Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں اقلیتی بہبود کیلئے محض 379 کروڑ کابجٹ

آندھرا پردیش میں اقلیتی بہبود کیلئے محض 379 کروڑ کابجٹ

2015-16 کے بجٹ سے چندرا بابو نائیڈو کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھل گئی

2015-16 کے بجٹ سے چندرا بابو نائیڈو کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھل گئی
حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے مالیاتی سال 2015-1کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ 379کروڑ مختص کیا ہے جس میں منصوبہ جاتی مصارف کے تحت 370کروڑ 40لاکھ مختص کئے گئے جبکہ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت 8کروڑ 41لاکھ 29ہزار روپئے رکھے گئے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ جاریہ مالیاتی سال کے مقابلہ میں بجٹ میں اضافہ کیا تاہم یہ اضافہ حوصلہ افزاء قرار نہیں دیا جاسکتا۔2014-15 میں آندھرا پردیش حکومت نے پلان بجٹ کے تحت 246کروڑ 72لاکھ 40ہزار مختص کئے تھے۔ وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو نے آج آندھرا پردیش اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔ آندھرا پردیش حکومت نے ’ روشنی‘ اور ’ دکان مکان ‘ اسکیمات کا احیاء کیا ہے تاہم اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی سے متعلق کوئی نئی اسکیم شروع نہیں کی گئی اور موجودہ اسکیمات کیلئے بجٹ میں الاٹمنٹ اطمینان بخش نہیں ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں اگرچہ بلند بانگ دعوے کئے ہیں تاہم بجٹ کی پیشکشی کے ذریعہ وہ اپنے دعوؤں کی سنجیدگی کو ثابت نہ کرسکے۔ 379 کروڑ کے بجٹ میں جن اہم اسکیمات کیلئے رقم منظور کی گئی ان میں اقلیتی طلبہ کی فیس باز ادائیگی کیلئے 85کروڑ، اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپ کیلئے 60کروڑ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی کیلئے 60کروڑ، اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی صورتحال کا جائزہ اور اس سے متعلق اسکیمات کیلئے 10کروڑ 8لاکھ، مسلم طالبات کیلئے اقامتی اسکولس کی تعمیر کے سلسلہ میں 3کروڑ63لاکھ ، اقلیتی طلبہ کیلئے ہاسٹلس اور اقامتی اسکولس کی تعمیر کیلئے 23کروڑ اور اردوگھر شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 5کروڑ روپئے شامل ہیں۔جن دیگر اداروں اور اسکیمات کیلئے بجٹ مختص کیا گیا ان میں اقلیتی فینانس کارپوریشن 9کروڑ ، اردو اکیڈیمی ایک کروڑ ، وقف بورڈ 2کروڑ، سی ای ڈی ایم 6کروڑ، حج کمیٹی 2کروڑ ، کرسچین فینانس کارپوریشن ایک کروڑ، عیسائیوں کو یروشلم کے دورہ کے سلسلہ میں سبسیڈی کے طور پر 50لاکھ شامل ہیں مرکزی اسکیمات میں ریاست کی حصہ داری کے طور پر ایم ایس ڈی پی اسکیم کیلئے 60کروڑ اور مرکز کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے 40کروڑ الاٹ کئے گئے۔ آندھرا پردیش حکومت نے اجتماعی شادیوں، دائرۃ المعارف اور سروے کمشنر وقف کیلئے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی ہے جبکہ گزشتہ سال اجتماعی شادیوں کیلئے50لاکھ، دائرۃ المعارف کیلئے33لاکھ اور سروے کمشنر وقف کیلئے ایک کروڑ 83لاکھ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ یروشلم کے دورہ کی سبسیڈی کے سلسلہ میں جاریہ سال کوئی بجٹ نہیں تھا تاہم آئندہ سال50لاکھ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایم ایس ڈی پی کے تحت گزشتہ سال 10کروڑ رکھے گئے تھے تاہم اس سال اس میں اضافہ کرتے ہوئے 60کروڑ کیا گیا۔ مرکز کی میرٹ کم مینس اسکالر شپ کیلئے ریاست کی حصہ داری کے طور پر جاریہ سال 5کروڑ کی گنجائش تھی لیکن 2015-16میں اس کے لئے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا۔ آندھرا پردیش حکومت نے سبسیڈی کی فراہمی، فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ غیر منصوبہ جاتی بجٹ کے تحت اقلیتی کمیشن کو 67 لاکھ روپئے مختص کئے گئے جبکہ جاریہ سال صرف 8لاکھ 82ہزار کا بجٹ دیا گیا تھا۔آندھرا پردیش حکومت نے اردو اکیڈیمی اور وقف بورڈ کے بجٹ میں جاریہ سال کے مقابلہ کمی کردی ہے جبکہ سی ای ڈی ایم اور حج کمیٹی کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT