Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / آن لائن اشیاء خریدی کے رجحان میں اضافہ

آن لائن اشیاء خریدی کے رجحان میں اضافہ

جی ایس ٹی سے استثنیٰ پر صارفین کی توجہ ، بین الاقوامی کمپنیوں کو فائدہ
حیدرآباد۔5اکٹوبر(سیاست نیوز) آن لائن اشیاء کی خریداری پر جی ایس ٹی نہ ہونے کے سبب آن لائن اشیاء کی خریدی کے رجحان میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ جی ایس ٹی کے سبب شہری علاقوں میں آن لائن بکنگ‘ آن لائن خریداری اور ادائیگی میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ دسہرہ تہوار کے دوران بازاروں میں گہما گہمی نہ ہونے کے سبب بازار کی صورتحال انتہائی ابتر ریکارڈ کی گئی لیکن اب اس بات کا انکشاف ہونے لگا ہے کہ آن لائن خریداری پر جی ایس ٹی نہ ہونے کے سبب شہریوں نے دسہرہ کے دوران آن لائن خریداری پر توجہ مرکوز کی اور آن لائن خریداری کی گئی ۔حکومت ہند نے ای۔کامرس اداروں کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں نہیں لایا جس کے سبب تجارتی اور ملازم طبقہ کی جانب سے ای ۔ کامرس ویب سائٹس کے ذریعہ خریداری کو ممکن بنایا گیا۔ تجارتی برادری کا کہنا ہے کہ آن لائن خریداری پر جی ایس ٹی کے عدم نفاذ کے سبب ای۔کامرس تجارت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور اس کے راست فوائد بڑی بین الاقوامی کمپنیو ںکو ہونے لگے ہیں لیکن جو لوگ بازاروں میں بیٹھ کر حکومت کو لائٹ‘ جائیداد‘ ٹریڈ اور مختلف اقسام کے ٹیکس ادا کر رہے ہیں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ آن لائن ای۔کامرس کے ذریعہ آج کسی بھی شئے کی خریداری ممکن ہے اور اس خریداری میں ہر کسی کو مہارت حاصل ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کے مضر اثرات ان تجارتی بازاروں کو ہونے لگے ہیں جو عوام کے درمیان رہتے ہوئے تجارت کر رہے ہیں اور اشیاء کی تصویروں پر اشیاء فروخت نہیں کر رہے بلکہ راست اشیاء کا مشاہدہ کرواتے ہوئے صارفین و گاہکوں کو اپنی اشیاء فروخت کررہے ہیں وہ جی ایس ٹی کے سبب پریشان ہیں جبکہ ای۔کامرس ویب سائٹس کی جانب سے کی جانے والی کروڑہا کی تجارت پر جو کہ اشیاء کی تصویروں پر ہوتی ہے اسے جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں نہ رکھے جانے کے سبب نوجوان نسل آن لائن خریداری پر توجہ دینے لگی ہے۔ اسی طرح ٹکٹ بکنگ‘ وغیرہ کے امور میں بھی نوجوانوں نے آن لائن بکنگ کو ترجیح دینی شروع کی ہے جس کے نتیجہ میں ٹراویل ایجنسیز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہیں کمیشن پر جی ایس ٹی اور خدمات پر جی ایس ٹی ادا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ آن لائن ٹکٹ کی خریدی کے لئے کوئی جی ایس ٹی ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امیزان‘ فلپ کارٹ‘ کی طرح جو ویب سائٹس چلائی جا رہی ہیں ان ویب سائٹس کے ذریعہ کی جانے والی خریداری پر بھی کوئی جی ایس ٹی نہیں ہونے کے سبب ان کی فروخت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ای۔کامرس ویب سائٹس کی جانب سے ایک فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے اور ذرائع کے بموجب شہری علاقو ںمیں آن لائن خریداری کو جی ایس ٹی کی اس چھوٹ کے سبب تجارتی بازاروں میں گہما گہمی کم دیکھی جا رہی ہے اور تجارتی مندی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT