Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / آٹو موبائیل فینانسرس کی لوٹ کھسوٹ عروج پر

آٹو موبائیل فینانسرس کی لوٹ کھسوٹ عروج پر

غیرقانونی سرگرمیوں پر پولیس چپ چاپ ،ڈرائیورس پریشان حال
حیدرآباد ۔ /15 ستمبر (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں آٹو موبائیل فینانسروں کی لوٹ کھسوٹ اور غیرقانونی سرگرمیاں پورے زوروں سے جاری ہیں ۔ ان آٹو موبائیل فینانسروں کی جانب سے دونوں ہاتھوں سے دولت لوٹنے کیلئے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں بھی کی جارہی ہیں اور ان کی جانچ کرنے اور قانون کی خلاف ورزیاں کرنے والا کوئی نہیں ہے بلکہ بعض گوشوں کا یہ الزام بھی ہے کہ خود سرکاری عملہ ان شوروم مالکین اور آٹو موبائیل فینانسروں سے سازباز کرتے ہوئے خود بھی فائدہ حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور ان فینانسروں کی بھی چاندی ہورہی ہے جہاں خانگی آٹو موبائیل فینانسروں کی جانب سے غنڈہ عناصر کو سیزر قرار دیتے ہوئے غریب اور ناخواندہ آٹو ڈرائیورس کو ڈرا دھمکاکر ان کی گاڑیاں چھینی جارہی ہیں ۔ گاڑیاں چھیننے کے نام کیلئے جو عناصر شہر کی مصروف ترین اور اہم سڑکوں پر گھوم رہے ہیں وہ ان آٹو ڈرائیورس کو دھمکانے کیلئے بعض اوقات خود کو پولیس کا عملہ بھی قرار دینے سے گریز نہیں کررہے ہیں ۔ ان تمام کی حرکتوں کا شہر میں مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا فوٹیج حاصل کرتے ہوئے بھی پتہ چلایا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ اختیار کرتے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ قانون کے مطابق کسی بھی گاڑی کے رجسٹریشن کو کسی دوسرے کے نام پر تبدیل کرنے کیلئے موجودہ مالک کی موجودگی ضروری ہوتی ہے اس کے بغیر ٹرانسفر کا عمل نہیں ہوسکتا لیکن الزام ہے کہ شوروم کے مالکین اور آٹو موبائیل فینانسروں کی آر ٹی اے عملہ سے سازباز کے نتیجہ میں ہزاروں گاڑیوں کا رجسٹریشن ان کے موجودہ مالکین کی غیر موجودگی میں ہی دوسروں کے نام پر منتقل کردیا جارہا ہے ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ ان سب کی ملی بھگت کے نتیجہ میں ان گاڑیوں کو تلف کرتے ہوئے نئی گاڑیوں کے پرمٹ بھی دوسرے ناموں پر جاری کروائے گئے ہیں ۔ ان گاڑیوں کو بھی مقررہ قیمتوں سے زائد رقومات حاصل کرتے ہوئے فروخت کیا جارہا ہے ۔ بعض گوشوں کا ادعا ہے کہ گاڑی رجسٹریشن کی منتقلی کیلئے سرکاری اعتبار سے 2500 تا 3500 روپئے خرچ ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ آٹو موبائیل فینانسرس اور شوروم مالکین آر ٹی اے عملہ کی جیبیں گرم کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اس سے کافی زیادہ رقومات خرچ کرتے ہوئے گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر دوسرے افراد کے نام منتقل کروالیئے چونکہ گاڑی کا موجودہ مالک اس کی منتقلی کے وقت موجود نہیں رہتا اسلئے اس کی منتقلی غیرقانونی ہوتی ہے لیکن اس کو جانچنے کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی ۔ اگر گزشتہ وقتوں کی فائیلوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر ان میں گاڑی منتقل کروانے والے موجودہ مالک کا آدھار کارڈ یا کوئی دوسرا رہائشی و شناختی ثبوت اور اس کے دستخط موجود نہ ہوں یا پھر یہ دستخط میل نہ کھائیں تو اس کام میں ہورہی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا پردہ فاش ہوسکتا ہے ۔ حکومت کے ذمہ داروں ، نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ حکام کو اس غیرقانونی سرگرمیوں اور لوٹ کھسوٹ کے ریاکٹ کا پتہ چلانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT