Wednesday , December 19 2018

آندھرا پردیش میں امن و ضبط کی صورتحال پر اسمبلی میں ہنگامہ ، کارروائی ملتوی

وائی ایس آر کانگریس کا احتجاج ، جگن موہن ریڈی کے ریمارکس پر تلگو دیشم ارکان کا اعتراض

وائی ایس آر کانگریس کا احتجاج ، جگن موہن ریڈی کے ریمارکس پر تلگو دیشم ارکان کا اعتراض
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے آندھرا پردیش میں امن و ضبط کی صورتحال کے مسئلہ پر مباحث کا موقعہ فراہم کرنے کے مطالبہ پر زبردست ہنگامہ آرائی ، شور و غل شدید احتجاج و نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ ایکدوسرے پر الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مذکورہ مسئلہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے شدید احتجاج کا مظاہرہ کیا ۔ جس کے پیش نظر کرسی صدارت پر فائز اسپیکر اسمبلی آندھرا پردیش ڈاکٹر کے شیوا پرساد راؤ نے احتجاجی ارکان سے ایوان میں نظم کو برقرار رکھنے میں تعاون کرنے کی متعدد مرتبہ اپیلیں کیں ۔ لیکن ان اپیلوں کا کوئی اثر نہ ہونے پر اسپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارروائی کو پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور پھر بعد ازاں ایوان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے ایوان میں احتجاج شور و شرابہ ہنگامہ آرائی جوں کی توں برقرار تھی ۔ وزیر فینانس و امور مقننہ مسٹر وائی ورما کرشنوڈو نے مداخلت کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے اپوزیشن سے تعاون کرنے کی پر زور اپیل کی ۔ اس کے باوجود اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے اپنے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے اسپیکر پوڈیم کا عملا محاصرہ کیا اور ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے میں رکاوٹیں حائل کیں ۔ اس موقعہ پر اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے احتجاجی ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے احتجاج کو جاری رکھا اور زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس دوران اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ امن و ضبط کی صورتحال پر مباحث کے لیے وقت درکار ہوگا ۔ حکومت کو مکمل تفصیلات اکٹھا کرنا ہوگا ۔ اس کے باوجود اپوزیشن ارکان نے اپنا سخت گیر موقف تبدیل نہیں کیا بلکہ سخت احتجاج کے دوران حکومت سے دریافت کیا کہ آیا انسانی قیمتی زندگیوں سے بھی کوئی اور مسئلہ حکومت کی نظر میں اہمیت کا حامل ہے ؟ صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی ، آندھرا پردیش میں امن و ضبط کی انتہائی ابتر صورتحال پر حکومت کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اور آندھرا پردیش میں تلگو دیشم پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی گذشتہ تین ماہ کے دوران سیاسی قتل کے واقعات میں زبردست اضافہ پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس موجودہ تلگو دیشم حکومت میں عام آدمی کی زندگی کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں ہے اور ہر ایک میں اپنے عدم تحفظ کا اظہار پایا جارہا ہے ۔ انہوں نے اسپیکر آندھرا پردیش اسمبلی سے مسئلہ کی سنگینی و اہمیت کو دیکھتے ہوئے مباحث کا موقعہ فراہم کرنے کی پر زور اپیل کی ۔ اس دوران مسٹر جگن موہن ریڈی کے بعض ریمارکس پر برسر اقتدار تلگو دیشم پارٹی کے ارکان نے شدید اعتراض کیا ۔ اسی دوران وزیر امور مقننہ و فینانس مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سابق میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں پیش آئے سیاسی قتل واقعات پر بھی مباحث کے لیے بھی حکومت کے تیار رہنے کا اظہار کیا اور کہا کہ سال 2004 سے 2013 تک پیش آئے سیاسی قتل واقعات پر تفصیلی مباحث کی شدید ضرورت ہے ۔ مسٹر کے اچن نائیڈو وزیر محنت و روزگار نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے دریافت کیا کہ سابق رکن اسمبلی مسٹر پریٹالا روی کا ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں دن دھاڑے آفس کے روبرو قتل کیا گیا تھا ۔ اس وقت انسانی جانوں کا پاس و لحاظ اور خیال نہیں آیا تھا ؟ انہوں نے مسٹر جگن موہن ریڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں محروس افراد کو قتل کروانے کا اعزاز بھی تم ہی لوگوں کو حاصل ہے ۔ اس پر ایوان میں زبردست احتجاج و ہنگامہ برپا ہوا ۔ اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی ارکان اسمبلی نے واضح طور پر کہا کہ مباحث کے دوران تلگو دیشم پارٹی کی قتل سیاست کا بھی پردہ فاش کیا جائے گا ۔ ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی و احتجاجی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے اسپیکر اسمبلی ڈاکٹر سیوا پرساد راؤ نے ایوان کی کارروائی کو پھر ایکبار 15 منٹ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ۔ جب پھر دوبارہ ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا تب بھی ایوان میں ہنگامہ آرائی کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT