Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / آنکھیں کھول دینے والی کتاب ’ پس پردہ گجرات ‘ کے انکشافات 

آنکھیں کھول دینے والی کتاب ’ پس پردہ گجرات ‘ کے انکشافات 

سولہ برس بیت چکے ہیں مگر گجرات ۲۰۰۲ء کے متاثرین کیلئے فسادات جیسے کہ ابھی تھمے نہیں ہیں ۔ کتنی قانونی لڑائیاں لڑی جاچکی ہیں ۔کتنے ہی متاثرین حصو ل انصاف کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا کر خاموش بیٹھ گئے ہیں ۔ جنہیں فسادات کی سازش کیلئے سزا ئیں دی گئی تھیں ان میں سے کتنے ہی اب آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ ابھی گذشتہ دنوں نروڈاپاٹیا قتل عام کی مجرمہ گجرات کی سابق وزیر مایا کوڈ نانی کو آزادی ملی ہے ۔ نچلی عدالت نے کوڈنانی کو ۹۶؍ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے مجرم قرار دیا تھا پر گجرات ہائی کورٹ کو کوڈ نانی کے ہاتھوں پر کسی کے خون کے دھبہ نظر ہی نہیں آئے اور رہے وہ بڑے سیاستداں ،اعلی افسران اور اعلی رتبہ کے منصوبہ ساز او رسازشی تھے ۔

تو وہ یوں تمام الزامات سے بچ نکلے ہیں ۔یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟ یہ وہ سوال ہے جن کے جواب گجرات کے سبکدوش ہوئے آئی پی ایس آر بی سری کمار کی کتاب ’ پس پردہ گجرات ‘ میں پوری وضاحت کے ساتھ دئے گئے ہیں۔آر بی کمار کا کہنا ہے کہ مجرموں اور فسادیوں کو بچانے کیلئے قانون سے کھلواڑ کیا گیا ہے ۔ قانون کو توڑا گیا اور جن ہاتھوں میں نظم و نسق کی ذمہ داری تھی سیاسی آقاؤں نے ان ہی ہاتھوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی کہ مجرموں اور فسادیوں کو بچانے کے لئے وہ جیسے بھی چاہیں قانون کے دھجیاں اڑا ئیں ۔

آربی سری کمار فسادات کے وقت گجرات میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی ذمہ داری سنبھا رہے تھے ۔ وہ محکمہ خفیہ کے سربراہ تھے ۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ فسادات دانستہ کروائے جارہے ہیں ۔ منصوبہ بند ہیں۔ او ر ساری سرکاری مشنریوں کا استعمال صرف ایک فرقہ کے خلاف کیا جارہا ہے ۔ اور سبھی پولیس افسران سب ہی حکومت کے ہاتھو ں کھلونا بنے ہوئے ہیں تب انہوں نے آواز اٹھائی ۔ اس وقت گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو للکارا ، فسادیوں کو بے نقاب کرنے کی مہم شروع کی ۔ انہیں اس کیلئے سرکاری عتاب جھیلنا پڑا ۔ اور کئی مقامات پر ان کا تبادلہ عمل لایا گیا۔ اوران پر مقدمہ پر چلایا گیامگر انہوں نے حق سے منہ نہیں موڑا او رآج تک وہ گجرات ۲۰۰۲ء کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

سری کمار نے اپنی انگریزی کتاب Curtain The Behind Gujrat میں جس کا ترجمہ ’’ پس پردہ گجرات ‘‘کے نام سے حال ہی میں فاروس میڈیا نئی دہلی نے شائع کیا ۔ گجرات ۲۰۰۲ء کی اپنی لڑائی کو آگے بڑھایا ہے ۔سری کمار نے اپنی کتاب کے پہلے باب میں گجرات فساد کاپس منظر لکھا کہ کیسے ہندو علاقوں میں صرف مسلمانوں کے املاک کو نقصان پہنچایاگیا ۔ مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر مسلمانوں کاقتل عام کیا گیا ۔مسلمان عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں ۔ ہندوعلاقہ میں مسلمان مکان کی شناخت کیلئے ان کے مکانات پر کسی ہندو دیوی دیوتا کی تصویر بنائی جاتی ۔ یا ان پر اوم کا شنان بنادیا جاتا ہے ۔

سری کما ر نے اپنی کتاب کے دوسرے باب میں گودھرا ٹرین سانحہ ، مصیبت اور مایوسی کا دور اور فسادات کا تفصیلی ذکر کیا ۔ یہ کتاب ہم سب سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہم سب قانون سے ہار گئے یا اپنے نکمے پن ، تساہل پسندی ، خود غرضی او روطن و قوم مخالف شیطانی خواہشات کی تکمیل کیلئے ہم خود نظام عدل کو مفلوج کردیا؟

TOPPOPULARRECENT