Wednesday , October 24 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھرا کے عازمین کی وجئے واڑہ ایرپورٹ سے روانگی کا انتظام کرنے نمائندگی

آندھرا کے عازمین کی وجئے واڑہ ایرپورٹ سے روانگی کا انتظام کرنے نمائندگی

مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا دوسرا مکتوب
حیدرآباد ۔19۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور حج کمیٹی کے ذمہ داروں نے آج پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے ملاقات کی اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کا مکتوب حوالہ کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے مختار عباس نقوی کو یہ دوسری مرتبہ مکتوب لکھا ہے ، جس میں حج 2018 ء کے عازمین حج کی وجئے واڑہ ایرپورٹ سے روانگی کا انتظام کرنے کی خواہش کی گئی ہے۔ سنٹرل حج کمیٹی نے عازمین کی روانگی کے سلسلہ میں جو امبارگیشن پوائنٹس منتخب کئے ہیں، ان میں وجئے واڑہ ایرپورٹ شامل نہیں ہے، لہذا آندھراپردیش کے عازمین کو حیدرآباد سے روانہ کیا جائے گا۔ وجئے واڑہ ایرپورٹ کو امبارگیشن پوائنٹ کی حیثیت سے شامل کرنے کیلئے چندرا بابو نائیڈو نے مختار عباس نقوی کو مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وجئے واڑہ ایرپورٹ کو بین الاقوامی ایرپورٹ کا درجہ حاصل ہے۔ لہذا اسے عازمین حج کے امبارگیشن پوائنٹ کے طور پر شامل کیا جانا چاہئے ۔ گورنمنٹ وہپ ایم اے شریف نے بتایا کہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو آندھراپردیش کے عازمین کو وجئے واڑہ سے روانہ کرنے میں دلچسپ رکھتے ہیں، تاکہ ان کیلئے بہتر سے بہتر انتظامات کئے جائیں۔ مختار عباس نقوی کو چندرا بابو نائیڈو کا مکتوب حوالے کرنے جس وفد نے ملاقات کی اس میں مرکزی وزراء اشوک گجپتی راجو ، وائی سوجنا چودھری ، ارکان پارلیمنٹ کے رام موہن نائیڈو ، کے ہری بابو، رویندر بابو ، کے نانی، کے نارائنا ، این شیوا پرشاد ، جی موہن راؤ ، ماگنٹی بابو کے علاوہ گورنمنٹ وہپ ایم اے شریف اور آندھراپردیش حج کمیٹی کے اگزیکیٹیو آفیسر لیاقت علی شامل تھے۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے وفد کو بتایا کہ حج 2018 ء کے آندھراپردیش کے عازمین کو وجئے واڑہ گناورم ایرپورٹ سے روانہ کرنے میں تکنیکی دشواریاں ہیں۔ بڑے طیارے کی اڑان اور لینڈنگ کیلئے درکار رن وے نہ ہونے کے سبب جاریہ سال اسے امبارگیشن پوائنٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ رن وے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد 2019 ء میں عازمین کو راست طور پر وجئے واڑہ سے روانہ کرنے کیلئے نقوی نے اصولی طور پر اتفاق کیا۔ آندھراپردیش کے وفد نے ان سے خواہش کی کہ عازمین کو بڑے جہازوں کے بجائے اوسط درجہ کے جہازوں سے روانگی کا انتظام کیا جائے تاکہ عازمین اپنے مقام سے روانہ ہوسکے۔ مختار عباس نقوی نے اس مسئلہ پر ہمدردانہ غور کا تیقن دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT