Tuesday , November 21 2017
Home / اے پی ڈائری / آپ وہ نہیں رہے جو کچھ ہوا کرتے …

آپ وہ نہیں رہے جو کچھ ہوا کرتے …

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری        خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کے سیاستدانوں کا شمار ان میں ہورہا ہے جن پر قسمت کی دیوی کچھ زیادہ ہی مہربان رہتی ہے۔ خاصکر حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ وہ لیڈر ہیں جو ہر ٹی وی چیانل کے مباحثہ میں نظر آتے ہیں۔ اسٹیج مباحثہ ہو یا اپنے حلقہ کی گلیوں میں پدیاترا ان کامشغلہ ہے۔ اس طرح انہوں نے مکالمے کی ادائیگیوں میں ملکہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا مسالہ دار باتوں کو ترجیح دینے والے قائدین کو عزیز رکھتے ہیں۔ جب سے ملک پر سنگھ پریوار کا راج ہے ہر جگہ ایک ہی مسلم نمائندہ کو دکھایا جارہا ہے، گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہی سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ان کی نوک جھونک کا لطف لینے والوں نے مسلمانوں کے اصل مسائل کو ٹی وی اسٹوڈیو کی حد تک ہی اہمیت دی ہے۔ چنانچہ ان قائدین کے جلسوں میں تالیاں پیٹنے، ٹی وی شوز میں گوشت، طلاق ثلاثہ، مسلم خواتین، درگاہ پر خواتین کی حاضری، فرقہ پرستوں کی پالیسیاں، رام مندر، بابری مسجد کا شعور، گائے رکھنے والوں کو زدوکوب کرکے ہلاک کرنے کے واقعہ کی خبروں کو کانوں میں انڈیلتے ہوئے کی گئی بحث کا کسی نئی شعبدہ بازی میں جی کو لگنے والے بحث ہوتی ہے۔ اخبار کا ایڈیٹر ہو یا ٹی وی کا اینکر معصوم و بے زبان عوام کے لئے آواز اٹھاتے ہیں مگر انھیں زبان نہیں دے سکتے۔ ٹی وی اینکر ان بے بس عوام کے حق کے لئے شور مچاتے ہیں مگر انہیں زبان نہیں دے سکتے کیوں کہ یہ مجبور عوام اپنی زبان تو ہر پانچ سال میں ایک بار اپنے لیڈروں کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں۔ ان کے لیڈر انہیں بے زبان کرکے اپنی زبانوں کو دراز کرکے قسمت کی دیوی کی مہربانیوں سے خوب استفادہ کرتے ہیں۔ عوام کی دی ہوئی زبان کو استعمال کرنے کا ملکہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھرراؤ کو بھی خوب آتا ہے۔
حکمراں ٹی آر ایس کے تمام قائدین پر یہی قسمت کی دیوی مہربان ہے۔ عوام کی خواہش اور ان لیڈروں کی حقیقت کا درمیانی فاصلہ صرف وقت کی ایک لکیر ہے جسے عبور کرنے کی عوام نے کبھی بھی ہمت نہیں کی، ہر بار عوام یہی خواہش لے کر ووٹ دیتے ہیں کہ اب کی بار ان کی حاکمیت میں ریاستوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادی جائیں گی۔ تلنگانہ میں عوام کیلئے دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہیں البتہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے کئی انتخابی وعدوں میں سے دو وعدوں کو پورا کرنے کی کوششوں میں مصروف ضرور دکھائی دیتے ہیں ۔ گذشتہ 3 سال کی حکمرانی میں انہوں نے قرضوں میں راحت فراہم کی اور دوسری جانب مسلم تحفظات پر غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ بی سی کمیشن نے انہیں اپنی رپورٹ پیش کردی ہے اور مسلم طبقہ کے لئے12فیصد تحفظات کی سفارش کردی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کا16 اپریل کو اجلاس طلب کیا جارہا ہے، اگر یہ اجلاس یعنی آج اسمبلی میں تاریخی کام ہوتا ہے تو ایک بل منظور ہوگا۔ ریاستی کابینہ اسے توثیقی سند سے نوازے گی لیکن جب یہ مسلم تحفظات مرکز کی عدالت میں پہنچ کر اپنی کامیابی کی خواہش کا اظہار کریں گے تو مرکز دستور کے 31(B) کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تشکیل دیئے گئے نویں شیڈول کے تحت لائے گا اور پھرکیا ہوگا یہ آپ کے ہی لیڈروں کی قسمت چمکانے والا ہتھیار بن جائے گا کیونکہ بی جے پی کا موقف واضح ہے کہ وہ مذہبی بنیاد پر تحفظات کے خلاف ہے۔ ایسے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیا رول ادا کریں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال حکمراں پارٹی اپنے 16ویں یوم تاسیس کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 21اپریل کو منعقد ہونے والے پلینری سیشن میں خواتین اور سب سے زیادہ پسماندہ طبقات کیلئے19 قراردادیں منظور کروائی جائیں گی۔ اصل توجہ حکومت کی جانب سے شروع کردہ مختلف بہبودی اقدامات اور ان پر عمل آوری کی جانب رہے گی۔ یہ پلینری سیشن ٹی آر ایس کو ایک ایسی سمت عطاء کرے گا جس پر گامزن ہوکر تلنگانہ حکومت کے بہبودی اقدامات کا پیام عوام تک پہنچایا جائے گا۔
ٹی آر ایس کو مزید فعال بنانے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر دباؤ ڈالا جانے لگا ہے، وہ اپنے فرزند اور ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کو پارٹی کا نائب صدر بنائیں مگر پارٹی کے داخلی ذرائع نے یہ اشارہ دیا ہے کہ کے چندر شیکھر راؤ آئندہ ڈسمبر تک چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفی دے کر اپنے فرزند کو چیف منسٹر بنائیں گے۔ اس تازہ افواہ کو گشت کرانے والوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اپنے فرزند کو جانشین بناکر وہ خود مرکزی سیاست میں قدم رکھنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹی آر ایس کو قومی سطح پر ایک مضبوط آواز کی ضرورت ہے اور یہ آواز کے سی آر سے زیادہ کسی کی مضبوط ہوسکتی ہے۔ لہذا کے سی آر کو قومی سیاست میں دلچسپی لیتا دیکھ کر ہی ٹی آر ایس کے ذرائع نے کے ٹی آر کو مستقبل میں پارٹی کا صدر اور چیف منسٹر کے طور پر دیکھے جانے کی سرگوشیاں ہورہی ہیں۔27اپریل کو پارٹی کے قیام کے دن یعنی یوم تاسیس کے موقع پر کے سی آر اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ کو پارٹی کا آئندہ صدر اور ریاست کا چیف منسٹر بنائے جانے کا اشارہ دیں گے یا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ گذشتہ 3سال میںکے ٹی آر نے ریاستی سیاست اور حکومت کی سطح پر خود کو متحرک رکھا ہے اور نظم و نسق پر ان کی گرفت کو دیکھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ کے سی آرکے جانشین بننے میں اب کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔ حکمراں ٹی آر ایس گذشتہ تین سال کے دوران اس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہے جبکہ ریاست میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ حکومت کی سطح پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حکومت کی صنعتی اور آئی ٹی پالیسیوں کو دیکھ کر سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت ردعمل مل رہا ہے۔ اس نئی ریاست میں صرف گذشتہ ایک سال میں 25000 کروڑ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جبکہ عالمی بینک نے ریاست کے اندر تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے13واں رینک دیا تھا۔
گزشتہ سال سے اب تک ریاست میں سرمایہ کاری کا عمل ٹھپ ہے پھر بھی حکومت اور اس کے نمائندے خوش ہیں اور لوگوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بات تو درست ہے کہ حکومت تلنگانہ کی شروع کردہ بعض اسکیمات اور پراجکٹس پر دیگر ریاستوں نے بھی اختیار کرلیا ہے۔ تلنگانہ میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کو روکنے، چین چھین لینے کے جرائم روکنے کیلئے پولیس اسکواڈ کو موثر بنایا گیا اور شی ٹیم تشکیل دی گئی تھی ان ہی خطوط پر اتر پردیش کے نئے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ یوگی نے اینٹی رومیو اسکواڈ تشکیل دیا۔ حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے 5 روپئے میں کھانے کی اسکیم شروع کی گئی جس کی ضرورت مند ہر گوشے سے ستائش کی جارہی ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر نے بھی جی ایچ ایم سی کی 5روپئے میں کھانے کی اسکیم کو اپنے حلقہ میں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مشن بھگیرتا نے بھی پڑوسی ریاستوں کو کافی متاثر کردیا ہے، ٹاملناڈو نے اپنے علاقہ میں بھی مشن بھگیرتا کے خطوط پر اسکیم تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹاملناڈو کے محکمہ دیہی ترقی کے عہدیدار اس اسکیم  کا جائزہ لے چکے ہیں۔ حکمراں کی قسمت کی طاقت آئین اور قانون یا دیگر اس طرح کے اُمور سے ماورا ہوتی ہے۔ عام آدمیوں کے وہم و گمان میں بھی سیاستدانو کی قوت سمائی نہیں جاتی۔ لیڈر کی گرفت کے سامنے آپ بالکل بے بسی کی تصویر دکھائی دیتے ہیں، خود کو دیکھیئے آپ کا لیڈر اکیلا قومی ٹی وی چینلس کا نمائندہ بنا ہے یا تبصرہ نگار، قومی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کیا ہے تو اس فاصلاتی چال کی دراز ہوتی ہوئی رسی میں مقامی جماعت کی فیملی کا رکن ٹی وی چیانلوں کے کیمروں کی روشنی میں چکاچوند ہورہا ہے اور اس کے رائے دہندے تنگ گلیوں، خراب سڑکوں، بدبودار نالیوں اور کچرے کے ڈھیر سے گذر کر زندگیاں گذار رہے ہیں۔ لیکن اس بارے میں کسی تعصب کو دل میں جگہ دیئے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اخلاقی دفاع کرنے والے رائے دہندے ہنوز سرگرداں ہیں۔ یہبات پہلے بھی کی جاچکی ہے لیکن اسے بار بار دہرانے کی ضرورت ہے کہ مقامی جماعت کے ارکان غیر شفاف مالیاتی اُمور میں قسمت کے دھنی ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT