Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں ہر الیکشن میں نئی جماعتوں کا قیام

آندھرا پردیش میں ہر الیکشن میں نئی جماعتوں کا قیام

ٹی آرا یس اور پرجا راجیم کے بعد اب وائی ایس آر کانگریس کا انتخابی میدان میں داخلہ

ٹی آرا یس اور پرجا راجیم کے بعد اب وائی ایس آر کانگریس کا انتخابی میدان میں داخلہ

حیدرآباد 7 مارچ ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں 2004 کے بعد سے ہر عام انتخابات میں کوئی نہ کوئی نئی سیاسی جماعتیں میدان میں اترتی ہیں۔ 2004 میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی سامنے آئی تھی اور 2009 میں پرجا راجیم نے مقابلہ کیا تھا اور اب 2014 میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی مقابلہ کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی نئی جماعت بھی مقابلہ کرسکتی ہے جس کے نام کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ سیاسی قائدین کی جانب سے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے جماعتیں قائم کی جاتی ہیں اور انتخابی مقابلے کئے جاتے ہیں حالانکہ بعض جماعتوں کے ساتھ زمینی حقائق قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو ایک تحریک کے طور پر 2001 میںشروع کیا گیا تھا تاکہ تلنگانہ کیلئے علیحدہ ریاست کا درجہ حاصل کیا جاسکے ۔ 2004 میں اس پارٹی نے سیاسی جماعت کی طرح انتخابات میںم قابلہ کیا ۔ یہ جماعت صرف تلنگانہ تک محدود تھی اور اس کا سیاسی عروج و زوال نشیب و فراز کا شکار رہا ہے ۔ اب جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آ رہی ہے تلنگانہ راشٹرا سمیتی ایک مکمل جماعت بن چکی ہے اور اسے امید ہے کہ اس بار اسے اچھی کامیابی ملے گی ۔ تلگوفلموں کے میگا اسٹار کے چرنجیوی نے 2008 میں اپنی نئی سیاسی جماعت پرجا راجیم قائم کی جس کا مقصد نظام میں تبدیلی لانا تھا ۔

پی آر پی جو کچھ چاہتی تھی وہ اسے انتخابات میں حاصل نہیں ہوسکا تھا تاہم اس کی وجہ سے تلگودیشم کو شکست کا سامنا کرنا پڑآ تھا ۔ چار سال سے بھی کم وقت میں پرجا راجیم پارٹی نے خود کو کانگریس میںضم کرلیا ۔ 2009 کے انتخابات میں لوک ستہ نے بھی مقابلہ کیا تھا تاہم اسے صرف اس کے صدر این جئے پرکاش نارائن کی کامیابی پر ہی اکتفا کرنا پڑآ تھا ۔ پارٹی اصلاح پسندی کے ایجنڈے کے ساتھ میدان میں آئی تھی ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی تین سال قبل قائم کی گئی جب سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے فرزند وائی ایس جگن موہن ریڈی کو ان کے والد کی موت پر چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کرنے سے روک دیا گیا تھا ۔ جگن نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی تشکیل دی ۔ جگن کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ وہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے والد کے ادھوے کاموں کو پورا کیا جاسکے ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی علاقائی جماعت کے طور پر ابھری تھی تاہم تلنگانہ ریاست کی شدید مخالفت کی وجہ سے اسے یہاں قدرے مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ ٹی آر ایس نے 2004 کے انتخابات میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کرتے ہوئے مقابلہ کیا تھا ۔ اس نے لوک سبھا کی پانچ اور اسمبلی کی 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم جب تک اسمبلی کی معیاد مکمل ہوتی اس کے ارکان اسمبلی کی تعداد نصف رہ گئی تھی ۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 9 پر )

TOPPOPULARRECENT