Wednesday , September 19 2018
Home / آپ کے سوال / آپ کے سوال

آپ کے سوال

بعد وفات جائیداد کی تقسیم کی کیفیت

بعد وفات جائیداد کی تقسیم کی کیفیت
سوال : میں ایک غیر شادی شدہ شخص ہوں ، میرے ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے، ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں تھے، ایک بھائی اور دو بہنیں فوت ہوگئے ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن بقید حیات ہیں۔ میرے مرحوم بھائی کی بیوہ اور ایک بیٹا ، دو بیٹیاں ہیں۔ مرحومہ بہن کی دو لڑکیاں ہیں، میری کوئی جائیداد نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے انتقال کے بعد ،میرا چھوڑا ہوا مال ازروئے شرع کن کن لوگوں میں تقسیم ہوگا ؟
م ش ، کرناٹک

جواب : جائیداد کی تقسیم میں اہم بات یہ ہے کہ صاحب جائیداد کی وفات کے وقت جو اس کے ورثہ موجود رہیں گے ، ان میں مرحوم کے متروکہ کی تقسیم عمل میں آئے گی ۔ صاحب جائیداد کے انتقال کے وقت کون کون زندہ رہیں گے ، کوئی بھی نہیں بتا سکتا ۔ مثال کے طور پر آپ کے انتقال کے وقت اپ کے موجودہ تین بھائی اور ایک بہن بقید حیات رہیں تو فی بھائی دو اور بہن کو ا یک کے حساب سے تقسیم عمل میں آئے گی اور اگر آپ سے پیشتر کسی بھائی یا بہن کا انتقال ہوجائے تو آپ کے انتقال کے وقت جو موجود رہیں گے وہی وارث ہوں گے ۔ آپ کے انتقال کے وقت کوئی بھائی بہن موجود نہ رہیں تو آپ کے تمام بھتیجے ، (تمام بھائیوں کے لڑکے) مساوی مساوی حقدار ہوں گے ۔ بیوہ بھاوج کو کچھ نہیں ملتا۔ (انتقال سے قبل جائیداد کی تقسیم نہیں بتائی جاسکتی، مفروصہ کی بنیاد پر تفھیم کیلئے بیان کیا گیا ہے)

لاولد بیوہ کا متروکہ اور سسرالی رشتہ دار
سوال : بعد از مرگ بیوہ جو لاولد ہے ، ایک عدد ذاتی مکان کی مالک ہیں، کیا مرحوم شوہر کے رشتہ دار جو بقید حیات ہیں مثلاً چھوٹی بہن بہنوئی اور دیگر بھانجے بھانجیاں ، بھتیجے، بھتیجیاں ، بیوہ کے انتقال پر ان کے متروکہ مکان میں حصہ رسدی کے حقدار ہوں گے یا کہیں ، اگر وہ حقدار ہوں گے تو حصے کس طرح تقسیم ہوں گے ۔
نام مخفی

جواب : سسرالی رشتہ دار شرعاً وارث نہیں، بیوہ کے انتقال پر اس کے اصحاب فروض و عصبہ (مثلاً ماں باپ ، بھائی ، بہن وغیرہ) میں حسب احکام شرع متروکہ کی تقسیم عمل میں آئے گی، بیوہ کے مرحوم شوہر کے ورثاء کو متروکہ مرحومہ سے وراثتاً کچھ نہیں ملتا۔

بعد نماز عصر سونا
سوال : میرے دل کا دوسرا آپریشن ہوا ، ڈاکٹرس نے تین مہینے کا آرام لکھا ہے ، گولیوں کے استعمال کی وجہ سے اکثر نیند کا غلبہ رہتا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد میں نے پرھا ہے ، عصر کی نماز کے بعد نیند مضر ہے ، اب سوال یہ عرض ہے کہ ہمارے محلے میں بعض مساجد میں چار بجے اذان اور جماعت 4.15 بجے ہوتی ہے۔ ہمارے مکان کے بالکل سامنے مسجد میں نماز عصر 4.45 بجے ہورہی ہے۔ ہم لوگ کس مسجد کی نماز کو معیار بنائیں؟ اگر میں 4.45 تک سو جاؤں تو ڈر ہوتا ہے کہ کہیں نماز عصر کے بعد کی ممنوع نیند تو نہیں لے رہا ہے ۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ جواب عنایت فرمائیں تو نوازش۔
محمد صبغتہ اللہ شاہد ، پرانی حویلی

جواب : قدیم سے فقہاء و محدثین نے بعد نماز عصر نیند کو مکروہ قرار دیا اور حدیث شریف کے مطابق بعد نماز عصر نیند مضر صحت اور عقل میں فتور کا سبب ہے ۔ اگرچہ اہل علم نے اس حدیث کی سند پر کلام کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا لیکن اکثر اہل علم نے بعد نماز عصر سونے کو ناپسند کیا ہے ۔ تاہم اگر نیند کی ضرورت ہو تو مضائقہ نہیں ۔ حسب صراحت سوال ادویہ کے استعمال سے نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو آپ ا پنے محلہ کی مسجد کے اوقات نماز کے مطابق آرام کرسکتے ہیں۔ آپ کا عذر معقول ہے اور اگر بعد نماز عصر نیند کا غلبہ ہو تو آپ اپنے نفس پر بار نہ ڈالیں، آرام لے سکتے ہیں لیکن مغرب کی نماز باجماعت ترک نہ کریں۔

تین طلاق اور شوہر کی جانب سے دیئے گئے تحفہ جات
سوال : زید اور ہندہ کی تقریباً دیڑھ سال قبل شادی ہوئی ، زید کی طلاق شدہ بہن کی وجہ سے اختلافات شروع ہوئے، نوبت ہاتھا پائی تک آگئی ، بہن نے ہندہ پر حملہ کیا، ہندہ والدین کے گھر آگئی ، ایک مہینہ بعد ہندہ کو اس کے سسرال کو سمجھا بجھاکر بھیج دیا گیا ، لیکن اختلافات بڑھتے گئے۔ چند روز قبل زید نے طیش میں آکر ہندہ کو تین بار طلاق، طلاق طلاق (فون پر) کہہ دیا، دوسرے دن زید نے ندامت کا اظہار کیا ۔ کیا یہ طلاق واقع ہوگئیں یا نہیں ؟

اگر طلاق ہوچکی ہے تو زید کی جانب سے ہندہ کو کیا کیا چیزیں واجب الادا ہیں؟ (1 زید اور ہندہ کے والدین نے ہندہ کو زر و زیور دیا تھا ، وہ کس کی ملکیت ہے ؟ (2 ہندہ کے والدین نے بستر ، پلنگ ، شوکیس ، ایرکولر وغیرہ جو دیا تھا وہ کس کی ملک ہے ؟ (3 شادی کے بعد زید نے ہندہ کو سیل فون اور اسکوٹی دلوائی اس پر کس کا حق ہے ؟ مہر کی ادائیگی کا کیا حکم ہے ؟ برائے کرم جواب سے نوازیںتو مشکور ہوں گے۔
نام مخفی

جواب : بشرط صحت سوال زید نے جس وقت غصہ میں اپنی زوجہ ’’ہندہ‘‘ کو فون پر تین طلاق دیا، اسی وقت ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر شوہر سے تعلق زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ اب وہ دونوں بغیر حلالہ آپس میں دوبارہ عقد بھی نہیں کرلے سکتے یعنی ہندہ کی عدت طلاق کے بعد وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور کسی وجہ سے بعد تعلق زن و شو دونوں میں طلاق ہوجائے یا خلع ہو یا شوہر انتقال کرجائے اور اس کی عدت ختم ہو تو پھر وہ زید اور ہندہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس کے بغیر نہیں۔ نیز زید نے ایک ہی وقت تین طلاق دیا ہے اس لئے وہ گنہگار ہوا۔

بوقت عقد ہندہ کو اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا گیا سامان جہیز ، زیورات و ملبوسات نیز دولہے کی طرف سے بطور چڑھاوا دیئے گئے زیورات و ملبوسات نیز جانبین کی جانب سے دیئے گئے تحفہ جات ہندہ کے حق میں ہبہ ہونے کی بناء ہندہ کی ملکیت ہیں۔ اسی طرح زید کو ہندہ کے والدین یا اس کے افراد خاندان کی جانب سے دیئے گئے تحفہ جات زید کے حق میں ہبہ ہونے کی بناء زید کی ملکیت ہیں۔ بعد طلاق ہندہ اپنی مملوکہ تمام اشیاء کی حقدار ہے۔ نیز زید نے بعد عقد ہندہ کو سیل فون اور اسکوٹی گاڑی بطور ملکیت دی ہے تو ایسی صورت میں ہندہ ہی بعد طلاق اس کی مالکہ رہیں گی اور زید پر ہندہ کا کامل مہر واجب الادا ہے ۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد سوم کتاب الطلاق ص : 449 میں ہے : (لا) ینکح (مطلقۃ) من نکاح صحیح نافذ کما منحققہ (بھا) ای بالثلاث (لوحرۃ و ثنتین لو امۃ حتی یطأھا غیرہ۔ عالمگیری جلد اول کتاب النکاح صفحہ 327 میں ہے : و اذا بعث الزوج الی اھل زوجۃ اشیاء عندزفافھا منھا دیباج فلما زفت الیہ اراد ان یسرد من المرأۃ الدیباج لیس لہ ذلک اذا بعث الیھا علی جھۃ التملیک اور ردالمحتار کتاب البیوع میں ہے : وھذا یوجد کثیرا بین الزوجین یبعث الیھا متاعاً و تبعث لہ ایضا و ھو فی الحقیقۃ ھبۃ حتی لوادعی الزوج العاریۃ رجع اور ردالمحتار باب المہر میں ہے ۔ وفی الصیرفیۃ الفتویٰ علی اعتبار عرف بلدھما … اور در مختار میں ہے : الا اذا جھل الاجل جھالۃ فیجیب حالا ۔ غایۃ، الالتا جیل الطلاق أو موت فیصح للعرف ۔ بزا زید۔

کسی دوسری لڑکی سے شادی نہ کرنے کی قسم کھانا
سوال : میری شادی سے قبل ایک لڑکی سے روابط و تعلقات تھے، اس نے قرآن اٹھاکر قسم کھانے کو کہا تھا کہ میں دوسری لڑکی سے شادی نہیں کرو ںگا ، میں نے اس کے کہنے پر قسم کھالیا۔ مگر حالات نے ہم دونوں کو علحدہ کردیا اور کبھی نہ ملے ۔ اس بات کو ہوئے چالیس برس ہوئے ، میں شادی شدہ ہوں لیکن مجھے وہ محبت نہ ملی جو شوہر کو اپنی بیوی سے نصیب ہوتی ہے اور ہم اولاد سے بھی محروم ہیں۔ خاندان والے بھی ہم دونوں کو نظر انداز کردیئے ہیں۔
نام مخفی

جواب : شرعاً آپ پر قسم کا کفارہ واجب ہے ۔ قسم کا کفارہ شریعت میں ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کھانا کھلانا یا صبح و شام یعنی پورے ایک دن کے کھانے کی قیمت دینا یا دس مسکینوں کو بدن ڈھکنے کے موافق متوسط لباس دینا ہے۔ اگر کوئی شخص ان تمام کفاروں سے عاجز ہو تو اس کو چاہئے کہ تین روز پے در پے روزہ رکھے ۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار کتاب الایمان میں ہے : (و کفارتہ تحریر رقبۃ أو اطعام عشرۃ مساکین) کما یثر فی الظھار (او کسوتھم بما) یصلح الاوساط و ینتفع بہ فوق تلاثۃ أشھر و (یستر عامۃ) البدن و ان عجز عنھا) کلھا (وقت الاداء صام تلاثۃ ایام ولاء …) پس آپ صدق دل سے توبہ کریں اور قسم کا کفارہ ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں ، وہی دلوں کو جوڑنے والا ہے، توبہ سے چھوٹے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اپنی غلطی پر نادم و پشیمان ہوں اور ندامت و افسردگی سے اللہ تعالیٰ کی رحمت و کرم کو صدق دل و چشم نم سے طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل عام ہے ، اس کی رحمت وسیع ہے۔

غیر مسلم خاتون کا پرسہ دینا
سوال : میت کے گھر پر پڑوس کی غیر مسلم خاتون آتی ہے اور مردے کے پاس بیٹھتی ہے اور تعزیت کرتی ہے ۔ کیا غیر مسلم عورتوں کو میت کے گھر میں داخل ہونے دیا جائے یا نہیں ؟
(2 شوہر زوجہ کے انتقال کے بعد قبل از دفن چہرہ دیکھنے کا استح قاق رکھتا ہے یا نہیں
قاری ایم ایس خان ، اکبر باغ
جواب : غیر مسلم خاتون پرسہ کے لئے مسلمان میت کے گھر آئے اور تعزیت کرے تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
(2 شوہر کا اپنی مرحومہ بیوی کا چھرہ دیکھنے میں شرعاً ممانعت نہیں۔

آیت کا ترجمہ
سوال : چند دن قبل کیو ٹی وی پر جناب تسلیم رضا صابری صاحب سورہ مریم کی تلاوت و ترجمہ میں آیت نمبر 23 کا ترجمہ … اورزندہ اٹھالیا جاؤنگا۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پڑھا ہے ۔ تفھیم القرآن میں عربی متن کے مطابق ’’مرنے کے بعد پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا، تحریر ہے۔ میں نے صحیح سنا ہے تو روشنی ڈالئے ۔
سید معین اللہ حسینی، گلبرگہ
جواب : آپ نے سورہ مریم آیت نمبر 23 ذکر کیا ہے ، جبکہ مذکورہ آیت کا سوال میں ذکر کردہ ترجمہ سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ آیت نمبر 33 میں اس قسم کے معنی ہیں۔ لہذا آیت نمبر 33 کا ترجمہ درج ذیل ہے۔
’’سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں وفات پاؤں گا اور جس دن میں ز ندہ اٹھایا جاؤں گا۔ عربی متن اور الفاظ کی مراعات کے ساتھ ترجمہ کیا گیا ہے ۔ بعض مفسرین الفاظ کی مراعات کے بغیر مرادی و با محاورہ ترجمہ کو ترجیح دیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT