Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آٹو رکشا میٹرس میں الٹ پھیر کی روک تھام کا فیصلہ

آٹو رکشا میٹرس میں الٹ پھیر کی روک تھام کا فیصلہ

ڈرائیورس کیلئے ڈریس اور بیاچ لازمی کرنے پر بھی غور ۔ وزیر ٹرانسپورٹ کی حکام کو ہدایات
حیدرآباد۔ 20 نومبر (سیاست نیوز) حکومت نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعہ آٹو رکشائوں کے میٹرس میں الٹ پھیر کی روک تھام کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی خصوصی ٹیموں کے ذریعہ شہر میں آٹو رکشائوں کے میٹرس کی جانچ کی جائے گی اس کے علاوہ ڈرائیورس کے لیے ڈریس اور بیاچ کو لازمی قرار دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں قانون ساز کونسل میں ارکان نے اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی اور وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے غیر قانونی سرگرمیوں کو سختی سے کچلنے کا تیقن دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ نے کونسل میں دیئے گئے تیقن کی بنیاد پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ عوام پر بوجھ بننے والے آٹو میٹرس کی سختی سے جانچ کریں۔ اس کے علاوہ فٹنس کے بغیر چلنے والے آٹوس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ ارکان نے شکایت کی تھی کہ شہر میں آٹو رکشائوں کی من مانی سے عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ میٹر میں الٹ پھیر کے ذریعہ بھاری رقومات وصول کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ گنجائش سے زیادہ مسافرین کو بٹھاکر حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ ارکان نے حکومت کے علم میں یہ بات لائی کہ فٹنس کے بغیر چلنے والے آٹو رکشائوں سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور حکام کی عدم توجہی کے نتیجہ میں ایسے آٹوس شہر میں آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں میٹر میں الٹ پھیر کے 1120 مقدمات درج کیئے گئے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہیں تاکہ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹیشنوں کے قریب تلاشی مہم چلائی جائے۔ عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر سال فٹنس سرٹیفکیٹ کی اجرائی کے موقع پر میٹر کی جانچ کی جانی چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں روزانہ تقریباً ایک لاکھ آٹو چلائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 فیصد سے زائد فٹنس سرٹیفکیٹس کے بغیر چلتے ہیں جو کثیر آبادی والے علاقوں میں آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے آٹو میٹرس کی چیکنگ کے لیے صرف دو مراکز ہیں اور انسپکٹرس کی تعداد صرف 5 ہے۔ حکومت آٹو رکشائوں کی بدعنوانیوں کی جانچ کے لیے عہدیداروں کی ٹیم میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹو میٹرس میں الٹ پھیر کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کیئے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے میٹر کی جانچ کے باوجود ایک نئی ٹیکنیک ایجاد کی گئی اور آٹو کے ہارن سے میٹر کو مربوط کیا جاتا ہے جس قدر زیادہ ہارن بجایا جائے اس قدر تیزی سے میٹر دوڑتا ہے۔ اس نئی ٹیکنیک کا پتہ چلانے کے لیے عہدیداروں کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔ ٹی آر ایس کے رکن کونسل ایم ایس پربھاکر نے انکشاف کیا کہ بعض آٹو رکشا ٹو وہیلرس کے نمبرس سے چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ڈرائیور کے غلط سلوک کی شکایت کرنے کے لیے انہوں نے جب آٹو کے رجسٹریشن نمبر سے مالک کا پتہ چلانے کی کوشش کی تو انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ نمبر ٹو وہیلر کا ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں آٹو رکشائوں کی من مانی اور دھاندلیوں کے خلاف محکمہ ٹرانسپورٹ بہت جلد مہم کا آغاز کرے گا اور اس سلسلہ میں ٹریفک پولیس کی مدد حاصل کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT