Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ وموذنین کو اعزازیہ ، حکومت کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

ائمہ وموذنین کو اعزازیہ ، حکومت کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

اندرون دو ماہ رمضان کی آمد ، 8 ماہ کا عرصہ بیت گیا ، درخواستوں کی جانچ بھی نا مکمل
حیدرآباد۔/24مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے گزشتہ رمضان المبارک کے موقع پر 10000 ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا لیکن 8ماہ گذرنے کے باوجود آج تک اسکیم پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا۔ اب جبکہ رمضان المبارک کے آغاز کو دو ماہ باقی ہیں ایسا  محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو شاید رمضان المبارک کے آغاز کا انتظار ہے تاکہ ایک سال بعد اس اسکیم پر عمل آوری کی جاسکے۔ اس اسکیم کے تحت ریاست بھر کے ائمہ و مؤذنین سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں لیکن آج تک ان درخواستوں کی جانچ کا کام مکمل نہیں ہوا۔ حکومت نے اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری وقف بورڈ کو دی ہے اور اس مقصد کیلئے 12کروڑ روپئے بھی جاری کئے گئے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ چاہتے تھے کہ رمضان المبارک کے موقع پر اس اسکیم کا آغاز ہو تاکہ ائمہ اور مؤذنین کو عید کے تحفہ کے طور پر اعزازیہ کی رقم ادا کی جاسکے۔ عہدیداروں نے ساری توجہ صرف مساجد میں افطار اور غریبوں میں کپڑوں کی تقسیم پر مرکوز کی لیکن ائمہ و مؤذنین کو بھلادیا گیا جس کے نتیجہ میں بتایا جاتا ہے کہ کئی درخواست گذار اب ان مساجد میں موجود نہیں ہیں جہاں سے انہوں نے درخواست داخل کی تھی۔ ریاست بھر سے 10ہزار ائمہ و مؤذنین کے نشانہ کے باوجود صرف 8934 درخواستیں داخل ہوئی ہیں جن میں ائمہ 4901 اور مؤذنین 4033 ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ آج تک ان درخواستوں کی جانچ کسی بھی ضلع میں حتیٰ کہ دارالحکومت حیدرآباد میں بھی مکمل نہیں ہوئی جبکہ مجموعی درخواستیں حیدرآباد میں 1498ہیں۔ اسکیم کے درخواست گذار اعزازیہ کی اجرائی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں ایک ہی جواب مل رہا ہے کہ درخواستوں کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔ حکومت کے دباؤ کے بعد وقف بورڈ میں تقریباً 20 ملازمین پر مشتمل تین ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ حیدرآباد کی درخواستوں کی جانچ کی جاسکے۔ ٹیم میں شامل افراد کو اس کام کیلئے روزانہ 200روپئے بطور پٹرول خرچ ادا کئے جارہے ہیں۔ وقف بورڈ کے سرکل کے اعتبار سے یہ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو متعلقہ وقف انسپکٹر کے تحت کام کررہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ویریفکیشن کیلئے متعین افراد میں اکثر کو اس کام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ مساجد پہنچ کر شخصی معائنہ کے بجائے درخواست گذاروں کو فون کرتے ہوئے حج ہاوز طلب کررہے ہیں۔ کئی ائمہ و مؤذنین نے اس بات کی شکایت کی کہ ان کی مساجد کو کوئی بھی شخص معائنہ کیلئے نہیں پہنچا لیکن انہیں حج ہاوز طلب کیا گیا۔ دوردراز سے ائمہ و مؤذنین کو حج ہاوز پہنچنے میں نہ صرف دشواری ہورہی ہے بلکہ انہیں سفر خرچ کے طور پر کم از کم 200روپئے خرچ ہورہے ہیں۔ اس بات کی شکایت ملی ہے کہ ویریفکیشن کیلئے متعین افراد دن بھر آرام کرتے ہوئے شام کے اوقات میں ایک دو مساجد جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک صرف 500 مساجد کا ویریفکیشن مکمل کیا گیا اس کام کیلئے متعین کئے گئے افراد پر کوئی نگرانی نہیں ہے جس کے باعث اس کام میں تاخیر ہورہی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ جب بھی جانچ مکمل ہوگی ائمہ و مؤذنین کو اعزازیہ کی ادائیگی گزشتہ سال جولائی سے کی جانی چاہیئے کیونکہ اسکیم کا آغاز جولائی سے ہوا تھا۔ شہر اور اضلاع میں ویریفکیشن کا کام مکمل نہ ہونے کے باعث مزید دو ماہ تک اسکیم کے آغاز کا امکان نظر نہیں آتا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو چاہیئے کہ وہ اس سلسلہ میں متعلقہ افراد کو نہ صرف پابند کریں بلکہ ویریفکیشن اسٹاف کی شکایات کا نوٹ لیں۔ انہیں چاہیئے کہ حیدرآباد اور اضلاع کیلئے درخواستوں کی جانچ کیلئے کسی تاریخ کا تعین کردیں اور مذکورہ تین ٹیموں پر ایک نگرانکار ٹیم تشکیل دی جائے۔ گزشتہ آٹھ ماہ سے ائمہ اور موذنین حکومت کے اعزازیہ کے انتظار میں ہیں اور وقف بورڈ کے حکام کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT