Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کی شرح آمدنی 87 ہزار کروڑ ، غربت کے تناسب میں کمی

آندھرا پردیش کی شرح آمدنی 87 ہزار کروڑ ، غربت کے تناسب میں کمی

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی نے کہا کہ 10 سالہ کانگریس کے دور حکومت میں کارکردگی کامیاب فیصلے اور اصلاحات کے باعث ریاست کی شرح آمدنی 87 ہزار کروڑ تک پہونچ گئی اور غربت کا تناسب 27 فیصد سے گھٹ کر 9 فیصد تک پہونچ گیا ۔ آج اسمبلی میں سال 2014-15 کا علی الحساب بجٹ پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی نے کہا کہ 10 سالہ کانگریس کے دور حکومت میں کارکردگی کامیاب فیصلے اور اصلاحات کے باعث ریاست کی شرح آمدنی 87 ہزار کروڑ تک پہونچ گئی اور غربت کا تناسب 27 فیصد سے گھٹ کر 9 فیصد تک پہونچ گیا ۔ آج اسمبلی میں سال 2014-15 کا علی الحساب بجٹ پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بحیثیت وزیر فینانس اسمبلی میں چوتھی مرتبہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی 10 سالہ کارکردگی مناسب فیصلے اور ضروری اصلاحات سے ریاست کو تیز رفتار ترقی ہونے کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود میں زبردست اضافہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 2004-05 کے دوران جب کانگریس نے تلگو دیشم سے اقتدار لے لیا تھا اس وقت ریاست کی مجموعی آمدنی صرف 16,255 ہزار کروڑ روپئے تھی جو 10 سالوں میں بڑھ کر 87,737 ہزار کروڑ تک پہونچ گئی ہے ۔ اسی طرح ٹیکس شرح آمدنی میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ فی کس آمدنی بھی قومی فی کس آمدنی سے بھی بہت زیادہ ہے ۔ حکومت نے ریاست کو ترقی دیتے ہوئے آمدنی کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کئے ہیں ۔ ریاست کی ترقی اور عوامی بہبود کو پیش نظر رکھتے ہوئے 12 ویں پلاننگ کمیشن نے سارے ملک میں ریاست آندھرا پردیش کو اپنے پنچسالہ منصوبہ میں سب سے زیادہ آندھرا پردیش کو فنڈز منظور کئے ہیں ۔

کانگریس حکومت نے آہستہ آہستہ شراب پر امتناع عائد کرنے کا وعدہ کیا مگر ہر سال اکسائز کی ذرائع آمدنی میں اضافہ ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر رام نارائن ریڈی نے کہا کہ حکومت نے اپنے وعدے پر عمل کیا ہے اور ہر سال شراب کی دوکانات کم ہوئی ہیں ۔ مگر آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ جاریہ سال 1200 دوکانات کو منظوری نہیں دی گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے علی الحساب بجٹ پیش کرنے سے قبل گورنر کا خطبہ نہ ہونے کا آرٹیکل 171 کی خلاف ورمی ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے روایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے علی الحساب بجٹ پیش کیا ہے ۔ یہ مکمل بجٹ نہیں ہے آئندہ تشکیل پانے والی حکومت مکمل پیش کرے گی ۔ اس سے قبل گورنر کا خطبہ بھی ہوگا ۔ 2004 اور 2009 کے انتخابات سے قبل بھی ایسا ہی بجٹ پیش کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ سکریٹری جنرل آف لوک سبھا سے بھی مشاورت کی گئی ہے ۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کے خطبہ کے بغیر پارلیمنٹ میں علی الحساب بجٹ پیش کرنے سے واقف کرایا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT