Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / آگرہ میں مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

آگرہ میں مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

نئی دہلی ؍ آگرہ ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آگرہ میں تقریباً 100 افراد کو مبینہ جبر کے ساتھ دوبارہ ہندو بنانے کے واقعہ نے حکومت کے خلاف آج پارلیمنٹ کے اندرون اور بیرون ہر طرف سے تنقیدیں شروع کردیں جبکہ اس واقعہ کے پس پردہ آر ایس ایس کی تنظیم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس نے آج حکومت کے خلاف شدید احتجاج ک

نئی دہلی ؍ آگرہ ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آگرہ میں تقریباً 100 افراد کو مبینہ جبر کے ساتھ دوبارہ ہندو بنانے کے واقعہ نے حکومت کے خلاف آج پارلیمنٹ کے اندرون اور بیرون ہر طرف سے تنقیدیں شروع کردیں جبکہ اس واقعہ کے پس پردہ آر ایس ایس کی تنظیم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس نے آج حکومت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا کیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اسے غیرقانونی قرار دیا اور ’سخت‘ کارروائی کا مطالبہ کیا، مگر حکومت نے اس مسئلہ سے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی رول نہیں اور یہ کہ لا اینڈ آرڈر ریاستی موضوع ہے۔ اپوزیشن والوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی مداخلت کا تقاضہ بھی کیا۔ بی جے پی قائدین نے دعویٰ کیا کہ مکرر تبدیلی مذہب رضاکارانہ ہوا اور یہ کہ اس میں کوئی جبر نہیں کیا گیا۔ آگرہ میں صدر بازار پولیس نے کل رات دیر گئے دھرم جاگرن منچ اور اس کے یو پی کنوینر نندکشور کے خلاف ایف آئی آر درج رجسٹر کرتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کردی۔ پولیس نے ایک شخص جس کی شناحت اسمعیل کی حیثیت سے کی گئی جو دوبارہ تبدیلی مذہب کرنے والوں میں شامل ہے،

اس کی شکایت پر مقدمہ تعزیرات ہند کے سیکشن 153(A) (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور سیکشن 415 (دھوکہ بازی کے ذریعہ ) کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہیکہ منتظمین کی جانب سے وعدے کئے گئے جن میں ہندومت اختیار کرنے والوں کو بی پی ایل کارڈ کا حصول اور ہاؤزنگ پلاٹس کی فراہمی شامل ہے۔ راجیہ سبھا میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس کے ملحق بجرنگ دل نے آگرہ میں جبر اور لالچ کے ذریعہ بعض مسلم خاندانوں کو ہندو بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور یہ مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے کہ تمام کی زندگی، املاک اور مذہب کی حفاظت یقینی بنائی جائیں۔ جبری تبدیلیاں روکنا چاہئے، مایاوتی نے یہ مطالبہ کیا جبکہ کانگریس، بایاں بازو، ٹی ایم سی اور ایس پی کے ارکان نے ان کے احساسات سے اتفاق کیا اور ’’پردھان منتری جواب دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ آنند شرما (کانگریس) نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلہ پر وضاحت کی ہدایت دینا چاہئے۔ مملکتی وزیر برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے برہم ارکان کو مطلع کیا کہ اس مسئلہ پر حکومت اترپردیش کی جانب سے ایف آئی آر درج کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی ریاستی حکومت کو کرنی ہوگی۔ لا اینڈ آرڈر ریاستی مسئلہ ہے اور ریاستی حکومت کو اس سے نمٹنا ہے۔ مرکز کا اس میں کوئی رول نہیں۔ تبدیلی مذہب کے مسئلہ کی گونج لوک سبھا میں بھی سنائی دی۔ سلطان احمد (ٹی ایم سی) نے آج صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی جبری تبدیلی مذہب کا مسئلہ اٹھایا اور ایک اخبار لہراتے ہوئے دریافت کیا کہ آگرہ میں کیا ہوا ہے۔ تاہم اسپیکر سمترا مہاجن نے مطلع کیا کہ ان کی تحریک التواء نامنظور کردی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر سی پی آئی کے ڈی راجہ نے الزام عائد کیا کہ ہر کسی پر ہندوتوا ایجنڈہ مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سی پی آئی (ایم) لیڈر سیتارام یچوری نے کہا کہ یہ بدترین ووٹ بینک سیاست ہے جو آر ایس ایس اور بی جے پی چلا رہے ہیں جبکہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر ویرپا موئیلی نے اسے ’’مخالف قوم‘‘ قرار دیا ہے۔ بی جے پی لیڈر ونئے کٹیار نے کہا کہ تبدیلی مذہب کے شرکاء سے ماقبل مرضی معلوم کرلی گئی تھی۔ یو پی میں معتمد داخلہ کمل شکسینہ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس واقعہ کا سنگین نوٹ لیا ہے اور متعلقہ ضلع پولیس سربراہوں کو ہدایات ارسال کردی گئی ہیکہ اپنے انٹلیجنس یونٹس چوکس رکھیں اور ایسے واقعہ کے اعادہ کا تدارک کرے۔

TOPPOPULARRECENT