Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کیلئے کانگریس کی مشروط آمادگی

آندھرا پردیش میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کیلئے کانگریس کی مشروط آمادگی

ریاست کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ، پارٹی قائدین کی راہول گاندھی سے ملاقات
امراوتی۔13 جولائی (پی ٹی آئی) کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے آج کہا کہ ان کی پارٹی آندھرا پردیش میں ازسرنو حد بندی کی اس وقت تک تائید نہیں کرے گی جب تک مرکز کی جانب سے ریاست کو خصوصی موقف نہیں دیا جاتا۔ کانگریس لیڈر نے آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین کے وفد کو بتایا کہ کانگریس ازسرنو حد بندی بل کی تائید کرتی ہے لیکن مرکز کو پہلے آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014ء میں کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے راجیہ سبھا میں یہ وعدہ کیا تھا کہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی کا یہ فیصلہ حکمراں تلگو دیشم پارٹی کیلئے ایک دھکہ ہے جسے حد بندی سے متعلق بل منظور ہونے کی توقع تھی۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں اگر یہ بل منظور کرلیا جائے تو آندھرا پردیش میں اسمبلی نشستوں کی موجودہ تعداد 175 سے بڑھ کر 225 ہوجائے گی۔ راجیہ سبھا میں چونکہ این ڈی اے اقلیت میں ہے، اس لئے بل کو کانگریس کی تائید اہمیت رکھتی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی صدر این رگھوویرا ریڈی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت جس میں تلگو دیشم بھی ایک فریق ہے، ان وعدوں کی پاسداری کرے، بالخصوص آندھرا پردیش کو خصوصی موقف اور وشاکھاپٹنم میں ریلوے زون کے قیام کا وعدہ پورا کیا جائے۔ بصورت دیگر راہول گاندھی نے ہم سے کہا ہے کہ حد بندی بل کی تائید نہ کریں۔ اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ 2019ء میں تلگو دیشم کیلئے کافی اہمیت کا حامل ہے۔پارٹی کی جانب سے مرکز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اس ضمن میں ضابطہ کی تکمیل کی جائے۔ مرکز نے ابتداء میں کہا تھا کہ 2026ء سے پہلے یہ مرحلہ شروع نہیں کیا جائے گا لیکن بعد میں مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے تلگو دیشم کی ایماء پر یہ معاملہ شخصی طور پر مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے رجوع کیا۔ وزیر فینانس رائی رام کرشنوڈو نے کہا کہ حد بندی کی مخالفت ایک اور دغا بازی ہے۔ کانگریس نے پہلے ہی آندھرا پردیش ریاست کو تقسیم کرتے ہوئے سنگین ناانصافی کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کی راہول گاندھی کی جانب سے مخالفت کو سیاسی اور سماجی دغا بازی سمجھا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT