Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں بھی کے سی آر کی مقبولیت

آندھرا پردیش میں بھی کے سی آر کی مقبولیت

پوسٹرس اور فلیکسی پر چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ چیف منسٹر تلنگانہ کی تصویر آویزاں
حیدرآباد ۔ 4۔ اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مقبولیت تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش میں بھی دکھائی دے رہی ہے ۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم قائدین نے اپنے پوسٹرس پر چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ کے سی آر کی تصویر آویزاں کی ہے۔ کے سی آر کی یہ مقبولیت تلگو دیشم پارٹی میں موضوع بحث بن چکی ہے۔ پارٹی کی توسیع کیلئے گزشتہ دنوں ’’گھر گھر تلگو دیشم‘‘ پروگرام کا آغاز کیا گیا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ پارٹی سے قریب لایا جائے۔ پرکاشم ضلع کے بیلی کروا منڈل میں مقامی تلگو دیشم قائدین نے اس اسکیم کا ایک بڑا پوسٹر اور فلیکسی آویزاں کی ہے جس پر این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ کے سی آر کی تصویر کو شامل کیا گیا۔ مقامی رکن اسمبلی جی روی کمار کے استقبال کیلئے مقامی سرپنچ پروین کمار نے یہ فلیکسی لگائی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں کے سی آر کے دو مرتبہ دورہ آندھراپردیش سے متاثر ہوکر تلگو دیشم قائدین نے ان کی تصویر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ دنوں کے سی آر نے اننت پور پہنچ کر تلگو دیشم قائد پی سنیتا کے فرزند کی تقریب شادی میں شرکت کی تھی۔ اس موقع پر موجود سینکڑوں کی تعداد میں عوام نے کے سی آر کا والہانہ استقبال کیا تھا۔ کے سی آر کے اننت پور میں مختصر توقف کے دوران جگہ جگہ عوام کی جانب سے استقبال ان کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ ساتھ آندھراپردیش میں بھی کے سی آر کی مقبولیت پر ٹی آر ایس حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ آندھراپردیش کے مختلف علاقوں میں کے سی آر کی سالگرہ تقاریب منائی گئی تھی اور ان کے حامیوں نے کیک کاٹ کر خوشی کا اظہار کیا تھا ۔ کے سی آر کے دورہ تروپتی کے موقع پر بھی آندھرا میں موجود ان کے حامیوں نے استقبال کیا تھا ۔ ٹی آر ایس حلقوں کا کہنا ہے کہ کے سی آر نے عوام کی بھلائی کیلئے جن اسکیمات کا آغاز کیا ہے، اس کے سبب وہ آندھرا کے عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکے ہیں۔ کے سی آر دونوں تلگو ریاستوں کی بیک وقت ترقی کے خواہاں ہیں۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT