Tuesday , July 17 2018
Home / شہر کی خبریں / آ18 آئی پی ایس عہدیداروں نے پراپرٹی ریٹرنس داخل نہیں کئے

آ18 آئی پی ایس عہدیداروں نے پراپرٹی ریٹرنس داخل نہیں کئے

تلنگانہ کے 7 اور آندھرا کے 11 عہدیدار شامل ۔ ترقی روک دینے کی مرکز کی ہدایت
حیدرآباد۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 18 آئی پی ایس عہدیداروں نے مرکزی وزارتِ داخلہ کو اپنے پراپرٹی ریٹرنسداخل نہیں کئے جس پر مرکز نے وجہ نمائی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کو ترقی بھی نہ دینے کی ہدایت دی۔ ملک بھر میں 515 آئی پی ایس عہدیداروں نے سال 2017ء کیلئے اپنے پراپرٹی ریٹرنس داخل نہیں کئے جس پر مرکزی وزارت داخلہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ 31 مارچ 2017ء تک ریاست تلنگانہ کے 7 آئی پی ایس عہدیدار جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر آر ایس پراوین کمار، ڈی آئی جیز جی سدھیر بابو، پی پرامود کمار، شاہنواز قاسم (سی ای او تلنگانہ وقف بورڈ)، ایس پیز پی وشوا پرساد، آر رما راجیشوری اور اسسٹنٹ کمشنر پولیس سلطان بازار، مہیلا بتولہ چیتنہ شامل ہیں۔ اسی طرح آندھرا پردیش سے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس انجنا سنہا، پی وی سنیل کمار، انسپکٹر جنرل پولیس اے روی شنکر، این بالا سبرامنیم، اے سندر کمار داس، کے وینکٹیشور راؤ۔ ڈی آئی جیز میں کے وی وی گوپال راؤ، اے ایس خان، ششی کمار، ڈی آر ورون اور سُمیت شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کے مطابق ملک کے تمام آئی پی ایس عہدیداروں کو ہر سال 31 مارچ تک پراپرٹی ریٹرنس داخل کرنا ضروری ہے جس میں بینک کھاتوں کی تفصیلات، فکسڈ ڈپازٹس، ایل آئی سی اسکیمس، جیویلری، موٹر گاڑیاں، مکانات اور دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔ مذکورہ آئی پی ایس عہدیداروں کی جانب سے تفصیلات داخل نہ کرنے پر ان کو ترقی نہ دینے ویجیلنس کلیئرنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ملک کی تمام ریاستوں کو احکامات جاری کئے گئے ہیں اور احکام کی پابندی نہ کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال تفصیلات فراہم نہ کرنے والے عہدیداروں کے ناموں میں سابق ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خان اور آندھرا پردیش کے سابق ڈی جی پی این سامبا شیوا راؤ کے بھی شامل ہونے کی اطلاع ہے۔

TOPPOPULARRECENT