Friday , June 22 2018
Home / مضامین / آگے چل کر ہے دکھانا …محنت سے نہ گھبرانا

آگے چل کر ہے دکھانا …محنت سے نہ گھبرانا

محمد مصطفی علی سروری
اتوار کا دن تھا اور یہ اتوار سال 2017 ء کا آخری دن بھی ۔ امیت کمار اپنے آٹو میں سوار ہوکر صبح 6 بجے گھر سے نکل جاتا ہے ۔ دہلی کا یہ آٹو ڈرائیور ساکٹ میٹرو اسٹیشن سے مسافرین کو لیکر قریبی علاقوں میں سواری کرنے کا کام دن بھر کرتا رہا ۔ امیت کمار کی عمر بمشکل سترہ (17) برس کی ہوگی لیکن ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس کو آٹو چلاکر کمانا پڑتا ہے تاکہ گھر والوں کا ہاتھ بٹاسکے ۔ امیت کمار نے آٹو چلانے کے ساتھ ساتھ تعلیم سے اپنے رشتے کو نہیں توڑا ، وہ دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں 12 ویں جماعت کا طالب علم ہے۔ صرف آٹو چلانے سے امیت کی ضروریات پوری نہیں ہوتی تو کبھی وہ شادی خانہ میں ویٹر کا کام کرلیتا اور کبھی وہ سڑک کے کنارے عارضی دکان لگا لیتا اور جب کبھی اس سے بھی کام نہیں بنتا تو وہ دکانوں کے باہر سیکوریٹی گارڈ کا کام بھی کرلیتا ۔ ان سب کے ساتھ امیت نے اپنی پڑھائی کو بھی جاری رکھا ۔ دن میں پڑھائی کرلیتا تو رات میں کام پر چلا جاتا اور جب مجبور ہوجاتا تو اسکول کو ناغہ کر کے آٹو چلانے لگتا۔ امیت کمار نے کام بدلا نوکریاں چھوڑی لیکن تعلیم کے سلسلے کو ترک نہیں کیا ۔ ڈسمبر 2017 ء کے آخری اتوار کو آٹو چلانے کے بعد امیت نے اب اپنے سالانہ امتحانات مکمل ہونے تک چھٹی لینے کا فیصلہ کیا تاکہ پڑھائی پر توجہ دے سکے۔ امیت کے لئے دو مہینے کام نہ کرنے کا فیصلہ بڑا مشکل تھا کیونکہ امیت کے دو ماہ تک کام نہ کرنے سے اس کے گھر والوں کے لئے بڑی پریشانی ہے ۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کے خصوصی سپلیمنٹ میں شائع شدہ امیت کے انٹرویو کے مطابق وہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ آگے چل کر اس کو آٹو چلانا نہ پڑے۔
یہ بھی ڈسمبر 2017 ء کی ہی بات ہے، جب دہلی کے سرکاری اسکول کے 12 ویں جماعت کے ہی طالب علم کریم نے اپنے ٹیچر کو ایک درخواست لکھ کر چھٹی مانگی اور کہا کہ وہ ان چھٹیوں کے دوران کام کر کے اس کے بورڈ ایگزام کی فیس جمع کرنا چاہتا ہے ۔ کریم کے ہندی ٹیچر نے کریم کے جذبہ اور شوق کو دیکھتے ہوئے کریم کی فیس خود ادا کردی اور کہا کہ اگر اس کے پاس پیسے آتے ہیں تو وہ واپس کرے۔ اب کریم اسکول کو ناغہ نہیں کرتا ہے لیکن شام میں وہ دہلی کے نگم وہار علاقہ میں کپڑے کی دکان میں کام کر کے مہینے بھرمیں 3 تا 4 ہزار کمالیتا ہے اور اپنی اس کمائی کو اپنے والد کے حوالے کردیتا ہے ۔ کریم کے والد اپنے دو بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہر ماہ 15 تا 17 ہزار کماکر اپنے اخراجات پورا کرتے ہیں ۔ کریم کے دو بڑے بھائیوں نے بھی آٹھویں اور نویں جماعت میں ناکامی کے بعد پڑھائی چھوڑدی ۔ کریم بھی نویں جماعت میں ایک مرتبہ فیل ہوگیا تھا اور اس کے گھر والے کہنے لگے کہ اب وہ آگے نہیں پڑھا سکتے لیکن کریم نے یقین دلایا کہ وہ پڑھے گا بھی اور کام بھی کرے گا ۔ اس طرح اب کریم 12 ویں جماعت میں آگیا ہے لیکن جنوری 2018 ء سے کریم نے کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پڑھائی پر اچھی توجہ دیکر 12 ویں کا بورڈ امتحان اچھے نمبرات سے پاس کرسکے۔ کریم نے ہندوستان ٹائمز کو بتلایا کہ وہ کام نہیں کر رہا ہے تو ٹیوشن کیلئے بھی اس کے پاس پیسے نہیں ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ کام کرنے لگے تو پڑھائی کیلئے اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوگا۔ کریم نے اخبار کو بتلایا کہ وہ آگے چل کر کالج میں پولیٹیکل سائنس پڑھنا چاہتا ہے اور اس نے مزید کہا کہ اسے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ اگر وہ کالج میں پڑھنا چاہتا ہے تو اس کو اپنی پڑھائی کا خرچہ کام کرتے ہوئے خود جمع کرنا ہوگا ۔ کریم پڑھ کر ایک ٹیچر بننا چاہتا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ ٹیچر بننے کیلئے B.Ed کا کورس کرنا ہوتا ہے ۔ کریم آگے پڑھنے اور ترقی کرنے کیلئے ہر کام کرنے تیار ہے ۔
اخبار ہندوستان ٹائمز نے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے ایک اور طالب علم شترپال سنگھ کی کہانی کو بھی اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ہے جس کے مطابق شترپال سنگھ بھی ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جہاں پر اس کیلئے کام کرنا بیحد ضروری تھا اوراس کو پڑھائی میں بھی بڑی دلچسپی تھی اس لئے اس نے رات میں سیکوریٹی گارڈ کی نوکری شروع کردی۔ رات بھر نوکری کرتا اور صبح گھر آکر سوجاتا ۔ شترپال سنگھ ایسے سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے جو دوپہر میں شروع ہوتا تھا ۔ شترپال کی دن رات کی محنت یونہی چلتی رہی لیکن ایک دن ششماہی امتحان تھا اور شترپال رات کی ڈیوٹی کر کے گھر واپس آیا تو ایسا سوگیا کہ امتحان کیلئے وقت پر نیند سے بیدار نہیں ہوسکا ۔ یوں اس کا ایک امتحان ضائع ہوگیا لیکن شترپال نے ہمت نہیں ہاری ، اس نے اخبار کو بتلایا کہ دہلی یونیورسٹی سے ڈگری کورس کرنے کے اپنے فیصلہ پر وہ اٹل ہے ۔ اس کے مطابق پیسے کمانے کی ضرورت کی وجہ سے اگر وہ ریگولر کالج نہیں جاسکا تو Distance فاصلاتی طرز پر سہی وہ ضرور ڈگری کا کورس پڑھے گا۔

یہ تو اُن لوگوں کی سچی کہانیاں ہے جو غربت کے باعث پہلے تو اپنے بچوں کو صرف سرکاری اسکولس میں پڑھاسکتے ہیں ۔ دوم ان غریب بچوں نے اپنی تعلیم کے اخراجات کو اپنے والدین پر بوجھ بننے نہیں دیا اور اسکول کے ساتھ ساتھ کام کاج کے سلسلے کو بھی جاری رکھا۔
اب ہمارے سماج کا ذرا یہ واقعہ بھی پڑھ لیجئے ۔ ایک ماں بڑے فخر سے اپنے 3 برس کے بچے کی تعریف کہوں یا تعارف ، یوں پیش کرتی ہے کہ صرف ایک سال کی عمر میں میرا لڑکا فون کو کھولنا اور بند کرنا سیکھ لیا۔ دو سال کی عمر میں اس کو Youtube پر کارٹون سرچ کرنا آگیا اور جب 3 سال کی عمر میں بچے کو اسکول میں پلے گروپ / نرسری میں شریک کروایا گیا تو بچے کی اسکول جانے کیلئے ایک ہی شرط تھی کہ اس کو موبائیل فون ساتھ لیجانے کی اجازت دی جائے ۔
شہر کے ایک بڑے اسکول کا انتظامیہ پریشان ہے اور صرف یہ ایک ہی اسکول نہیں بلکہ کئی اسکولس کے ذمہ داروں کی یہی شکایت ہے کہ انہیں اسکول میں آئے دن تلاشی مہم چلانی پڑتی ہے تاکہ بچوں کو کلاس روم میں موبائیل فون استعمال کرنے سے روکا جاسکے ۔ شہر کے ایک ہائی اسکول کے ٹیچر کے مطابق اسکول کے بچے نہ صرف اسکول میں اپنے موبائیل فون چھپا کر لارہے ہیں بلکہ معائینے کے دوران ان بچوں کے فونس سے نہایت قابل اعتراض فوٹوز اور ویڈیوز برآمد ہورہے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں اور یہ کس کے بچے ہیں تو جان لیجئے یہ کوئی اور نہیں ہمارے ہی سماج اور ہمارے معاشرے کے وہ بچے ہیں جن کے والدین کی ایک ہی خواہش کی کہ کس طرح بھی ہو بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے اور اس تعلیم کیلئے ماں باپ ہر طرح کے پاپڑ بیل رہے ہیں، تکالیف جھیل رہے ہیں۔ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بچوں میں محنت کو معیوب سمجھنے کا رجحان عام ہوگیا ہے ۔ بچے ماں باپ کو اور خاص طور پر باپ کو پیسے کمانے کی مشین سمجھنے لگے ہیں اور پیسہ کمانے کیلئے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے ، اس کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہے ۔ ان کے ہاں نوکری کا مطلب شاندار تنخواہ سے ہی شروع ہوتا ہے اور یہ لوگ حالانکہ اپنے سر کے بال بھی کٹوانے کیلئے بھی اپنے والدین سے پیسے لیتے ہیں مگر ہزار روپئے کمانا عیب سمجھنے لگے ہیں، ان کو اسکیمات ، آفرز اور خفیہ راستوں کی تلاش ہے جس پر چل کر وہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسے کماسکتے ہیں۔

جس طرح دین اسلام سے واقف کروانے بچوں کو گرما میں دینی کیمپس اور جزوقتی مدارس میں بھیجنے کا رواج چل پڑا ہے ویسے ہی ضرورت ہے کہ تعطیلات کے دوران بچوں کو کام کر کے کم سے کم اپنے جیب خرچ کے پیسے جمع کرنے کی ترغیب دلائی جائے۔
ہم نے بچوںکو صرف کھانا کھلادیا ان کے دوستوں نے انہیں سگریٹ نوشی سے لیکر Gym جانا تک بتلادیا ، ہر طرح سے ہمارے بچے صرف خرچ کرنا سیکھ رہے ہیں ۔ کمانے کا کوئی طریقہ انہیں نہیں معلوم لیکن Latest Hair Cutting اسٹائیل سے وہ واقف ہیں۔ موبائیل فون کی کونسی کمپنی زیادہ ڈاٹا اور مفت کالنگ کی سہولت دے رہی ہے ، ان کو معلوم ہے، صرف والدین ہی نہیں سماج کا ہر فرد اس مسئلہ کیلئے ذمہ دار ہے ۔ حمید بھائی (اصل نام مخفی) کا لڑکا بڑا محنتی ہے ، پچھلے برس اس نے کل ہند صنعتی نمائش کے ایک اسٹال میں سلیزمین کے طور پر کام کیا اور تقریباً دس ہزار روپئے کمائے۔ حمید بھائی تو بڑے خوش تھے کہ ان کا لڑکا 30 تا 40 دن کام کر کے پیسے کمائے ہیں لیکن حمید بھائی کے اڑوس پڑوس جب جان گئے کہ ان کا لڑکا نمائش میں کام کرنے گیا تھا تو اس کا ایسا ذکر کرنے لگے جیسے کہ ان کے لڑ کے نے نمائش میں کام کر کے کوئی بہت بڑا غلط کام کیا ہے۔ حمید بھائی نے بڑے ہی افسوس کے ساتھ بتلایا کہ ہماری قوم نمائش جاکر تفریح ، خریداری اور کھانے کھلانے پر لاکھوں خرچ کرتی ہے اور دوسروں کیلئے کاروبار کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور کوئی نوجوان محنت کر کے اس نمائش سے اگر کچھ کما رہا ہے تو اس پر طنز کسے جاتے ہیں یا اس کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔ حمید بھائی نے کہا کہ وہ خوشی سے نہیں بلکہ تکلیف کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک لڑکا انجنیئرنگ کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں تھا لیکن اس کے پاس نئی گاڑی Latest موبائیل فون اور ہر روز نئے نئے فیشن کے کپڑے تھے پھرایک رات پولیس نے اس پڑوس کے لڑکے کو اٹھالیا۔ اگلے دن اخبارات سے پتہ چلا کہ انجنیئرنگ پاس کرنے کے بعد اپنے غلط شوق کو پورا کرنے کیلئے انجنیئر لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر لوگوں کے موبائیل فون چوری کرنے لگا تھا ۔
حمید بھائی خودایک دکان چلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں خاص کر نوجوانوں کو محنت کی طرف راغب کرنے اب مساجد کے منبروں سے آواز لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ محنت عیب نہیں اور جو قوم محنت کو عیب سمجھنے لگے اس سے برا کوئی المیہ نہیں۔ قوم کو اس نقصان سے بچانے اس منبر سے آواز آنی چاہئے جو ساری انسانیت کو دوزخ کی آگ سے بچانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کیلئے محنت کو آسان کردے اور محنت کرنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے والا بنادے۔ آمین ثم آمین۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT