Tuesday , May 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کے اننت پور میں کوریائی موٹر ساز کمپنی کے یونٹ کا افتتاح

آندھرا پردیش کے اننت پور میں کوریائی موٹر ساز کمپنی کے یونٹ کا افتتاح

پانچ ہزار ملازمتیں ، علاقہ کی ترقی ، چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا خطاب
پینو کونڈا ۔ (اننت پور) /23 فبروری (محمد شہاب الدین ہاشمی کی رپورٹ) عالمی سطح پر موٹر کاروں کی تیاری میں اپنا اہم مقام رکھنے والی ساؤتھ کوریائی کار سازی کمپنی ’’کیا موٹرس ‘‘ (KIA-MOTORS) ریاست میں سال 2019 ء کے پہلے سہ ماہ کے دوران اپنی تیار کردہ موٹر کاروں کی نہ صرف آندھراپردیش بلکہ ہندوستانی مارکٹ میں فروخت کا آغاز کرے گی ۔ ریاست آندھراپردیش کے ضلع اننت پور ، پینو کونڈا میں ایرامنچی کے قریب ’’کیاموٹرس انڈیا ‘‘ کے فریم ورک انسٹالیشن کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر این چاندرا بابو نائیڈو نے اپنی اس توقع کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کی حکومت ریاست کو ’’آٹو موبائیل ھب‘‘ میں تبدیل کرنے کے اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیا موٹرس‘‘ فی الوقت اپنے تمام دیگر پلانٹس کے ذریعہ سالانہ (35) لاکھ موٹر کاروں کو تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ ’’کیا موٹرس انڈیا ‘‘ اپنے اس نئے پلانٹ کے ذریعہ ابتدائی مرحلہ میں ہی سالانہ زاید از تین لاکھ موٹر کاروں کی تیاری کو یقینی بنائے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا موٹرس انڈیا کے پینو کونڈا جیسے مقام پر قیام عمل میں آنے پر اپنی مسرت کا اظہار کیا اور اس کمپنی کے قیام کیلئے اراضی فراہم کرنے والے کسانوں ، اعلیٰ عہدیداروں بشمول ضلع انتظامیہ کی کاوشوں پر اظہار تشکر کیا ۔ اس کمپنی کے قیام پر چیف منسٹر نے کہا کہ کمپنی سے ضلع اننت پور کی قسمت ہی بدل جائے گی ۔ کمپنی میں چار ہزار بے روزگار افراد کو مستقل اساس پر ملازمتیں فراہم ہوں گی اور بالواسطہ طور پر زائد از سات ہزار ملازمتیں فراہم ہوں گے ۔ ’’ کیا موٹرس‘‘ کے تمام پلانٹس میں یہاں (پینو کونڈا میں) قائم کیا جانے والا پلانٹ میں سب سے بڑا پلانٹ ہوگا اور آئندہ چند برسوں سالانہ دس لاکھ کاروں کی تیاری متوقع ہے ۔ دنیا بھر میں موٹر سازی کمپنیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موٹر کاروں کی تیاری میں کوریا کے بعد ہندوستان کو ہی اعزاز حاصل ہے ۔ کیا موٹرس نے تعاون کا واضح تیقن دیا ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ کیا موٹرس انڈیا پلانٹ کے ذریعہ تقریباً (13) ہزار کروڑ روپیوں کی سرمایہ کاری آندھراپردیش کو حاصل ہوگی ۔ جبکہ پلانٹ کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے ہینری نیوا پراجکٹ کی تکمیل کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پینو کونڈا میں ساؤتھ کوریائی ٹاؤن شپ کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ دنوں میں کوئی بھی سرمایہ کاری کیلئے ریاست آندھراپردیش کو ہی اولین ترجیح دیں گے ۔ چندرا بابو نے اسکل ڈیولپمنٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے سروے کے حوالے سے بتایا کہ اسکل ڈیولپمنٹ میں ملک گیر سطح پر آندھراپردیش کو پہلا مقام حاصل ہے ۔ قبل ازیں صدرنشین و چیف ایکزیکٹیو آفیسر کیا موٹرس کارپوریشن ساؤتھ کوریا مسٹر ہن ووپارک (han-Woopark) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’کیا موٹرس ، کا سال 1944 ء میں قیام عمل میں لایا گیا اور پانچ ممالک میں کار سازی کے جملہ (14) پلانٹس ہیں جبکہ کیا موٹرس (180) ممالک کا احاطہ کرتی ہیں ۔ فی الوقت اس کمپنی میں (51) ہزار ملازمین پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ماہ اپریل 2017 ء میں آندھراپردیش کے ساتھ کمپنی نے یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے تھے ۔ منصوبہ کے مطابق پلانٹ کی تیاری مکمل ہونے کے ساتھ ہی کارسازی کا آغاز ہوگا اور آئندہ سال 2019 ء ماہ جون کے بعد ہی موٹر کاروں کی مارکٹ میں فروختگی ہوگی ۔ سال 2019 ء کے پہلے سہ ماہ یعنی ماہ مارچ کے بعد سے ہی شروع ہوسکتی ہے ۔ حکومت نے کیا موٹرس کیلئے زائد از (213.7) ہیکڑ اراضی فراہم کی ہے ۔ منیجنگ ڈائرکٹر کیا موٹرس انڈیا نے خیرمقدم کیا ۔ اس تقریب میں ریاستی وزراء کے سرینواس راؤ ، اوما مہیشور راؤ ، پریٹالہ سنیتا ، این کشٹیا ، جے سی دیواکر ریڈی ، ارکان پارلیمان ، پی رگھوناتھ ریڈی ، گورنمنٹ چیف وہپ ، پی کیشو گورنمنٹ وہپ و دیگر قائدین تلگودیشم بشمول رام موہن راؤ ، سابق ایم پی کے علاوہ شیخ محمد اقبال انسپکٹر جنرل آف پولیس رائلسیما و دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے ۔ بعد ازا ںچندرا بابو نائیڈو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ کیا موٹرس کمپنی کیلئے کئی ایک مواقع فراہم ہیں ۔ حکومت حیدرآباد ، بنگلور ، وشاکھاپٹنم، چینائی اور چینائی ۔ کرشنا پٹنم انڈسٹرئیل کاریڈارس کیلئے کوشاں ہے اور اس طرح دنیا بھر میں آٹو موبائیل شعبہ میں آندھراپردیش کو پانچواں مقام دلانے اہم مقصد ہے ۔ مرکزی حکومت اننت پور میں انرجی یونیورسٹی کے قیام کا تیقن دیا ہے ۔ ریاست میں (24600) کروڑ کی سرمایہ کاری کیلئے مختلف صنعتکاروں نے پہل کی ہے ۔ علاوہ ازیں (1946) یادداشت مفاہمتوں پر دستخظ کئے گئے ۔ اس طرح آئندہ دنوں میں جملہ 32 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسوزو ، ہیرو ، اشوک لی لینڈ ، اپولو ٹائیرس ، امرجیوتی بیاٹریز کے علاوہ اور بھی کمپنیوں کی بہت جلد سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی ۔ چیف منسٹر آندھراپردیش نے بتایا کہ ریاست آندھراپردیش میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کو ایک اہم و ’ایکسپورٹ ہب‘ بنایا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT