Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لیے مختلف اسکیمات

آندھرا پردیش کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لیے مختلف اسکیمات

وزیر فینانس مشاورت میں مصروف ، چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی پالیسیوں کے مطابق کام

وزیر فینانس مشاورت میں مصروف ، چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی پالیسیوں کے مطابق کام
حیدرآباد۔/15جولائی، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ہے۔ وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں اور وہ مختلف محکمہ جات سے علحدہ علحدہ مشاورت کے ذریعہ جاریہ مالیاتی سال بجٹ کی ضرورت اور اسکیمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے آج مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ پہلے مرحلہ کا اجلاس منعقد کیا جس میں آندھرا پردیش ریاست کی ترقی کیلئے درکار بجٹ کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کو طئے کرنے کیلئے 18جولائی کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چندرا بابو نائیڈو چاہتے ہیں کہ آندھرا پردیش میں اقلیتی بہبود کا بجٹ اقلیتوں کی آبادی کے تناسب سے طئے کیا جائے تاکہ اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کی مختلف اسکیمات پر عمل کیا جاسکے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں وزیر اقلیتی بہبود پی رگھوناتھ ریڈی کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1000کروڑ روپئے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے لہذا چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش میں بھی مناسب بجٹ کی منظوری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے تمام جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی محکمہ سے دونوں ریاستوں کی تقابلی رپورٹ طلب کی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے مختلف اسکیمات کے تحت بجٹ کے خرچ اور استفادہ کنندگان کی تفصیلات وزیر اقلیتی بہبود کے حوالہ کیں۔ ذرائع کے مطابق آندھرا پردیش حکومت 800تا 1000کروڑ روپئے اقلیتی بہبود کیلئے مختص کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ چندرا بابونائیڈو اقلیتوں کو فنی مہارت سے متعلق کورسیس میں ٹریننگ کیلئے نئی اسکیم کا اعلان کرسکتے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے وزیر پی رگھوناتھ ریڈی کے پاس کئی اہم قلمدان ہیں جس کے باعث وہ اقلیتی بہبود کے اُمور پر خاطر خواہ توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی، محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ جیسے اہم قلمدان پلے رگھوناتھ ریڈی کے پاس ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو بجٹ سیشن کے بعد کابینہ میں مسلم نمائندگی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس مسلم نمائندہ کو بھی وزارت میں شامل کیا جائے گا اسے قانون ساز کونسل کا رکن بنایا جاسکتا ہے۔ فی الوقت تلگودیشم پارٹی میں ایک بھی مسلم رکن اسمبلی نہیں۔ آندھرا پردیش کے متوقع مسلم وزیر کی حیثیت سے سابق وزیر این محمد فاروق کا نام تلگودیشم کے حلقوں میں زیر گشت ہے۔

TOPPOPULARRECENT