Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ائمہ مساجد و مؤذنین کو حقیر رقم کی تجویز پر شدید تنقید

ائمہ مساجد و مؤذنین کو حقیر رقم کی تجویز پر شدید تنقید

مرکزی حکومت کی تجویز پہلے ہی مسترد ، حافظ پیر شبیر احمد کا ردعمل

مرکزی حکومت کی تجویز پہلے ہی مسترد ، حافظ پیر شبیر احمد کا ردعمل
حیدرآباد۔/5جولائی، ( سیاست نیوز) دینی مدارس اور مسلم تنظیموں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے ائمہ مساجد اور موذنین کو ماہانہ ایک ہزار روپئے تنخواہ کی ادائیگی کی تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک کے نامور تعلیمی اداروں نے پہلے ہی اس طرح کی تجویز کی کھل کر مخالفت کی ہے جس کے بعد مرکزی حکومت اور بعض دیگر ریاستی حکومتوں نے اس طرح کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش حافظ پیر شبیر احمد نے اس تجویز پر شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اسے مساجد کے اُمور میں حکومت کی مداخلت سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ مساجد اور دینی مدارس کے معاملات میں حکومت کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے یہ اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے کسی بھی اعلان سے قبل علماء، مشائخین اور دینی مدارس کے ذمہ داروں سے مشاورت کرنی چاہیئے تھی۔ تلنگانہ حکومت نے اکابرین ملت سے مشاورت کے بغیر مساجد کے اُمور میں مداخلت کا جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی بدبختانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے حکومتوںکو اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیتہ علمائے ہند، دارالعلوم دیوبند اور ہندوستان کے دیگر نامور دینی اداروں اور علماء نے بلالحاظ مسلک حکومت کی اس تجویز کی سابق میں مخالفت کی تھی۔ مرکز کی جانب سے ائمہ مساجد کو تنخواہوں کی ادائیگی کی تجویز تھی جسے علماء کی مخالفت پر روک دیا گیا۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیئے تھی کہ کس مد سے مساجد کے ائمہ اور موذنین کو تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ سرکاری خزانہ میں انڈومنٹ اور ایکسائیز کی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے اور سود کی رقم بھی سرکاری خزانہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یہ رقم کس طرح ائمہ مساجد اور موذنین کو دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی سے بھی ائمہ اور موذنین کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکتیں کیونکہ اوقافی اداروں کی آمدنی منشائے وقف کے مطابق خرچ کرنے کیلئے وقف بورڈ پابند ہے۔ کسی بھی اوقافی ادارہ کی آمدنی کو حکومت اور وقف بورڈ من مانی طور پر خرچ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلہ پر عمل آوری کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے فوری طور پر فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرے۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ حکومت کو اگر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا اتنا ہی خیال ہے تو اسے 12فیصد تحفظات پر عمل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات پر عمل آوری کے ذریعہ مسلمانوں کی معاشی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ برخلاف اس کے ائمہ و موذنین کو ایک ، ایک ہزار روپئے کی معمولی رقم ادا کرنے کا اعلان صرف دکھاوا اور دل بہلانے کے سوا کچھ نہیں۔

TOPPOPULARRECENT