر آج سب سے پہلے ٹھیک 9 بجکر 48 منٹ پر ریاستی وزیر معدنیات شریمتی گلا ارونا کماری ایوان میں داخل ہوئیں اور اپنی نشست پر بیٹھ گئیں جس کے ساتھ ہی سکریٹری قانون ساز اسمبلی مسٹر راجہ سدا رام نے ان کے ( وزیر کے) قریب پہونچ کر خیر مقدم کیا ۔ اسی دوران چیف مارشل اسمبلی نے ایوان میں وزیر فینانس کی جانب سے بجٹ کی پیشکشی کے دوران کسی امکانی ہنگامہ آرائی اور وزیر موصوف سے بجٹ کی کاپی چھیننے کی کوشش کے پیش نظر وزیر فینانس کی نشست کے پاس کسی رکن کو قریب نہ آنے دینے کے لیے ایوان میں تعین کردہ دو ملازمین کو کھڑا کر کے انتہائی چوکس رہنے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنے کے لیے سختی سے نمٹنے کی ہدایت دی ۔۔
l ایوان میں داخل ہونے والے دوسرے وزیر مسٹر آر وینکٹ ریڈی وزیر ہارٹیکلچر تھے ۔ اس طرح پھر ریاستی وزراء مہیدھر ریڈی وزیر بلدی نظم و نسق ، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی وزیر بھاری مصنوعات ، شریمتی سنیتا لکشما ریڈی وزیر بہبودی خواتین و اطفال کے علاوہ بی ستیہ نارائنا وزیر ٹرانسپورٹ اور کے مرلی ایوان میں داخل ہوئے اور تمام وزراء ایک ہی جگہ ٹہر کر شاید دہلی میں چند روز قبل خاتون وزراء کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر گفتگو کی ۔۔
l اسی دوران جب ریاستی وزیر معدنیات شریمتی گلا ارونا کماری کی نظر ڈاکٹر گیتا ریڈی پر پڑی اچانک اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہو کر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی سے بغل گیر ہوئیں اور سمجھا جاتا ہے کہ دہلی میں گذشتہ دنوں ان کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اپنی بھر پور ہمدردی و اظہار یگانگت کیا ۔۔
l اپوزیشن ارکان مسٹر ٹی ناگیشور راؤ ( تلگو دیشم ) ، ٹی ہریش راؤ ( تلنگانہ راشٹرا سمیتی ) مقررہ وقت سے قبل ہی ایوان میں داخل ہوئے بالخصوص شریمتی وائی ایس وجیما قائد وائی ایس آر کانگریس مقننہ پارٹی ٹھیک 9 بجکر 58 منٹ پر شریمتی شوبھا ناگی ریڈی رکن اسمبلی کے ہمراہ ایوان میں داخل ہوئیں ۔۔
l ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر مہیدھر ریڈی نے 10 بجکر 5 منٹ پر جوائنٹ سکریٹری ریاستی اسمبلی کو اپنی گھڑی کا وقت بتاتے ہوئے ہونے والی تاخیر کی وجہ دریافت کی ۔۔
l اسی دوران کانگریس ارکان ( تلنگانہ ) و سیما آندھرا کے علاوہ تلگو دیشم وائی ایس آر کانگریس ارکان ، ٹی آر ایس ارکان کثیر تعداد میں ایوان میں داخل ہوئے ۔۔
l ریاستی وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی جو ٹھیک 10 بجکر 8 منٹ پر اپنی بجٹ تقریر شروع کرنے والے تھے ۔ تقریبا 10 بجکر 7 منٹ پر ایوان میں ایک چھوٹے سے بیاگ کے ساتھ داخل ہوئے ۔۔
l ایوان کی کارروائی کا آغاز کرنے کے لیے ٹھیک 10 بجکر 8 منٹ پر اسمبلی کی بیل ( گھنٹی ) بجائی گئی ۔
l اسپیکر ریاستی اسمبلی مسٹر ین منوہر اور ریاستی چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی دونوں ایک ساتھ 10 بجکر 9 منٹ پر ایوان میں داخل ہوئے ۔
l ریاستی وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی نے ٹھیک 10 بجکر 10 منٹ پر ووٹ آن اکاونٹ بجٹ ( علی الحساب بجٹ ) پر اپنی تقریر کا آغاز کیا ۔ اور صرف دس منٹ میں وزیر موصوف نے اپنی بجٹ تقریر ختم کی ۔۔
l ریاستی قانون ساز اسمبلی میں جب وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی اپنا ووٹ آن اکاونٹ ( علی الحساب ) بجٹ پیش کررہے تھے تب ایوان میں ارکان اسمبلی بہت ہی کم تعداد میں شریک تھے ۔
l قائد اپوزیشن مسٹر این چندرا بابو نائیڈو ووٹ آن اکاونٹ ( علی الحساب ) بجٹ کی پیشکشی کے موقعہ پر ایوان سے غیر حاضر تھے ۔
l آج ریاستی قانون ساز اسمبلی میں کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیما آندھرا ارکان اسمبلی میں کوئی جوش و خروش نہیں دیکھا گیا ۔
l اسپیکر ریاستی اسمبلی مسٹر ین منوہر بھی مقررہ وقت سے تقریبا 9 منٹ تاخیر کے ساتھ کرسی صدارت پر فائز ہوئے تھے ۔ وزیر فینانس کی جانب سے بجٹ تقریر ختم کرنے کے ساتھ ہی ٹھیک 10 بجکر 20 منٹ پر ایوان کی کارروائی کو 12 فروری صبح 10 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT