Friday , January 19 2018
Home / مضامین / ؤ2018 مودی حکومت کیلئے مشکل مالی سال

ؤ2018 مودی حکومت کیلئے مشکل مالی سال

دنیش اُنی کرشنن

معاشی سست روی کے متواتر سلسلے کے درمیان آخرکار بنیادی سطح پر بعض مثبت اشارے دیکھنے میں آئے ہیں۔ آٹھ کلیدی شعبوں میں 13 ماہ کی اونچی شرح ترقی نومبر میں 6.8 فیصد درج ہوئی ، جو اکٹوبر کی شرح 4.7 فیصد سے تیزتر اور نومبر 2016کی شرح 3.2 فیصد سے بڑھ کر ہے۔ یہ آٹھ کلیدی صنعتیں اشاریہ صنعتی پیداوار (آئی آئی پی) میں شامل جملہ ایٹمس کے لگ بھگ 38 فیصد پر مشتمل ہیں۔ لہٰذا، کلیدی شعبے میں بہتری والے اعداد و شمار آئی آئی پی (انڈکس آف انڈسٹریل پروڈکشن) کی اگلی اشاعت میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔ کیوں اس مرتبہ اعداد و شمار میں اچھال آیا ہے؟ ایک بڑی وجہ اساسی اثر ہے۔ گزشتہ سال کی کمتر اساس کے باعث رواں سال اسی مدت میں اعداد و شمار اونچی شرح ترقی ظاہر کریں گے۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ پی ایم آئی (پرچیزنگ منیجرز اِنڈکس) بھی پانچ سال کی تیزترین شرح پر ڈسمبر میں ریکارڈ ہوئی، جس کا سبب پیداوار میں اضافہ اور نئے آرڈرس ہیں۔
جیسا کہ ریٹنگ ایجنسی Icra نے نشاندہی کی ہے ، کلیدی شعبے میں ترقی چونکہ اعداد وشمار والا اثر ہے، اس لئے ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سازگار اساسی اثر کے نتیجے میں نومبر 2017 میں سیمنٹ اور اسٹیل کی پیداوار کی شرح ترقی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مالی سال 2017 کی اس مدت میں اسٹیل کی پیداوار میں اونچی شرح ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ ابھی غیرواضح ہے کہ آیا نومبر 2017 میں درج دو ہندسی وسعت آنے والی مدت میں برقرار رہے گی۔ تاہم، سیمنٹ کی پیداوار میں بڑھوتری مالی سال 2018 کی پہلی نصف مدت میں کمی کے مقابل دوسری نصف مدت میں قابل لحاظ بہتری کے ساتھ ریکارڈ ہونے کی توقع ہے۔ بہرحال، یہ بھی احیاء کے ابتدائی اشاروں کی امیدیں ہیں، جو گاڑیوں کی فروخت میں بہتری کے ساتھ بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔
منطقی اعتبار سے اگر کلیدی شعبے کی شرح ترقی میں اضافہ برقرار رہتا ہے تو یہ معیشت کیلئے اچھی بات ہوگی۔ ’اِکرا‘ کے مطابق نومبر 2017 میں منظم شعبوں میں صنعتی پیداوار کے معاملے میں ابتدائی آثار مثبت اشارے فراہم کرتے ہیں، جیسے کلیدی شعبے کی شرح ترقی میں اضافہ اور آٹوموبائل پروڈکشن کی وسعت اور نان آئیل مرکنڈائز اکسپورٹس میں نمایاں بہتری۔ ایجنسی کو آئی آئی پی کی شرح ترقی اچھل کر نومبر 2017 کی اطمینان بخش 5-6 فیصد تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ مزید یہ کہ سازگار اساسی اثر جو نوٹ بندی کے بعد معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے سبب رونما ہوا، اس سے مالی سال 2018 کی بقیہ مدت میں کئی شعبوں میں بہ اعتبار حجم ترقی میں اضافے کا امکان ہے۔
جی ڈی پی کی شرح ترقی میں متواتر سہ ماہی مدتوں میں سست روی نے جس کے بعد جولائی۔ سپٹمبر میں 60bps کا اچھال آیا، نریندر مودی حکومت کیلئے شرح ترقی کے معاملے میں چیلنج پیدا کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس کو بڑے پیمانے پر اجاگر کرتے ہوئے حکومت کی معاشی بدانتظامی کو نشانہ بنایا ہے۔ شرح ترقی میں بحالی کلیدی عنصر ہے جبکہ حکومت کو عنقریب مزید ریاستی انتخابات اور پھر 2019 ء کے جنرل الیکشن کا سامنا کرنا ہے۔ مودی حکومت کے ساڑھے تین سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک معاشی بحالی کے کوئی ٹھوس اشارے نہیں ہیں۔ اب تک کے مختلف وسیع احاطہ والے معاشی اعداد و شمار (صنعتی پیداوار، گاڑیوں کی فروخت، صارف کے بھروسہ سے متعلق سروے) سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بحالی ہنوز نمایاں طور پر نہیں ہوئی ہے۔
یہ بات طے ہے کہ بعض نقادوں کی عمومی رائے برخلاف معاشی سست روی لازمی طور پر محض جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے سبب نہیں ہوئی، بلکہ اس کی شروعات کئی سہ ماہی مدتوں قبل ہوچکی تھی جب عالمی اور دیسی عوامل ہندوستانی معیشت میں طلب کو متاثر کررہے تھے۔ ہوا یوں کہ طلب میں گراوٹ کی صورتحال میں مزید ابتری یکایک نوٹ بندی کے اقدام نے لائی جس سے اواخر 2016 میں ایک جھٹکے میں 86 فیصد زیرگشت کرنسی منظر سے غائب ہوگئی۔ اس کا اثر آنے والی سہ ماہی مدتوں میں دیکھنے میں آیا ، خاص طور پر غیرمنظم معیشت کو زیادہ نقصان کا سبب ہوا، بڑے صارفین متاثر ہوگئے اور افرادی قوت کے آجر کا معاشی موقف بھی متزلزل ہوگیا۔ یہ گوشہ ہندوستان کے سرکاری جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد حصہ پر مشتمل ہے اور ہندوستان کی افرادی قوت کے زائد از 90 فیصد حصہ کو روزگار فراہم کرتاہے۔ یہی وہ گوشہ ہے جہاں نقدی تمام تر سرگرمی کو برقرار رکھنے میں بڑا رول ادا کرتی ہے۔ جب مابعد نوٹ بندی، نئی کرنسی متعارف کرنے کے عمل میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی، نقدی کی قلت کا سب سے بڑا شکار یہی گوشہ رہا۔
کیا مودی اِس سال معیشت کے محاذ پر کچھ اچھا کرپائیں گے؟ حکومت نے 9 لاکھ کروڑ روپئے کے زبردست معاشی راحت کاری پیاکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں سے 2.11 لاکھ کروڑ روپئے بینکنگ سیکٹر کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ سرکاری اداروں کو خانگیانے کے کئی جارحانہ منصوبے تیار ہیں جن میں ایئر انڈیا شامل ہے۔ اس طرح کے اقدامات مجموعی طور پر معیشت میں اچھال لاسکتے ہیں۔ لیکن فوری طور پر وصولیات کے محاذ پر چیلنجس پائے جاتے ہیں۔ جی ایس ٹی کلکشن جولائی میں نیا ٹیکس سسٹم لاگو کئے جانے کے بعد سے ہر ماہ بتدریج گھٹتا جارہا ہے۔
نومبر میں جی ایس ٹی کلکشن 80,808 کروڑ روپئے رہا، جو اکٹوبر میں 83,346 کروڑ، سپٹمبر میں 92,150 کروڑ، اگست میں 90,669 کروڑ اور جولائی میں 94,063 کروڑ روپئے ریکارڈ ہوا تھا۔ حکومت کو جی ایس ٹی اور آر بی آئی ڈیویڈنڈ سے توقع سے کمتر وصولیات کی وجہ سے اِس سال بجٹ کو قطعیت دینے میں بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ آمدنی میں گراوٹ اور دوسری طرف مصارف کا دباؤ (بالخصوص خانگی سرمایہ کاری میں بحالی نہ ہونے کے باعث) حکومت دِقت طلب صورتحال میں پھنسی ہے۔ مسئلہ اس لئے ابتر ہوجاتا ہے کیونکہ اس حکومت نے بار بار وعدہ کیا ہے کہ 3.2 فیصد مالی خسارہ کے نشانہ کو اس سال نہیں بگاڑیں گے۔
قصہ مختصر یہ کہ بنیادی سطح پر چند ابتدائی حوصلہ افزاء اشارے ضرور ملے ہیں، جیسا کہ نومبر کے کلیدی شعبوں، مینوفیکچرنگ پی ایم آئی سے ظاہر ہوتاہے۔ لیکن مجموعی طور پر سال 2018ء مودی حکومت کیلئے معاشی محاذ پر مشکل سال ثابت ہونے کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT