Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد کئی اداروں کی برقراری پر سوالیہ نشان

آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد کئی اداروں کی برقراری پر سوالیہ نشان

اقلیتی کمیشن و مالیاتی کارپوریشن کے صدور عہدوں پر رہنے بضد ، حکومتیں نئے تقررات کرنے کوشاں

اقلیتی کمیشن و مالیاتی کارپوریشن کے صدور عہدوں پر رہنے بضد ، حکومتیں نئے تقررات کرنے کوشاں

حیدرآباد۔/5جون، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے بعد کئی اداروں کی برقراری پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ان میں اقلیتی بہبود کے دو ادارے اقلیتی کمیشن اور اقلیتی فینانس کارپوریشن شامل ہیں۔ این کرن کمار ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت نے ان دونوں اداروں پر صدورنشین اور ارکان کا انتخاب کیا تھا لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد ان اداروں کی برقراری پر تعطل جاری ہے۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دونوں ریاستوں کی نئی حکومتیں ان اداروں پر نئے تقررات کرے گی لہذا موجودہ صدورنشین اور ارکان کو عہدوں سے مستعفی ہوجانا چاہیئے جبکہ ان اداروں کے صدورنشین کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اپنی میعاد کی تکمیل تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گورنر یا پھر حکومت کی جانب سے کوئی احکامات وصول نہیں ہوئے۔ واضح رہے کہ 26مئی 2013ء کو اقلیتی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس نے اپنی کارکردگی کا ایک سال مکمل کرلیا جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تشکیل کرن کمار ریڈی کے استعفی سے عین قبل عمل میں آئی۔ ریاست کی تقسیم کے مرحلہ میں ان اداروں کو شیڈول 10 میں شامل کیا گیا ہے جس کا مطلب 2جون کے بعد ان اداروں کی تقسیم ہے۔ اقلیتی کمیشن کے صدرنشین عابد رسول خاں نے بتایا کہ ان کی میعاد تین سالہ ہے اور وہ میعاد کی تکمیل تک عہدہ پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ موجودہ اقلیتی کمیشن کو حکومت نے تلنگانہ کیلئے الاٹ کیا ہے اور آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے نئے کمیشن کی تشکیل تک موجودہ کمیشن ہی دونوں ریاستوں کیلئے خدمات انجام دے گا۔ اسی دوران سکریٹریٹ میں اقلیتی کمیشن کیلئے الاٹ کردہ دفاتر کے دو حصوں کو حکومت نے محکمہ فینانس کیلئے الاٹ کردیا ہے اور کمیشن سے تخلیہ پر زور دیا جارہا ہے۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار اقلیتی کمیشن پر تخلیہ کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ دفاتر کے دو حصے انہیں حکومت کی جانب سے الاٹ کئے گئے۔ اس سلسلہ میں صدرنشین اقلیتی کمیشن نے تلنگانہ کے چیف سکریٹری راجیو شرما سے بات چیت کی اور سکریٹریٹ یا اس کے باہر متبادل جگہ کی فراہمی کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مالیاتی تعاون کیلئے تیار ہو تو کمیشن سکریٹریٹ کے باہر کسی موزوں عمارت میں اپنا دفتر قائم کرلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی کمیشن کو حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب روزمرہ کی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔ حکومت نے گذشتہ مالیاتی سال کے اختتام سے عین قبل 36لاکھ روپئے کا بجٹ منظور کیا تھا تاہم اس کا بیشتر حصہ جاری نہیں کیا گیا۔ جاریہ مالیاتی سال حکومت نے صرف ایک لاکھ روپئے بجٹ منظور کیا ہے جو کہ کمیشن کی کارکردگی کیلئے ناکافی ہے۔ گذشتہ تین ماہ سے کمیشن کا اسٹاف تنخواہوں سے محروم ہے۔ اگر حکومت گذشتہ مالیاتی سال کی طرح کم از کم 36لاکھ روپئے جاری کرے گی تو اس سے کمیشن اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے کارکردگی جاری رکھ سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ سال کئی اُمور کی تکمیل صدرنشین نے اپنے ذاتی خرچ سے کی جس کی ابھی تک پابجائی نہیں کی گئی۔ اسی طرح اقلیتی فینانس کارپوریشن کے لئے سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے محمد ہدایت کو صدرنشین مقرر کیا گیا تھا۔ اب جبکہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم پارٹی برسراقتدار آچکی ہے لہذا موجودہ کارپوریشن کی برقراری ممکن نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد ہدایت تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے آندھرا پردیش میں اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے صدرنشین کے عہدہ پر برقرار رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقلیتی اداروں میں مذکورہ دو اداروں پر ہی گذشتہ حکومت نے تقررات کئے تھے جبکہ اردو اکیڈیمی، وقف بورڈ اور حج کمیٹی جیسے اہم اداروں پر کوئی تقررات نہیں کئے گئے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ تمام اقلیتی اداروں پر نئے تقررات کے حق میں ہیں اور اس سلسلہ میں موزوں افراد کی تلاش جاری ہے۔ ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے ان اداروں میں جگہ پانے کے لئے زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT