Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں کمپیوٹر سنٹرس و لائبریز کو عصری بنانے کا فیصلہ

آندھرا پردیش میں کمپیوٹر سنٹرس و لائبریز کو عصری بنانے کا فیصلہ

اقلیتی طلبہ کے لیے کمپیوٹر کورس ، اردو اکیڈیمی کا نندیال میں اجلاس
حیدرآباد ۔ 11۔ اکتوبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش اردو اکیڈیمی نے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو عصری بناتے ہوئے اقلیتی طلبہ کیلئے کمپیوٹر کورسس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو اکیڈیمی کا اجلاس آج نندیال میں منعقد ہوا جس کی صدارت اکیڈیمی کے صدرنشین شیخ محمد نعمان نے کی۔ نائب صدرنشین محمد افسر اور سکریٹری ڈائرکٹر اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شریک تھے ۔ آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے صدرنشین این محمد فاروق نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اکیڈیمی پر زور دیا کہ وہ اردو کی ترقی و ترویج کیلئے نئی اسکیمات تیار کرے۔ این محمد فاروق نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت اردو زبان کی ترقی کے حق میں ہے اور موجودہ 13 اضلاع کے منجملہ 6 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کے تقررات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اردو ذریعہ تعلیم سے اقلیتی طلبہ کو منسلک رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ذریعہ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار پر مبنی کورسس میں ٹریننگ دی جائے گی تاکہ اقلیتی امیدوار تعلیم کی تکمیل کے بعد روزگار حاصل کر سکیں۔ این فاروق نے بتایا کہ رائلسیما اور آندھرا کے کئی علاقوں میں اردو میڈیم مدارس کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ وزیر اقلیتی بہبود تھے ، انہوں نے نندیال میں اردو گھر شادی خانہ تعمیر کیا تھا۔ انہوں نے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کی تعداد میں اضافہ کی تجویز پیش کی۔ سکریٹری ڈائرکٹر پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ آندھراپردیش میں 36 کمپیوٹر سنٹرس اور 37 لائبریریز ہیں۔ تمام کمپیوٹر سنٹرس کو عصری کمپیوٹرس کے ذریعہ ترقی دی گئی ہے ۔ ہر سنٹر کو 6 کمپیوٹر ، پرنٹر ، اسکیانر اور انٹرنیٹ کنکشن فراہم کیا گیا۔ کمپیوٹر سنٹرس میں داخلوں کیلئے انٹرنس امتحان مکمل ہوچکا ہے اور بہت جلد داخلوں کا آغاز ہوگا۔ کمپیوٹر کے عصری کورسس کی تربیت کیلئے موجودہ فیکلٹیز کو ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور انہیں نامور اداروں میں اورینٹیشن کورس کے ذریعہ تربیت دی جائے گی۔ مستقبل میں کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو مربوط کرتے ہوئے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی ۔ اس فیصلہ سے اسٹاف کی قلت کا مسئلہ بھی دور ہوگا۔ اکیڈیمی نے نومبر میں کرنول میں کل ہند مشاعرہ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے ۔ بعد میں کڑپہ میں بھی شامِ غزل یا مشاعرہ منعقد کیا جائے گا ۔ 11 نومبر کو مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر مولانا آزاد قومی ایوارڈ پیش کیا جائے گا ۔ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ ہر سال مولوی عبدالحق ایوارڈ پیش کیا جائے۔ اردو اکیڈیمی کیلئے 32 کروڑ کا بجٹ ہے ، جس میں سے 8 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ 11 نومبر کو قومی ایوارڈ کے علاوہ بیسٹ اردو ٹیچر اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹ ایوارڈس پیش کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT