Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / آپ کی شکایت

آپ کی شکایت

زندگی آئی ہے کس منزل مجبوری میں
جی میں آتا ہے کہ اب خود سے کنارا کرلیں
آپ کی شکایت
سیاسی خواہشات کے پورا ہونے کا انحصار اگر کسی فرد کی بیان بازی پر ہوتا تو ہر لفاظ کو سیاست کا مرکزی رول حاصل ہوتا مگر سیاسی زندگی صرف ان لوگوں کو راس آتی ہے جو اس کے ماہر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی سال رواں سیاسی، سماجی اور مذہبی گوشوں کے اندر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف اب مسلمانوں کے چند نمائندہ مذہبی شخصیتوں نے بھی بولنا شروع کیا ہے۔ حال ہی میں کولکتہ کے شامی امام ٹیپوسلطان مسجد مولانا نورالرحمن برکتی نے مودی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔ اس فتویٰ کی اہمیت و افادیت پر بحث کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ایک اور مفتی نے شاہی امام ٹیپوسلطان مسجد کولکتہ کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ سیاسی نوعیت کے معاملوں میں مذہبی شخصیتوں کی رائے کو اگرچیکہ باریک نظر سے نہیں دیکھا جاتا چنانچہ کسی امام کے فتویٰ کی ضرورت اور افادیت کو موجودہ حالات کے آئینہ میں دیکھنا بھی فضول ہے، لیکن اس مسئلہ پر ممبئی کے مفتی منظرحسن خاں اشرفی مصباحی نے مودی کے خلاف کولکتہ کے امام برکتی کے فتویٰ کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس فتویٰ کو صرف ایک برہمی پر مبنی اور سیاسی مذمتی بیان قرار دیا۔ انہوں نے فتویٰ کی اجرائی کا سوال اٹھا کر اس امام کے اعتبار کا بھی معاملہ سامنے لایا کہ آیا وہ امامت کرنے کے لائق ہیں یا ن ہیں۔ کسی لیڈر کے خلاف دیئے گئے سیاسی بیان کو فتویٰ نہیں کہا جاسکتا۔ اس طرح  کے فتویٰ سماجی امن کیلئے خطرہ ہوتے ہیں۔ یہ ذاتی اور سیاسی نوعیت کا بیان تھا اور شریعت میں ایسے بیانات کی حمایت نہیںکی جاتی۔ ایسا شخص امام بھی نہیں ہوسکتا۔ کولکتہ کے شاہی امام کے فتویٰ کے خلاف ممبئی کے مفتی کا فتویٰ اور اس میں ہر کسی کے مفتی نہ ہونے کا دعویٰ مسلمانوں کے چند گوشوں میں نئی بحث چھیڑ دے گا۔ فتویٰ کے تقدس اور اس کی افادیت کو گھٹانے والی حرکتوں کے ذریعہ شرعی معاملوں کو غیرضروری موضوع بحث بنایا جائے تو مسلم معاشرہ میں بے چینی و اضطرابی کیفیت کا باعث ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی چند شخصیتوں میں ایک قسم کی الرجی پیدا ہورہی ہے۔ جو فی زمانہ مسلم سماج کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور فتویٰ دینے کا یہ عمل بنیادی طور پر فتویٰ کی اہمیت کوگھٹا سکتا ہے۔ مسلم معاشرتی زندگی کے گذشتہ چند عشرے معاشی بدحالی میں گذر رہے ہیں۔ اب مودی حکومت کے آنے کے بعد مسلم معیشت کو نشانہ بنانے والی پالیسیاں وِضع ہونے جارہی ہیں تو ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو خود کو ایک دوسرے کے خلاف مصروف رکھ کر باہمی توہین کی الرجی کے مریض بن گئے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے معاشرے میں متحرک اور ارتقا پذیر معاملات پر توجہ دینے کے بجائے چیلنجس کو پیدا کرنے اور مسائل کو ہوا دینے میں مزہ آئے تو پھر یہ لعنت والی حرکتیں ہوں گی۔ اب دیکھئے حج سبسیڈی کے مسئلہ کو لیکر نئی اکسانے والی چال چلی گئی۔ سیاستدانوں کا یہ ایک ایسا ہنر ہے جس کو خاص موقع پر روبہ عمل لاتے ہیں۔ مودی حکومت میں جہاں سیاسی، اقتصادی اور سماجی طوفان امڈتے چلے آرہے ہیں، حکمراں لوگوں کی سازشوں کو جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھتے ہوئے حساس مسائل کو چھیڑ رہے ہیں تاکہ عوام ان کی لگائی ہوئی آگ میں سلگتے رہیں اور ان کا مقتدر حلقوں کی خرابیوں کی طرف دھیان ہی نہ جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے مسلمانوں کیلئے ’’سیاسی رہنما‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اگر حج سبسیڈی یا کسی اور موضوع پر متنازعہ بیان دینا رہنمائی ہے تو پھر رہزنی اور بے حیائی کسے کہتے ہیں؟ شاید اسی لئے ہمارے ملک کی مسلم دشمن سیاسی قوتیں مضبوط ہورہی ہیں۔ سیاسی رہنما ہونے کے دعویداروں نے شاید اپنے رائے دہندوں کو کیچوے، مکھی، مچھر، مداری کے بندر، سرکس کے گھوڑے سمجھ لیا ہے اس لئے سیاسی طاقت حاصل کرکے رائے دہندوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ جب تک عوام ’’غدار وفادار‘‘ کی اصطلاح سے باخبر نہ ہوں گے ان کی اتھاریٹی چھین کر خود کو سیاسی طور پر بااختیار کرنے والے یوں ہی بے چین و بے بس بیانات کو عادت بنا لیں گے۔
مالیاتی موقف میں بتدریج ابتری
ہندوستان کی پہلے ہی سست روی کا شکار معیشت کی نوٹ بندی کے ذریعہ مزید کمزور بنادیا گیا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ قائم کیا گیا ہیکہ آئندہ 12 ماہ تک ملک کی معیشت ابتری کا شکار رہے گی۔ 12 تا 15 ماہ مالیاتی اتھل پتھل کے طور پر گذر جائیں گے۔ عالمی محاذ پر غیرمعمولی غیریقینی کیفیت کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی مقامی معیشت بھی اسی طرح کے چیلنجس کا شکار ہے۔ نوٹ بندی کے عمل نے ہندوستانی مارکٹ کو ہی کچوے کی رفتار سے مماثلت دی جارہی ہے۔ ملک کی پیداوار صلاحیتوں کو کمزور بنادیا تو مینوفیکچرنگ فرنٹ پر طلب میں کمی آئی ہے صرف ڈسمبر میں ہی آٹو موبائیل فروخت میں 18.66 فیصد کمی درج کی گئی جو 16 سال پیچھے پہنچ چکی ہے۔ گذشتہ ہفتہ ہی حکومت ہند نے ملک کی معیشت کو سال 2016-17ء کے دوران 7.1 فیصد نشانہ تک آنے کی توقع ظاہر کی تھی جبکہ اسی  مدت میں سال 2015-16ء میں یہ شرح 7.6 فیصد تھی۔ لہٰذا ترقی کی شرح کا جو فیصد بتایا گیا ہے وہ تشویشناک ہے۔ عالمی سطح پر تاجر طبقہ امریکی منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا منتظر ہے تو ہندوستان کے اندر مالیاتی و تجارتی مارکٹ کو نوٹ بندی کے بعد کی صورتحال سے باہر آنے میں مشکل پیش آئے گی۔ ایسے حالات سے پریشان ہندوستانی تاجر برادری کے سامنے اب ایک نیا مسئلہ امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے شکل میں آیا ہے۔ اگر منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات سے قبل اپنی معلنہ پالیسیوں پر عمل کرنا شروع کیا تو چین کے ساتھ امریکی تجارت مسدود ہوگی اور اس کا راست اثر ہندوستان کی معیشت پر بھی ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT