Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں 1,13,049 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش

آندھرا پردیش میں 1,13,049 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش

حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے اس مرتبہ بھی اقلیتی طبقات ( مسلمانوں ) کی فلاح و بہبود کیلئے برائے نام 379 لاکھ روپئے سال 2015-16 کے بجٹ میں مختص کرکے اقلیتوں سے متعلق اپنی تنگ ذہنیت کا ثبوت دیا ۔ حکومت نے 2015-16 کیلئے 1,13,049 لاکھ کروڑ روپئے مصارف پر مشتمل بجٹ اسمبلی میں پیش کیا جس میں غیر منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ بجٹ 78,6

حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے اس مرتبہ بھی اقلیتی طبقات ( مسلمانوں ) کی فلاح و بہبود کیلئے برائے نام 379 لاکھ روپئے سال 2015-16 کے بجٹ میں مختص کرکے اقلیتوں سے متعلق اپنی تنگ ذہنیت کا ثبوت دیا ۔ حکومت نے 2015-16 کیلئے 1,13,049 لاکھ کروڑ روپئے مصارف پر مشتمل بجٹ اسمبلی میں پیش کیا جس میں غیر منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ بجٹ 78,637 کروڑ روپئے اور منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ بجٹ 34,412 کروڑ روپئے شامل ہیں جبکہ تخمینی خسارہ آمدنی 7300 کروڑ روپئے اور تخمینہ مالیاتی خسارہ 17584 کروڑ روپئے ہے۔ آج صبح 10بجے جیسے ہی آندھرا پردیش اسمبلی میں ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا، اسپیکر اسمبلی ڈاکٹر سیوا پرساد راؤ نے بجٹ کی پیشکشی کا اعلان کرکے وزیر فینانس وائی راما کرشنوڈو کو بجٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ راما کرشنوڈو نے اپنی بجٹ تقریر کے آغاز میں کہا کہ حکومت ریاست کو سنہرا آندھرا پردیش بنانے وقف ہوچکی ہے۔ وزیر فینانس نے 60صفحات پر مشتمل تلگو زبان میں اپنی بحث تقریباً دو گھنٹوں میں مکمل کی۔ انہوں نے بتایا کہ محدود وسائل کے باوجود قابل عمل بجٹ پیش کیا جارہا ہے جبکہ تقسیم آندھرا پردیش کی وجہ سے ریاست کے وسائل میں کمی سے تمام ارکان واقف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 14 ویں فینانس کمیشن سفارشات کی روشنی میں ریاست کو حاصل ہونے والے بعض اسکیمات کو ختم کررہی ہے جس کی وجہ سے آندھرا پردیش حکومت پر بھاری زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ جاریہ سال مرکزی حکومت سے آندھرا پردیش کو حاصل ہوئے فنڈز کے مقابلہ میں سال 2015-16 میں توقع کے مطابق مرکزی بجٹ رقومات حاصل نہیں ہورہی ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت سال 2014-2015 کے بجٹ کے مقابلہ میں معمولی اضافہ رقومات کے ذریعہ سال 2015-16کیلئے مختلف محکمہ جات کیلئے جو بجٹ رقومات مختص کی گئی ان میں محکمہ ریونیو کیلئے 4360 کروڑ ‘ محکمہ پولیس کیلئے 4062 کروڑ روپئے ‘ محکمہ سیاحت و ثقافت کیلئے 339 کروڑ روپئے‘ محکمہ ٹرانسپورٹ کیلئے 122 کروڑ روپئے ‘ محکمہ جنگلات کیلئے 284 کروڑ ‘اسپورٹس کیلئے 45 کروڑ روپئے ‘ محکمہ لیبر کیلئے 281 کروڑ روپئے ‘ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 370 کروڑ روپئے ‘ محکمہ انڈسٹری کیلئے 637 کروڑ روپئے ‘انفراسٹرکچر سہولتوں و سرمایہ کاری کیلئے 195 کروڑ روپئے ‘ محکمہ عمارت و شوراع کیلئے 2960 کروڑ روپئے ۔ دارالحکومت کی تعمیر کیلئے 3168 کروڑ روپئے ‘دیہی آبرسانی کیلئے 881 کروڑ روپئے ‘محکمہ پنچایت راج کیلئے 296 کروڑ روپئے ‘دارالحکومت کیت عمیر کیلئے 3168 کروڑ روپئے دیہی آبرسانی کیلئے 881 کروڑ روپئے محکمہ پنچایت راج کیلئے 296 کروڑ روپئے دیہی ترقیات کیلئے 8212 کروڑ روپئے ‘ محکمہ اعلی تعلیم کیلئے 3049 کروڑ روپئے انٹر میڈیٹ تعلیم کیلئے 585 کروڑ روپئے ‘محکمہ اسکولی تعلیم کیلئے 14962 کروڑ روپئے محکمہ صحت و طبابت کیلئے 5728 کروڑ روپئے محکمہ تعمیر امکنہ جات 897 کروڑ روپئے جسمانی معذورین کی فلاح و بہبود کیلئے 45کروڑ روپئے محکمہ آبپاشی کیلئے 5258کروڑ روپئے ‘بہبودی حواتین و اطفال کیلئے 1080کروڑ روپئے اقلیتی بہبود کیلئے 379کروڑ روپئے پسماندہ طبقات کی بہبود کیلئے 3271 کروڑ روپئے ‘قبائیلی بہبود کیلئے 993 کروڑ روپئے محکمہ سماجی بھلائی کیلئے 2123 کروڑ روپئے شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT